قومی خبریں

اعظم خان کے ٹھکانوں پر ای ڈی کی ریڈ، دہلی اور رام پور سمیت 10 مقامات پر چھاپے ماری

’انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ‘ نے بدھ کے روز صبح اعظم خان اور ان کے معاونین کے 10 ٹھکانوں پر چھاپے ماری شروع کی۔ ای ڈی کی کارروائی دہلی کے ساتھ ساتھ اتر پردیش کے رامپور، سہارنپور اور دیگر علاقوں میں جاری ہے۔

<div class="paragraphs"><p>اعظم خان / فائل تصویر</p></div>

اعظم خان / فائل تصویر

 

سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعظم خان کی مشکالات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بدھ کی صبح اعظم خان اور ان کے معاونین کے 10 ٹھکانوں پر چھاپے ماری شروع کی۔ ای ڈی کی یہ کارروائی راجدھانی دہلی کے ساتھ ساتھ اتر پردیش کے رامپور، سہارنپور اور دیگر علاقوں میں ایک ساتھ جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق ای ڈی کی یہ ریڈ ’منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ‘ (پی ایم ایل اے) کے تحت کی گئی ہے۔ جانچ ایجنسی کی ٹیمیں مالیاتی لین دین، مالی بے ضابطگیاں اور مشکوک فنڈنگ کی جانچ کے حوالے سے تحقیقات کر رہی ہیں۔

اطلاع کے مطابق ای ڈی کی ٹیمیں ’مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی‘ اور ’مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ‘ کی باریکی سے جانچ کر رہی ہیں۔ یونیورسٹی احاطے میں عہدیداران کی رہائش پر مرکزی سیکورٹی فورسز کی موجودگی میں دستاویزات اور ڈیجیٹل ثبوتوں کو کھنگالا جا رہا ہے۔ جانچ ایجنسیوں کے مطابق یہ معاملہ سرکاری ٹھیکوں میں ہوئی مالی بے ضابطگیوں اور نجی ٹھیکیداروں کے ذریعہ فنڈ کے مبینہ ڈائیورزن سے وابستہ ہے۔

ابتدائی جانچ میں انکشاف ہوا ہے کہ کچھ نجی ٹھیکیداروں نے سرکاری ٹھیکوں سے ملے فنڈ کا بڑا حصہ غیر قانونی طریقے سے مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ اور یونیورسٹی میں ٹرانسفر کیا ہے۔ اس رقم کا استعمال عطیات، یونیورسٹی کی جائیداد اور تعمیراتی کاموں میں کیا گیا ہے۔ ای ڈی کے اس سرچ آپریشن کا مقصد جرائم کی کمائی کو ضبط کرنا ہے۔ ساتھ ہی مبینہ بینک ٹرانزیکشنز، مالی ریکارڈ، کاغذی اور ڈیجیٹل ثبوتوں کو بھی جمع کرنا ہے۔ چھاپے ماری کے دوران مرکزی سیکورٹی فورسز کی موجودگی میں محمد علی جوہر ٹرسٹ کے عہدیداروں، مالیاتی مشیر اور متعلقہ ٹھیکیدار کے ٹھکانوں کی گہرائی سے جانچ کی جا رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔