ٹی-20 عالمی کپ: جنوبی افریقہ نے ویسٹ انڈیز کو 9 وکٹوں سے ہرا کر ہندوستان کا کام کیا آسان

ویسٹ انڈیز نے جنوبی افریقہ کے سامنے جیت کے لیے 177 رنوں کا ہدف رکھا تھا۔ اس ہدف کو جنوبی افریقہ نے 23 گیندیں باقی رہتے حاصل کر لیا۔ 9 وکٹ سے ویسٹ انڈیز کو ملی شکست نے ٹیم کا رَن ریٹ بھی خراب کر دیا۔

<div class="paragraphs"><p>کوئنٹن ڈیکاک اور ایڈن مارکرم، تصویر ’ایکس‘ @ICC</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

جنوبی افریقہ نے آج ’ٹی-20 عالمی کپ 2026‘ کے ایک اہم سپر-8 مقابلہ میں ویسٹ انڈیز کو 9 وکٹوں سے شکست فاش دے دی۔ جنوبی افریقہ کی اس بڑی جیت میں اس کے کپتان ایڈن مارکرم کی طوفانی اننگ کا اہم کردار رہا۔ کوئنٹن ڈیکاک اور ریان ریکلٹن نے بھی اس کام میں ان کا بھرپور تعاون کیا۔ جنوبی افریقہ نے ویسٹ انڈیز کو شکست دے کر سیمی فائنل میں پہنچنے کے اپنے ارادے کو تو پروان چڑھایا ہی ہے، ہندوستانی ٹیم کے لیے بھی آسانیاں میسر کر دی ہیں۔ جنوبی افریقہ کی جیت سے اب ہندوستان کے سیمی فائنل میں کھیلنے کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔

ویسٹ انڈیز نے جنوبی افریقہ کے سامنے جیت کے لیے 177 رنوں کا ہدف رکھا تھا۔ اس ہدف کو جنوبی افریقہ نے 23 گیندیں باقی رہتے حاصل کر لیا۔ 9 وکٹ سے ویسٹ انڈیز کو ملی شکست نے ٹیم کا رَن ریٹ بھی خراب کر دیا۔ اس میچ سے قبل ویسٹ انڈیز کا رَن ریٹ 5.35 تھا، جو شکست کے بعد 1.791 پر آ گیا۔ ویسٹ انڈیز کو 9 وکٹ سے ہرانے کے بعد جنوبی افریقہ اب سپر-8 کے ’گروپ-1‘ میں ٹاپ پوزیشن پر مضبوطی کے ساتھ کھڑی ہے۔ وہ ایک طرح سے سیمی فائنل میں پہنچ بھی چکی ہے، کیونکہ اس کے 4 پوائنٹس ہیں اور رَن ریٹ بھی اچھا ہے۔ ہندوستان کو سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے آج زمبابوے کے خلاف کھیلے جا رہے میچ میں جیت کے ساتھ ساتھ ویسٹ انڈیز کے ساتھ ہونے والے میچ میں جیت حاصل کرنی ہوگی۔


بہرحال، آج کے میچ میں ویسٹ انڈیز کی شروعات بہت خراب رہی تھی، کیونکہ اس کے 7 وکٹ تو 83 رن پر ہی گر چکے تھے۔ آٹھویں وکٹ کے لیے جیسن ہولڈر اور روماریو شیفرڈ کے درمیان 89 رنوں کی شاندار شراکت داری ہوئی، جس کی وجہ سے ٹیم 20 اوورس میں 8 وکٹ کے نقصان پر 176 رن تک پہنچ پائی۔ جیسن ہولڈر نے 31 گیندوں پر 49 رنوں کی بہترین اننگ کھیلی، جبکہ شیفرڈ نے 37 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 52 رن بنائے۔ جنوبی افریقہ کی طرف سے لنگی اینگیڈی نے سب سے زیادہ 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جبکہ 2-2 وکٹ کگیسو رباڈا اور کوربن بوش کو ملے۔

جنوبی افریقہ نے یہ ہدف انتہائی آسانی سے پورا کر لیا، کیونکہ سلامی بلے باز کوئنٹن ڈیکاک اور کپتان ایڈن مارکرم نے پہلے وکٹ کے لیے 8 اوورس میں 95 رنوں کی شراکت داری کر دی تھی۔ اس شراکت داری کی وجہ سے ویسٹ انڈیز کبھی بھی میچ میں اپنی گرفت بناتی ہوئی دکھائی نہیں دی۔ ڈیکاک 24 گیندوں پر 47 رن بنا کر روسٹن چیز کا شکار ہوئے۔ مارکرم 46 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 82 رن اور ریان ریکلٹن 28 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 45 رن بنا کر ٹیم کو جیت سے ہمکنار کیا۔ ویسٹ انڈیز کی گیندبازی کا حشر اتنا برا رہا کہ سب سے کم رَن ریٹ والے گیندباز ہالڈر رہے، جنھوں نے 9.78 کی شرح سے رَن دیے۔