آئی آئی ٹی بامبے خودکشی: راہل گاندھی نے ساحل کے اہل خانہ سے کی بات، انصاف کے لیے ہر ممکن مدد کا دیا بھروسہ

مہاراشٹر کانگریس کے مطابق راہل گاندھی نے ساحل کے گھر والوں سے فون پر بات چیت کے دوران انصاف کی جنگ میں حمایت اور ہر طرح کی مدد کا بھروسہ دلایا۔

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی، ویڈیو گریب</p></div>
i

آئی آئی ٹی بامبے کے طالب علم ساحل وکوڑے کی موت کا معاملہ اب سیاسی و انتظامی سطح پر بھی موضوع بحث ہے۔ مہاراشٹر کانگریس کے مطابق لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے ساحل کے اہل خانہ سے فون پر بات کی اور انصاف حاصل کرنے میں ہر ممکن مدد کا بھروسہ دیا۔ ساحل کے کنبہ نے آئی آئی ٹی بامبے انتظامیہ اور کچھ افسران پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں اور اس معاملے کی جانچ ممبئی پولیس کی کرائم برانچ کر رہی ہے۔ ساحل کے گھر والوں نے نامزد لوگوں کی گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

مہاراشٹر کانگریس کے مطابق راہل گاندھی نے ساحل کے گھر والوں سے فون پر بات چیت کے دوران انصاف کی جنگ میں حمایت دینے اور ہر طرح کی مدد کا بھروسہ دلایا۔ ساحل کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے نے موت سے کچھ دن قبل فون پر شکایت کی تھی کہ اس کے ساتھ ذات پر مبنی تفریق اور بے عزتی کی جا رہی ہے۔ گھر والوں نے اسی بنیاد پر آئی آئی ٹی بامبے کے کچھ افسران اور اساتذہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان الزامات کی جانچ ابھی جاری ہے۔


خبر رساں ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ نے بھی راہل گاندھی کی ساحل کے گھر والوں سے بات چیت پر مبنی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس نے ذرائع کے حوالہ سے بتایا کہ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے رویندر اور سونالی وکوڑے سے اُس وقت ویڈیو کال پر بات کی، جب وہ واشم ضلع سے ممبئی جا رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 17 منٹ کی اس بات چیت کے دوران راہل گاندھی نے ساحل کے والدین سے کہا کہ وہ ہر مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ جب راہل گاندھی نے ویڈیو کال کی، اُس وقت ساحل کے والدین کے پاس انڈین یوتھ کانگریس کے صدر اودے بھانو چب اور مہاراشٹر یونٹ کے صدر شیوراج مورے موجود تھے۔

واضح رہے کہ ساحل وکوڑے آئی آئی ٹی کے انرجی سائنس اینڈ انجینئرنگ کا طالب علم تھا۔ 18 ستمبر کو مڈ سیمسٹر امتحان تھا۔ میڈیا رپورٹ میں سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر کہا گیا ہے کہ امتحان ہال میں دوپہر 12.30 بجے سے 12.45 بجے کے درمیان وہ کئی بار اپنا فون استعمال کرتا ہوا پایا گیا۔ ساحل کی موت کے بعد آئی آئی ٹی بامبے کا جو پہلا بیان سامنے آیا تھا، اس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ساحل نے سوالات کے جوابات جاننے کے لیے سوالنامہ اے آئی پلیٹ فارم چیٹ جی پی ٹی پر اپلوڈ کیا تھا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس واقعہ کے بعد انسٹرکٹر اور اس کے فیکلٹی ایڈوائزر کے ساتھ ہی شعبہ کے سربراہ نے اس کی کاؤنسلنگ کی تھی کہ اس کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی جائے گی۔


سی سی ٹی وی کو بنیاد بنا کر سامنے آئی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واقعہ کے بعد ساحل امتحان کے کمرے سے نکل کر اپنے ہاسٹل کی طرف چلا گیا تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں مبینہ طور پر دکھائی دیا ہے کہ وہ تقریباً 1.25 بجے ہاسٹل نمبر 4 کی طرف جاتا ہوا دیکھا گیا۔ اسی دن کچھ دیر بعد وہ اپنے کمرے میں مردہ پایا گیا۔ اس کے کمرے سے کوئی خودکشی نوٹ برآمد نہیں ہوا ہے۔ امتحان کے کمرے میں موجود انویجیلیٹر اور دیگر پروفیسر کے ساتھ ساحل کی کیا بات چیت ہوئی، یہ واضح نہیں ہے۔ نہ ہی یہ واضح ہے کہ اسے دھمکایا گیا تھا یا نہیں، یا اس کے خلاف کسی کارروائی کی بات ہوئی تھی یا نہیں۔ پولیس نے ساحل کی موت کے معاملہ میں ابتدا میں حادثاتی موت کا معاملہ درج کیا تھا۔ لیکن 19 ستمبر کو ساحل کے والدین کی شکایت کے بعد بی این ایس کی دفعہ 108 (خودکشی کے لیے اکسانے) کے تحت معاملہ درج کیا گیا۔ ساتھ ہی اس میں ایس سی-ایس ٹی ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی گئیں۔