’ثبوتوں کا ہر نیا ٹکڑا راہل گاندھی کو درست ثابت کرتا ہے‘، الیکشن کمیشن سے متعلق تازہ انکشاف پر جئے رام رمیش کا تبصرہ

جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ اگر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار میں ذرا بھی شرافت اور اخلاقیات باقی ہے تو انھیں فوری طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

<div class="paragraphs"><p>جئے رام رمیش / آئی اے این ایس</p></div>
i

ابھی ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی 23 ستمبر کو شائع الیکشن کمیشن سے متعلق رپورٹ پر ہنگامہ رکا بھی نہیں ہے، اور 24 ستمبر کو مزید ایک سنسنی خیز رپورٹ سامنے آ گئی ہے۔ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گوا کے چیف الیکٹورل افسر نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو 7 دنوں میں 8 بار ای-میلز بھیجے، جس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کئی اہل ووٹرز حق رائے دہی کا استعمال نہیں کر سکے۔ اس معاملہ میں کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔

جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’’کل ایک سرکردہ قومی روزنامہ میں چیف الیکشن کمشنر کے اس حیران کن طرز عمل سے متعلق سنسنی خیز انکشافات کے بعد، جس میں انہوں نے الیکشن کمیشن کی دیانت داری، ساکھ اور صلاحیت کو پوری طرح تباہ کر دیا ہے، آج صبح مزید ایک رپورٹ سامنے آئی ہے۔‘‘ اس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ ’’گوا کے چیف الیکٹورل افسر (سی ای او) نے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کو صرف 7 دن میں 8 بار ای-میلز کیے کہ ’ای سی آئی نیٹ‘ سافٹ ویئر کے ذریعہ حذف کردہ درست ووٹرز کے نام دوبارہ شامل کیے جائیں۔ گوا کے الیکٹورل رجسٹریشن افسران (ای آر اوز) نے تصدیق کی تھی کہ یہ درست ووٹرز ہیں۔ لیکن ان ای-میلز کو نظر انداز کر دیا گیا اور ووٹرز کے نام حذف کر دیے گئے۔‘‘


سوشل میڈیا پوسٹ میں جئے رام رمیش آگے لکھتے ہیں کہ ’’پورا خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) ای سی آئی نیٹ سافٹ ویئر کے حوالہ کر دیا گیا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایس آئی آر کا تیسرا مرحلہ تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ اس مرحلہ میں دہلی کے 54 فیصد ووٹرز اور تمام ریاستوں میں تقریباً 12 کروڑ ووٹرز کے نام حذف کر دیے گئے ہیں، یا ان پر نشان لگا دیا گیا ہے۔‘‘ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’اختیارات کو مرکزی حکومت کے سپرد کرنے والے اقدام کے تحت ای آر اوز کی ای سی آئی نیٹ سافٹ ویئر تک رسائی محدود کر دی گئی، جو کہ غیر قانونی ہے۔ عوامی نمائندگی ایکٹ، 1950 کے مطابق الیکٹورل لسٹ کے سلسلہ میں قانونی اختیارات ای آر او کے پاس ہیں۔ 2 الیکشن کمشنرز نے اس خلاف ورزی کی نشاندہی کرتے ہوئے کابینہ سکریٹری کو خط بھی لکھا۔‘‘

جئے رام رمیش نے ’فارم 6‘ سے جڑا ایک معاملہ بھی اٹھایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’مزید ایک غیر قانونی قدم کے تحت فارم 6 کے ذریعہ نئے ووٹرز کے نام شامل کرنے کے عمل کو انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے۔ جین-زی کو ووٹر لسٹ سے باہر رکھنے کے لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘‘ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’ثبوتوں کا ہر نیا ٹکڑا اس بات کی مزید تصدیق کرتا ہے جو لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی تقریباً 2 سالوں سے کہتے آ رہے ہیں۔ ہریانہ اور مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے نتائج برآمد ہونے کے بعد سے وہ اس معاملہ میں آواز اٹھا رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے الزام عائد کیا کہ انتخابی عمل کو پوری طرح متاثر اور آلودہ کر دیا گیا ہے۔ یہ گیانیش کمار کی جانب سے ’ہندوستانیوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کا طریقہ‘ (میتھڈ آف ڈس-انفرانچائزنگ انڈینز– مودی) نافذ کرنے کا عمل ہے۔


الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر اٹھ رہے سوالات کے پیش نظر جئے رام رمیش نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’اگر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار میں ذرا بھی شرافت اور اخلاقیت باقی ہے، تو انہیں سب سے پہلے قدم کے طور پر فوری استعفیٰ دینا چاہیے۔ اس کے بعد وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو ان کی تباہ کن منصوبہ بندی کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔‘‘ گویا کہ کانگریس صرف چیف الیکشن کمشنر کو ہی نشانے پر نہیں لے رہی ہے، بلکہ نریندر مودی اور امت شاہ کے خلاف بھی کارروائی کا راستہ تلاش کر رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔