
ووٹ چوری کے خلاف راہل گاندھی کی مہم
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی مستقل ’ووٹ چوری‘ کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ وہ پریس کانفرنس کر کئی بار ووٹ چوری سے متعلق ثبوت بھی سامنے رکھ چکے ہیں، لیکن اس معاملہ میں الیکشن کمیشن کی طرف سے کوئی پیش رفت دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے۔ بلکہ راہل گاندھی اور کانگریس کے ذریعہ عائد کردہ الزامات پر ٹال مٹول والا رویہ اختیار کیا جاتا رہا ہے۔ اب راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کر واضح لفظوں میں کہا ہے کہ ’’جہاں جہاں ایس آئی آر، وہاں وہاں ووٹ چوری‘‘۔
Published: undefined
گجرات میں ’ایس آئی آر‘ کے دوران گڑبڑی کے کئی معاملات سامنے آئے ہیں، اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے راہل گاندھی نے مذکورہ بالا بیان دیا ہے۔ انھوں نے اس پوسٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ’’گجرات میں ایس آئی آر کے نام پر جو کچھ کیا جا رہا ہے، وہ کسی بھی طرح کا انتظامی عمل نہیں ہے، یہ منصوبہ بند، منظم اور حکمت عملی کے تحت کی جا رہی ووٹ چوری ہے۔‘‘ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’سب سے حیرت انگیز اور خطرناک بات یہ ہے کہ ایک ہی نام سے ہزاروں ہزار اعتراض درج کیے گئے۔‘‘
Published: undefined
راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ خاص طبقات اور کانگریس حامی بوتھوں کے ووٹ چن چن کر کاٹے گئے۔ جہاں بھی بی جے پی کو شکست نظر آتی ہے، وہاں ووٹر ہی سسٹم سے غائب کر دیے جاتے ہیں۔ یہ پیٹرن آلند میں نظر آیا،ک یہی راجورا میں ہوا، اور اب وہی بلو پرنٹ گجرات، راجستھان اور ہر اس ریاست میں نافذ کیا جا رہا ہے، جہاں ایس آئی آر تھوپا گیا ہے۔
Published: undefined
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ’’ایس آئی آر کو ’ایک شخص، ایک ووٹ‘ کے آئینی حق کو ختم کرنے کے اسلحہ میں بدل دیا گیا ہے۔ ایسا اس لیے تاکہ عوام نہیں، بی جے پی طے کرے کہ اقتدار میں کون رہے گا۔‘‘ سوشل میڈیا پوسٹ کے آخر میں اپنی فکر ظاہر کرتے ہوئے راہل گاندھی لکھتے ہیں کہ ’’سب سے سنگین حقیقت یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اب جمہوریت کا محافظ نہیں، بلکہ اس ووٹ چوری کی سازش کا اہم شراکت دار بن چکا ہے۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined