خبر پر جبر کا سایہ... ہرجندر
’نوا پنجاب‘ یوٹیوب چینل کے نونیت سنگھ ودھوا کہتے ہیں کہ ’’جو پنجاب کیسری کے ساتھ ہو رہا ہے، کل ہمارے ساتھ بھی ہوگا، اور پرسوں آپ کے ساتھ بھی ہوگا۔‘‘

پنجاب کے اخبارات سے لے کر سوشل میڈیا انفلوئنسرز تک سب کو دبانے کا سلسلہ پنجاب میں زور پکڑ چکا ہے۔ اس کی ابتدا گزشتہ سال نومبر کی پہلی تاریخ کو ہوئی۔ بی جے پی کی جانب سے یہ بیان دیا گیا کہ چنڈی گڑھ میں عآپ لیڈر اروند کیجریوال کے لیے شیش محل تیار کیا گیا ہے۔ اخبارات نے بی جے پی ترجمان شہزاد پوناوالا کے بیان سے ملی اس خبر کو پہلے صفحہ پر شائع کیا۔ تقریباً سبھی نے اس کے ساتھ عآپ کی تردید بھی شائع کی۔
ریاستی حکومت کو یہ بات ناگوار گزری اور اگلے ہی دن اخبارات کی سپلائی کرنے والے ٹرکوں کو روک لیا گیا۔ تلاشی کے نام پر اخبارات کے بنڈل کھولے گئے۔ کہا گیا کہ یہ خفیہ محکمہ سے ملی اطلاع کے بعد کیا جا رہا ہے کہ ان ٹرکوں کے ذریعہ منشیات اور ہتھیار بھیجے جا رہے ہیں۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ملا۔ جب تک یہ سب چلتا رہا، اخبارات کو قارئین تک پہنچانے کا وقت ختم ہو چکا تھا۔ اس دن پنجاب کے بیشتر لوگوں کو وہ اخبارات نہیں ملے جن میں وزیر اعلیٰ بھگونت مان کا یہ بیان نمایاں طور پر شائع ہوا تھا کہ ان کے کیمپ آفس کے بارے میں لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد اخبارات کو دیے جانے والے سرکاری اشتہارات بند کر دیے گئے۔ کچھ دن بعد کئی اخبارات میں اشتہارات پہلے کی طرح شائع ہونے لگے۔ قیاس آرائیاں ہوئیں کہ ان اخبارات نے حکومت سے سمجھوتہ کر لیا ہے، لیکن کچھ اخبارات کے اشتہارات تب بھی بند رہے۔ ان میں پنجاب کا سب سے پرانا ’پنجاب کیسری گروپ‘ بھی شامل ہے۔
یہ پورا معاملہ چنڈی گڑھ کے سیکٹر-2 واقع 50 نمبر بنگلے سے جڑا تھا، جسے بھگونت مان نے اپنا کیمپ آفس اور گیسٹ ہاؤس بنانے کے نام پر الاٹ کروایا تھا۔ چنڈی گڑھ کی مشہور سُکھنا جھیل کے قریب واقع اس سیکٹر میں پنجاب اور ہریانہ کے وزرائے اعلیٰ، ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور متعدد اعلیٰ افسران رہائش پذیر ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس بنگلے میں اب اروند کیجریوال مستقل طور پر رہتے ہیں۔
نیا سال آتے ہی ایسا محسوس ہوا جیسے عآپ حکومت نے پریس کو دبانے کا نیا عزم ہی کر لیا ہو۔ یکم جنوری کو ہی پنجاب پولیس کی جانب سے یہ خبر دی گئی کہ اس نے آر ٹی آئی کارکن مانک گوئل اور 9 سوشل میڈیا کنٹینٹ کریئیٹرز اور انفلوئنسرز کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ ان لوگوں نے اسے حکومت کی طرف سے نیا سال کا تحفہ قرار دیا۔ یہ معاملہ ایک ماہ پرانا تھا، جب بھگونت مان دسمبر کے آغاز میں 10 دن کے لیے جاپان اور جنوب مشرقی ایشیا کے دورے پر گئے تھے۔ اسی دوران مانک گوئل نے فلائٹ ٹریکنگ پلیٹ فارم ’فلائٹ رڈار 24‘ کے ذریعہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے ہیلی کاپٹر سے متعلق معلومات اکٹھی کرنا شروع کیں۔ انہوں نے پایا کہ جب وزیر اعلیٰ ملک سے باہر تھے تب بھی ان کا ہیلی کاپٹر پرواز کر رہا تھا۔ ان میں سے ایک پرواز امرتسر کی بھی تھی۔ گوئل نے یہ معلومات سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔ یہ محض ایک اطلاع ہی نہیں بلکہ ایک اہم خبر بھی تھی۔ اسی لیے پنجابی یوٹیوب چینلز اور انفلوئنسرز نے اسے فوراً اٹھا لیا۔ جلد ہی یہ موضوع بحث بن گیا، حالانکہ مرکزی دھارے کے میڈیا اداروں نے اس خبر کو نہیں اٹھایا۔
پولیس نے ان سب کے خلاف ’بھارتیہ نیائے سنہتا‘ (بی این ایس) کی دفعہ (1)353 اور (2) کے تحت افواہ پھیلانے، غلط معلومات دینے اور دفعہ (2)61 کے تحت مجرمانہ سازش کے مقدمات درج کیے۔ جب ان سب کو بھٹنڈہ تھانہ میں طلب کیا گیا تو یہ خبر مرکزی دھارے کے میڈیا تک بھی پہنچ گئی۔ اس معاملے پر مانک گوئل اور 3 صحافیوں نے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی۔ 12 جنوری کو عدالت نے کہا کہ محض کچھ لوگوں کے سوال اٹھانے کی بنیاد پر حکومت ان کے خلاف فوجداری مقدمہ قائم نہیں کر سکتی۔ ہائی کورٹ نے اس معاملہ میں حکم امتناع جاری کر دیا۔
جس وقت یہ معاملہ ہائی کورٹ میں زیر سماعت تھا، پنجاب حکومت میڈیا پر دباؤ ڈالنے کی ایک اور کارروائی شروع کر چکی تھی۔ 11 سے 15 جنوری کے درمیان ریاستی حکومت کی مختلف ایجنسیوں نے ’پنجاب کیسری گروپ‘ کے اداروں اور ان کے مالکان کے دیگر کاروباروں پر چھاپے مارے۔ اخبار کے مالکان کا جالندھر میں ایک ہوٹل ہے، پارک پلازا۔ اس ہوٹل پر پہلے ایکسائز اور ٹیکسیشن محکمے نے چھاپے مارے۔ اس کے بعد فوڈ اینڈ سول سپلائز والے ہوٹل پر چھاپہ مارنے آئے۔ پھر جی ایس ٹی محکمہ کے چھاپے کی باری آئی۔ لائسنس منسوخ کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ہوٹل اگرچہ ’پنجاب کیسری‘ کے مالکان کا ہے، لیکن اس کا انتظام ’سروور گروپ‘ کے پاس ہے، جو اس وقت ملک بھر میں 150 سے زائد ہوٹلوں کا انتظام چلا رہا ہے۔ جن معاملات کو لے کر ہوٹل پر چھاپے مارے گئے، ان سب کی جوابدہی ’سرووَر گروپ‘ کی تھی، پنجاب کیسری گروپ کی نہیں۔
بات صرف ہوٹل تک محدود نہیں رہی۔ جالندھر، لدھیانہ اور بھٹنڈہ میں اخبار کے دفاتر کے باہر بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کر دی گئی۔ تینوں مقامات پر پرنٹنگ پریسز پر لیبر ڈپارٹمنٹ نے چھاپے مارے۔ اس کے بعد ماحولیاتی کنٹرول بورڈ نے اخبار کی جالندھر اور لدھیانہ کی پرنٹنگ پریس پر چھاپہ مارا، حالانکہ اخبار کے کاروبار کو ان صنعتوں میں شمار نہیں کیا جاتا جن سے ماحول کو کسی بھی طرح کا خطرہ لاحق ہو۔ بغیر کسی نوٹس کے دونوں مقامات پر بجلی کے کنکشن کاٹ دیے گئے۔
اخبار کے سی ای او اور چیف ایڈیٹر 93 سالہ وجے کمار چوپڑا کا کہنا ہے کہ ’’یہ سب جان بوجھ کر اخبار کو دباؤ میں لانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔‘‘ کچھ دیگر لوگوں کا کہنا ہے کہ ’پنجاب کیسری گروپ‘ کے خلاف کارروائی کے ذریعہ سب کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ حکومت کس حد تک جا سکتی ہے۔ پوری اپوزیشن اس کی مخالفت کر رہی ہے۔ دوسری طرف حکومت پوری ڈھٹائی کے ساتھ اسے جائز ٹھہرا رہی ہے۔
اگرچہ سپریم کورٹ نے پریس دوبارہ شروع کرنے کا حکم دے دیا ہے، لیکن انتباہ پورے میڈیا کو مل چکا ہے۔ ’نوا پنجاب‘ یوٹیوب چینل کے نونیت سنگھ ودھوا کہتے ہیں کہ ’’جو پنجاب کیسری کے ساتھ ہو رہا ہے، کل ہمارے ساتھ بھی ہوگا، اور پرسوں آپ کے ساتھ بھی ہوگا۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔