زرعی قوانین کے خلاف کسان تحریک سے پریشان مودی حکومت نے گنا کسانوں کو مائل کرنے کی کوشش کی ہے۔ کابینہ کے اجلاس کے بعد مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے بتایا کہ حکومت 60 لاکھ ٹن چینی برآمد کرے گی اور اس سے ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ 5 کروڑ کسانوں کے کھاتوں میں براہ راست طور پر منتقل کیا جائے گا۔
شیو سینا کے لیڈر سنجے راؤت نے کہا، ’’سرکار اگر چاہتی ہے تو کسانوں کے ساتھ بیٹھ کر آدھے گھنٹے میں یہ مسئلہ ختم کر سکتی ہے۔ وزیر اعظم خود مداخلت کریں گے تو یہ پانچ منٹ میں حل ہو جائے گا۔ مودی جی اتنے بڑے لیڈر ہیں ان کی بات سبھی منیں گے۔ آپ (پی ایم) خود بات کیجئے، دیکھئے کیا کرشمہ ہوتا ہے۔‘‘
سپریم کورٹ نے کسانوں کی تحریک کے خاتمے کے لئے ایک کمیٹی بنانے کے لئے کہا ہے۔ بھارتی کسان یونین اور دیگر کسان تنظیموں اور مرکزی حکومت کے نمائندے کمیٹی میں ہوں۔ مظاہرین کو ہٹانے کی درخواست پر مرکزی حکومت، پنجاب اور ہریانہ حکومتوں کو نوٹس جاری کیا ہے اور کل تک جواب طلب کیا۔
حکومت کی طرف سے زرعی قوانین منسوخ نہ کئے جانے سے ناراض کسانوں نے اپنی تحریک مزید تیز کر دی ہے۔ اس کے تحت مظاہرین کسانوں نے نوئیڈا-دہلی بارڈر کو بلاک کر دیا۔ اس سرحد کو کچھ روز قبل پولیس نے بحال کرا یا تھا لیکن ایک مرتبہ پھر یہاں کسانوں نے یہاں محاذ سنبال لیا ہے۔ نوئیڈا ٹریفک پولیس کی جانب سے ٹریفک کو منتقل کئے جانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 16 Dec 2020, 12:21 PM IST