
مظفرنگر میں منعقدہ کسان مہاپنچایت سے خطاب کرتے ہوئے راکیش ٹکیت نے کہا کہ گزشتہ 9 مہینے سے تحریک چل رہے ہے لیکن حکومت نے بات چیت کرنا بند کر دیا۔ سینکڑوں کسانوں نے جان گنوا دی لیکن ان کے لئے ایک منٹ بھی خاموشی اختیار نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد محض یوپی کو بچانا نہیں بلکہ پورے ملک کو بچانا ہوگا۔ ہر عوامی چیز کو جس طرح بیچا جا رہا ہے اس کی اجازت کس نے دی۔
دریں اثنا، راکیش ٹکیت نے مہاپنچایت سے قومی یکجہتی کا پیغام دیا اور بیک وقت اللہ اکبر اور ہر ہر مہادیو کے نعرے لگائے۔ انہوں نے کہا یہ لوگ باٹنے کا کام کر رہے ہیں، ہمیں انہیں روکنا ہوگا۔ پہلے اس ملک میں اللہ اکبر اور ہرہر مہادیو کے نعرے ایک ساتھ لگائے جاتے تھے، آگے بھی لگائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یوپی کی سرزمین دنگہ کرانے والوں کے سپرد نہیں کریں گے۔
بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان اور ملک بھر کے کسانوں کے آواز بن چکے راکیش ٹکیت نے کسان تحریک شروع ہونے کے بعد سے آج تقریباً 10 مہینے بعد اپنے آبائی ضلع یعنی کہ مظفرنگر میں قدم رکھا۔ وہ جی آئی سی میدان میں پہنچ چکے ہیں جہاں سنیوکت کسان مورچہ کی طرف سے طلب کی گئی کسان مہاپنچایت چل رہی ہے۔ راکیش ٹکیت کے ساتھ سوراج پارٹی کے لیڈر یوگیندر یادو اور دیگر لیڈران بھی نظر آ رہے ہیں۔
مظفر نگر کے جی آئی سی میدان پر کسانوں کی عظیم الشان مہا پنچایت جاری ہے۔ راکیش ٹکیت اسٹیج پر پہنچ چکے ہیں اور وہ کچھ ہی دیر میں بڑے جمِ ٖ غفیر سے خطاب کرنے جا رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ جی آئی سی میدان میں لاکھو کسان موجود ہیں اور اتنی ہی تعداد میں کسان میدان کے باہر بھی جمع ہیں۔ مظفرنگر کی سڑکوں پر اس وقت پیر رکھنے کی بھی جگہ نہیں ہے۔
کسان لیڈر راکیش ٹکیت مظفرنگر پہنچ چکے ہیں، جہاں کے جی آئی سی میدان پر ہو رہی کسان مہاپنچایت میں وہ شرکت کے لئے پہنچیں گے۔ ادھر جی آئی سی کے میدان پر ہزاروں کی تعداد میں کسان موجود ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔
مظفرنگر کے جی آئی سی میدان پر کسان مہا پنچایت کچھ ہی دیر میں شروع ہو جائے گی اور یہاں کسانوں کا سیلاب امنڈ پڑا ہے۔ 11 بجے شروع ہونے جا رہی اس مہا پنچایت میں کسان لیڈر راکیش ٹکیت کچھ ہی دیر میں پہنچنے والے ہیں۔ ٹکیت صبح غازی پور سے روانہ ہو چکے ہیں اور فی الحال راستہ میں ہیں۔
مظفرنگر مہاپنچایت میں پہنچنے سے پہلے راکیش ٹکیت نے کہا کہ جب سے کسان تحریک شروع ہوئی ہے وہ اپنے گھر نہیں گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسے آپ جو بھی سمجھیں لیکن جب تک قانون واپسی نہیں ہوگی تب تک گھر واپسی بھی نہیں ہوگی۔ جو لوگ آزادی کے لئے لڑے تھے انہیں کالا پانی کی سزا ہوئی اور وہ کبھی گھر نہیں جا سکے تھے۔ یہ بھی ایک طریقہ کا کالا قانون ہے لہذا وہ بھی قانون واپسی تک گھر کا رخ نہیں کریں گے۔
مغربی اتر پردیش کے مظفرنگر شہر میں آج کسانوں کی ایک مہا پنچایت ہونے جا رہی ہے۔ یہاں کے جی آئی سی میدان پر ہونے جا رہی یہ مہاپنچایت صبح 11 بجے شروع ہو جائے گی۔ مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے کسانوں کے ساتھ دہلی کی سرحدوں پر مدت طویل سے تحریک چلا رہے کسان بھی اس مہاپنچایت کا رخ کر رہے ہیں۔ سنیوکت کسان مورچہ کا دعویٰ ہے کہ یہ اب تک کی سب سے بڑی مہاپنچایت ہوگی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 05 Sep 2021, 9:35 AM IST