امریکی سپریم کورٹ نے ٹیرف پر روک لگا دی، مودی میں ہمت ہے تو تجارتی معاہدہ منسوخ کریں: راہل گاندھی

راہل گاندھی نے خطاب کے دوران کہا کہ ’’شیوراج چوہان سے پوچھیے، کیا وزیر اعظم نے ان کی رائے لی؟ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ اچانک سے ہندوستان کے کسانوں کو بیچ دیا، ہمارا مکمل ڈیٹا امریکہ کو دے دیا۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>’کسان مہا-چوپال‘ سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی، تصویر بشکریہ&nbsp;@INCIndia</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مدھیہ پردیش کے بھوپال میں منعقد ’کسان مہاچوپال‘ میں کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے ’تجارتی معاہدہ‘ کے متعلق مرکزی حکومت پر حملہ بولا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے اپنی کابینہ سے پوچھے بغیر ٹرمپ کو فون کیا اور ’ٹریڈ ڈیل‘ کر ڈالی۔ انہوں نے ملک کے کسان کو بیچ دیا۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کی ٹیرف پر پابندی عائد کر دی ہے اب اگر مودی میں ہمت ہے تو وہ ٹریڈ ڈیل منسوخ کر کے دکھائیں۔

’کسان مہا-چوپال‘ کو خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ صدر جمہوریہ کے خطاب کے بعد پہلا اسپیکر اپوزیشن لیڈر ہوتا ہے، یہ ہر سال ہوتا ہے۔ ملک کی تاریخ میں پہلی بار لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر کو بولنے نہیں دیا گیا۔ میں نے بولنا شروع کیا تو مجھے روکا گیا۔ میں نے نرونے جی کی کتاب کا ذکر کیا تو مجھے روکا گیا۔ انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ چین کے ٹینک ہندوستان کی باؤنڈری میں آ رہے تھے تو انہوں نے راجناتھ سنگھ کو فون کیا، جنہوں نے جواب نہیں دیا۔


راہل گاندھی کے مطابق نرونے نے راجناتھ سنگھ کے بعد اجیت ڈووال کو بتایا انہوں نے بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے بعد جے شنکر کو فون کیا اور بتایا کہ چین کے ٹینک اندر آ رہے ہیں مجھے کیا کرنا ہے؟ انہوں نے بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ سوال اس لیے پوچھ رہے تھے کیونکہ چینی فوج کو جواب دینے کے لیے وزیر اعظم سے پوچھنا پڑتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین کی فوج اندر آ رہی تھی اور آرمی چیف کو جواب نہیں مل رہا تھا۔ اس کے بعد راجناتھ سنگھ نے وزیر اعظم کو فون کیا۔ وزیر دفاع سے وزیر اعظم کہتے ہیں کہ آرمی چیف کو بتاؤ کہ جو وہ مناسب سمجھے کریں۔

راہل گاندھی نے اپنی بات جاری کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ اس دن مجھے ملک کے وزیر اعظم نے اکیلا چھوڑ دیا۔ آرمی چیف کو جب آرڈر دینے کا وقت آیا تو ہمارے وزیر اعظم غائب ہو گئے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ تو شروعات تھی، پارلیمنٹ میں یہ بولنے کی میں کوشش کر رہا تھا لیکن مجھے بولنے نہیں دیا گیا۔ جیسے میں نے بولنا شروع کیا، وزیر اعظم نے امت شاہ کی جانب دیکھا اور وہ کھڑے ہو گئے، مجھے بولنے نہیں دیا گیا۔


کانگریس لیڈر نے خطاب کے دوران کہا کہ میں کتاب لے کر پہنچا تو کہا گیا کہ کتاب کو کوٹ نہیں کر سکتے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ میں نرونے جی کی بات کر رہا تھا۔ بیک گراؤنڈ میں ایک چیز چل رہی تھی۔ 4 ماہ کے لیے ہندوستان اور امریکہ معاہدہ رکا ہوا تھا، کیوں رکا تھا۔۔۔ زراعت کے معاملے پر رکا تھا۔ حکومت نہیں چاہتی تھی کہ امریکہ کی بڑی بڑی کمپنیاں سویا، کپاس اور مکئی ہندوستان میں فرخت کر سکیں۔ کوئی کسان بھی نہیں چاہتا، 4 ماہ تک بات چیت بند تھی۔

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد نے کہا کہ میں اپنی تقریر میں صرف نرونے جی کی بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔ میں دو تین چیزیں اور کہنا چاہتا تھا۔ میری تقریر ختم ہوتے ہی شام کو وزیر اعظم مودی نے کابینہ سے پوچھے بغیر ٹرمپ کو فون کیا۔ ٹرمپ نے ٹویٹ کیا اور کہا کہ مودی نے مجھے فون کیا ہے اور بتایا ہے کہ وہ معاہدہ پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ معاہدہ 4 ماہ سے رکا ہوا تھا۔ لوک سبھا سے مودی بھاگ گئے، اگلے روز جھوٹا بہانہ بنایا کہ کانگریس پارٹی کی خواتین ان پر حملہ کرنا چاہتی تھیں۔ پھر ٹرمپ کو فون لگایا۔ شیوراج چوہان سے پوچھیے۔۔۔ کیا وزیر اعظم نے ان کی رائے لی؟ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ اچانک سے ہندوستان کے کسانوں کو بیچ دیا، ہمارا مکمل ڈیٹا امریکہ کو دے دیا۔


راہل گاندھی نے کہا کہ تجارتی معاہدہ کی پہلی وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں ایپسٹین کی 30 لاکھ فائلیں پڑی ہیں۔ لاکھوں فائلوں کے ای میل، میسج اور ویڈیو ابھی تک ریلیز نہیں کیے گئے ہیں۔ امریکہ نے مودی حکومت کو دھمکانے کے لیے ہردیپ پوری کا نام ریلیز کر دیا ہے۔ پیغام صاف تھا کہ اگر ہماری بات نہیں سنی تو فائلوں میں سے ثبوت نکلے گا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اڈانی پر امریکہ میں کرمنل کیس ہے، وہ امریکہ نہیں جا سکتے۔ اڈانی، بی جے پی اور نریندر مودی کا فنانشل اسٹرکچر ہے۔ ایسے میں یہ کیس اڈانی پر نہیں، نریندر مودی اور بی جے پی پر ہے۔