
فائل فوٹو / آئی اے این ایس
اڈیشہ کے ڈھینکنال ضلع میں سنیچر کی دیر رات پتھر کی کھدائی کے دوران زبردست دھماکہ ہوگیا جس میں دو مزدوروں کی موت ہوگئی اور متعدد کے دبے ہونے کا اندیشہ ہے۔ نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق دھماکے کے بعد بڑے پیمانے پر افرا تفری مچ گئی۔ یہ واقعہ موٹانگا پولیس اسٹیشن کے گوپال پور کے قریب پیش آیا۔ دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ آس پاس کے علاقے تک آواز سنی گئی جس سے لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔ اس واقعہ میں کئی کارکنوں کی ہلاکت کا اندیشہ ہے۔
Published: undefined
واردات کے فوری بعد موقع پر پہنچیں ریسکیو ٹیمیوں نے آپریشن شروع کردیا جو ابھی بھی جاری ہے۔ اس دھماکے نے علاقے میں غیر قانونی کان کنی کی سرگرمیوں کے بارے میں ایک بار پھر خدشات کو جنم دیا ہے۔ دھماکہ گوپال پور گاؤں کے قریب ایک غیر قانونی کان میں ہوا۔
Published: undefined
اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ اور پولیس جائے وقوعہ پر پہنچے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ وہیں اطلاع ملنے پر اوڈاپاڈا تحصیلدار اور موٹانگا پولس اسٹیشن کے اہلکار بھی موقع پر پہنچ گئے اور ابتدائی تفتیش شروع کی۔ پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اورعوام کے داخلے کو روکنے کے لیے پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی متاثرہ علاقے کے قریب نقل و حرکت پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔
Published: undefined
تحصیلدار اور موٹانگا تھانے کے انسپکٹر انچارج (آئی آئی سی) سمیت کئی اعلیٰ افسران صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے رات بھر جائے وقوعہ پر موجود رہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دھماکے کے بعد کان کے اندر موجود مٹی کا ایک حصہ منہدم ہو گیا تھا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ڈھینکنال ڈسٹرکٹ مائننگ آفس نے پہلے 8 ستمبر 2025 کو بلاسٹنگ کی اجازت نہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے پٹے دار کو بند کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔ اس کے باوجود قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سائٹ پر بلاسٹنگ کا سلسلہ جاری رہا۔
Published: undefined
افسران نے بتایا کہ مزدوروں کو تلاش کرنا مشکل ہورہا ہے کیونکہ یہ واقعہ رات گئے پیش آیا تھا۔ اس وقت جائے وقوعہ پر ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے۔ وہیں مقامی لوگ بھی پٹہ ختم ہونے کے بعد کان کنی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ حالانکہ کان کا پٹہ ختم ہونے کے حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
Published: undefined
فائر آفیسر نے بتایا کہ انہیں کل رات اس واقعہ کی اطلاع ملی۔ حکم ملنے کے بعد ریسکیو آپریشن کے لیے 7 ٹیمیں جائے وقوعہ پر روانہ کر دی گئیں۔ انہیں گڈھے میں انسانی جسم کا ایک حصہ ملا۔ اتنے بڑے پتھروں کو ہاتھ سے ہٹانا مشکل ہے، اس لیے بھاری مشینری کا استعمال کیا جائے گا۔ ڈاگ اسکواڈ بھی جائے وقوعہ پر موجود ہے۔ ریسکیو آپریشن ابھی بھی جاری ہے اور حالات کو معمول پر آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے کیونکہ پتھروں کو ہٹانے میں وقت لگ رہا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined