بی ایم سی انتخابات: راہل گاندھی کا انگلی پر لگی سیاہی مٹنے پر سوال، ووٹ چوری کو ملک دشمن عمل قرار دیا

بی ایم سی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی جاری ہے، اسی دوران راہل گاندھی نے انگلی پر لگائی جانے والی سیاہی سے متعلق ممبئی مرر کی خبر شیئر کر کے الیکشن کمیشن پر حملہ کیا اور ووٹ چوری کو ملک دشمن عمل قرار دیا

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مہاراشٹر میں بلدیاتی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی شروع ہوتے ہی کانگریس رہنما راہل گاندھی نے بی ایم سی انتخابات میں مٹنے والی سیاہی کے معاملے پر الیکشن کمیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ جمعہ کو صبح 10 بجے سے ووٹوں کی گنتی کے آغاز کے کچھ دیر بعد راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں انہوں نے الیکشن کمیشن پر شہریوں کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ اسی رویے کی وجہ سے جمہوریت میں عوام کا اعتماد ختم ہو چکا ہے۔ اپنی پوسٹ میں انہوں نے ’ووٹ چوری‘ کو ملک دشمن عمل قرار دیا۔

راہل گاندھی نے اس پوسٹ کے ساتھ ممبئی مرر میں شائع ہونے والی ایک خبر کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا ہے۔ اس خبر میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر الزامات کو مسترد کرنے کے بعد ریاستی الیکشن کمشنر دنیش واگھمارے نے سیاہی کے معاملے میں تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن ان پولنگ اسٹیشنوں سے مارکر قلم کے نمونے جمع کرے گا جہاں شکایات سامنے آئی ہیں اور سیاہی فراہم کرنے والی کمپنی سے وضاحت طلب کی جائے گی۔ اس کے ساتھ یہ بھی جانچا جائے گا کہ سیاہی میں شامل کیمیائی اجزا، خاص طور پر سلور نائٹریٹ کی مقدار مقررہ معیار کے مطابق ہے یا نہیں، کیونکہ یہی جزو نشان کو دیرپا بنانے میں اہم سمجھا جاتا ہے۔


ممبئی مرر کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دنیش واگھمارے نے دن کے آغاز میں ان الزامات کو افواہ قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا، تاہم سوشل میڈیا پر سینیٹائزر اور نیل پالش ریموور سے سیاہی مٹانے کی ویڈیوز وائرل ہونے اور عوامی ردعمل بڑھنے کے بعد الیکشن کمیشن کو اپنا موقف بدلنا پڑا۔

اس سے قبل کانگریس نے اس معاملے پر سخت اعتراض درج کرایا تھا۔ مہاراشٹر کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال نے الزام لگایا تھا کہ مارکر کے ذریعے لگائی جانے والی سیاہی کو آسانی سے مٹایا جا سکتا ہے، جس سے ایک ہی ووٹر کے دوبارہ ووٹ ڈالنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے اور یہ آئین میں دیے گئے مساوی حق رائے دہی کی صریح خلاف ورزی ہے۔

وہیں، شیو سینا یو بی ٹی کے سربراہ ادھو ٹھاکرے اور مہاراشٹر نونرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے نے بھی اسی مسئلے پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ ادھو ٹھاکرے نے اسے جمہوریت پر حملہ قرار دیا، جبکہ راج ٹھاکرے نے الزام لگایا کہ نئی سیاہی نے انتخابی عمل کی شفافیت کو نقصان پہنچایا ہے۔

ریاستی الیکشن کمیشن اور حکومت نے تاہم اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارکر قلم 2011 سے مقامی اداروں کے انتخابات میں استعمال ہو رہے ہیں اور اس معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔ ووٹوں کی گنتی کے دوران راہل گاندھی کی پوسٹ کے بعد یہ تنازعہ ایک بار پھر سیاسی طور پر انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔