بی جے پی ایک تاناشاہ پارٹی ہے، جس کا جمہوریت اور آئین میں کوئی بھروسہ نہیں: کانگریس
کانگریس لیڈر ایڈووکیٹ راجندر پال گوتم نے کہا کہ ملک میں دھرنا دینے پر روک لگا دی جاتی ہے، جس کا حق خود آئین دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی ہے؟

’’بی جے پی ایک تاناشاہ پارٹی ہے، جس کا جمہوریت اور آئین میں کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ بی جے پی کبھی عوام کے ایشوز پر بات نہیں کرتی، صرف نفرت کی سیاست کرتی ہے۔ یہ لوگ بھگوان رام کے نام پر سیاست کرتے ہوئے اقتدار میں آئے اور پھر ان کے مندر سے ہی چڑھاوا چوری کر لیتے ہیں۔‘‘ یہ بیان ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یوپی کانگریس کے انچارج ایڈووکیٹ راجندر پال گوتم نے دیا۔
دراصل ایڈووکیٹ راجندر پال گوتم نگرپالیکا چیئرمین رہے حاجی ریحان خان کو کانگریس میں شامل کرنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر اتر پردیش سے بڑی تعداد میں لیڈران و ان کے ساتھیوں نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ کانگریس لیڈر نے ان سبھی لیڈران و کارکنان کو مبارکباد پیش کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لیے نیک خواہشات بھی پیش کیں۔
اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈووکیٹ راجندرپال گوتم نے کہا کہ ’’حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی ملک کی امید ہیں۔ کانگریس کے نظریات اور راہل گاندھی سے متاثر ہو کر بڑی تعداد میں لوگ پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے مرکز کی مودی حکومت اور موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’ملک میں دھرنا دینے پر روک لگا دی جاتی ہے، جس کا حق خود آئین دیتا ہے۔ ایسے میں سوال ہے کہ کیا ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہے؟‘‘ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’ایسے حالات میں ملک کو امید کی شکل میں صرف راہل گاندھی نظر آ رہے ہیں، جو جمہوریت اور آئین کو بچانے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔‘‘
