
جے رام رمیش / INCIndia@
کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے جمعرات کو ملک کی اقتصادی صورتحال کو لے کر مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے مہنگائی، سرمایہ کاری اور سپلائی چین کو درست طریقے سے منظم نہیں کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اٹلی دورے کے دوران حالیہ ’میلوڈی‘ ٹافی والے واقعہ کو لے کر بھی وزیر اعظم پر طنز کسا۔ کانگریس کی جانب سے ’ایکس‘ پر جاری ایک تفصیلی بیان میں جے رام رمیش نے لکھا کہ ’’ہندوستانی معیشت کو لے کر ماحول اس قدر منفی ہو گیا ہے کہ اب مودی حکومت کے پروفیشنل چیئر لیڈرس بھی عوامی طور پر اپنی تشویش کا اظہار کرنے لگے ہیں۔‘‘
Published: undefined
اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں کانگریس لیڈر مزید لکھتے ہیں کہ ’’مہنگائی کے تخمینے تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جبکہ ترقی کی شرح کے تخمینے نمایاں طور پر کم ہو رہے ہیں۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) مسلسل سکڑ رہی ہے اور سپلائی چین کا انتظام اس قدر بری طرح کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم اب خود صارفین سے اپنی کھپت کم کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’ان تشویشوں میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس کافی وقت سے اںہیں اٹھاتی رہی ہے، جن میں سب سے اہم تشویش سست سرمایہ کاری کے ماحول کو لے کر رہی ہے۔‘‘
Published: undefined
جے رام رمیش کے مطابق نجی سرمایہ کاری کی شرح میں نمایاں اضافے کے بغیر معاشی ترقی کو تیز رفتار نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی اسے طویل عرصے تک اعلیٰ سطح پر برقرار رکھا جا سکتا ہے، جبکہ اس کی ضرورت واضح طور پر ہے۔ پالیسیوں میں بار بار تبدیلی، انتظامی احکامات، ٹیکس نوٹس، چھاپوں اور ٹیکس افسران و تحقیقاتی ایجنسیوں کے ذریعہ چھاپے ماری کی دھمکیوں کی وجہ سے سرمایہ کاری طبقہ میں ڈر اور کاروباری بے یقینی کا ماحول بنا ہوا ہے۔ چین کی ضرورت سے زیادہ صنعتی صلاحیت سے ہونے والی مسلسل ’دمپنگ‘ نے مینوفیکچرنگ کے شعبہ میں مقامی مصنوعات کی مانگ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
Published: undefined
کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’حکومت کی مدد سے وزیر اعظم کے سب سے قریبی دوستوں کے ذریعہ کیے جا رہے حصول اراضی نے ملکیت کے بڑھتے ہوئے ارتکاز کو فروغ دیا ہے۔ اس اقربا پروری کی سب سے واضح مثال مودانی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’کارپوریٹ دنیا کے پاس آزادانہ طور پر سرمایہ کاری کرنے اور اس سے متعلق خطرات اٹھانے کی بہت کم ترغیب بچی ہے، کیونکہ منافع مودی حکومت کے ’چندہ لو، دھندا دو‘ کاؤنٹر پر ادائیگی کر کے بھی آسانی سے کمایا جا سکتا ہے۔‘‘
Published: undefined
کانگریس کے جنرل سکریٹری کے مطابق کارپوریٹ انڈیا پر ٹیکس کی شرحیں ریکارڈ نچلی سطح پر ہیں اور اس کی کمائی ریکارڈ بلندی پر ہے۔ شیئر بازار کی قدر بھی مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ اس کے باوجود سرمایہ کاری کی رفتار صاف طور پر غائب ہے اور جو سرمایہ کاری کرنے کی پوزیشن میں ہیں، وہ زیادہ تعداد میں بیرون ملک جا رہے ہیں اور/یا وہاں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ بڑی بڑی سرمایہ کاری کے اعلانات مسلسل کیے جا رہے ہیں، لیکن ان میں سے کتنے اعلانات زمین پر حقیقی اثاثوں میں تبدیل ہوتے ہیں، یہ شدید سوال کا موضوع ہے۔
Published: undefined
جے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ’’وزیر اعظم چاکلیٹ بانٹنے اور عوام سے اخلاقی اپیل کرنے میں مصروف ہیں۔ ملک کے پیروں تلے زمین کھسک رہی ہے۔ ہمیں اقتصادی پالیسیوں میں بڑی سطح پر تبدیلی کی ضرورت ہے، لیکن مودی حکومت کے پاس خود کی تعریف کے علاوہ کوئی نیا آئیڈیا نہیں بچا ہے۔ وزیر اعظم مودی گیانیش کے ذریعہ انتخابات کو تو مینیج کر رہے ہیں، لیکن معیشت کے متعلق انہیں فوری طور پر گیان (علم) کی ضرورت ہے۔‘‘
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: سوشل میڈیا