’دی کیرالہ اسٹوری-2‘ کو ریلیز سے ایک دن قبل ہائی کورٹ نے دیا جھٹکا، 15 دنوں کے لیے فلم کی ریلیز ملتوی

عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ فلم سے سماجی خیر سگالی نہ بگڑے، یہ پختہ کرنے کے لیے بنائی گئی گائیڈلائنس پر سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن نے عمل نہیں کیا۔

<div class="paragraphs"><p>کیرالہ ہائی کورٹ / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

’دی کیرالہ اسٹوری-2‘ سرخیوں میں ہے، لیکن ریلیز سے ایک دن قبل اسے عدالت نے شدید جھٹکا دیا ہے۔ کیرالہ ہائی کورٹ نے جمعرات کو اس فلم کی ریلیز پر عبوری روک لگا دی ہے۔ یہ روک فی الحال 15 دنوں کے لیے لگائی گئی ہے، یعنی کم از کم 15 دنوں کے لیے فلم کی ریلیز ملتوی ہو گئی ہے۔ کیرالہ ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ پہلی نظر میں ایسا لگتا ہے جیسے سنسر بورڈ نے فلم کو سرٹیفکیٹ دیتے ہوئے سوچ سمجھ کر کام نہیں لیا۔

جسٹس بیچو کورین تھامس نے فلم کی ریلیز کو چیلنج دینے والی 2 عرضیوں پر یہ حکم صادر کیا ہے۔ فلم 27 فروری کو ریلیز ہونے وای تھی۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ فلم سے سماجی خیر سگالی نہ بگڑے، یہ پختہ کرنے کے لیے بنائی گئی گائیڈلائنس پر سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن نے عمل نہیں کیا۔


ہائی کورٹ میں داخل عرضیوں میں ’دی کیرالہ اسٹوری-2‘ کے میکرس کو سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن (سی بی ایف سی) سے ملے سرٹیفکیشن کو چیلنج پیش کیا گیا تھا۔ ان عرضیوں میں دعویٰ کیا گیا کہ فلم میں کیرالہ کو غلط طریقے سے دکھایا گیا۔ اس سے نظامِ قانون بگڑ سکتا ہے۔ فلم کی ریلیز کو چیلنج دینے والی عرضیوں میں عرضی دہندگان نے کہا کہ فلم کا نام اور پرموشنل مواد دونوں ہی کیرالہ کو غلط طریقے سے پیش کرتے ہیں۔ ان میں ایسے مواد ہیں جو خیر سگالی بگاڑ سکتے ہیں اور نظامِ قانون کی حالت خراب ہو سکتی ہے۔ ایک عرضی میں فلم کے نام سے ’کیرالہ‘ ہٹانے کی ہدایت دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ویپل امت لال شاہ کے پروڈکشن میں بنی فلم ’دی کیرالہ اسٹوری-2‘ کو ٹریلر ریلیز کے بعد سے ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سخت رد عمل ملنے شروع ہو گئے تھے۔ فلم کے ایک منظر پر سوشل میڈیا صارفین نے سخت اعتراض ظاہر کیا تھا۔ اس میں جبراً ایک خاتون کو ممنوعہ گوشت کھلایا جاتا ہے۔ گزشتہ منگل کے روز کیرالہ ہائی کورٹ نے یہ فلم دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ فلم سازوں نے عدالت سے کہا کہ ’دی کیرالہ اسٹوری-2‘ نے سی بی ایف سی سے منظوری حاصل کر لی ہے۔ اس کے بعد عرضی دہندگان نے سی بی ایف سی کی طرف سے منظوری دیے جانے پر بھی سوال اٹھا دیے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔