ایس آئی آر تنازعہ: ’جلد ہی بڑا انکشاف کروں گا، میں ووٹ چوری ثابت کر دوں گا‘، کپل سبل کا اعلان

کپل سبل نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مان لیا ہے کہ کروڑوں کی تعداد میں لوگوں کے ووٹ ڈیلیٹ کیے جا رہے ہیں۔ لیکن ووٹر آئی ڈی ڈیلیٹ کرنا صرف ایک مسئلہ نہیں ہے، اس سے کئی سہولتیں وابستہ ہیں۔

کپل سبل، تصویر آئی اے این یس
i

راجیہ سبھا کے رکن کپل سبل نے ایس آئی آر معاملہ پر ہفتہ کے روز کہا کہ وہ ووٹ کی چوری کو جلد ہی ثابت کرنے والے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کچھ دنوں میں پریس کانفرنس کریں گے، جس میں سچائی سب کے سامنے لا کر رکھ دیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا ہے کہ 2004 اور 2009 میں اپنے پارلیمانی حلقہ کی ایک اسمبلی کے اعداد و شمار پیش کریں گے، جہاں لاکھوں لوگوں کے ووٹ کاٹے گئے ہیں اور کاٹے جا رہے ہیں۔

کپل سبل نے کہا ہے کہ اس طرح کی صورتحال کئی اسمبلی حلقوں میں ہے، جہاں کروڑوں ووٹرز کے نام کاٹے جا رہے ہیں۔ یہ لوگ وہیں رہتے ہیں، ان کے پتے موجود ہیں۔ ان کے پاس آدھار کارڈ بھی ہیں، لیکن انہیں ایسا دکھایا جا رہا ہے، جیسے وہ وہاں موجود ہی نہیں ہیں۔ اگر اس طرح ووٹ کاٹے جائیں گے اور ووٹ دینے کا حق چھینا جائے گا، تو یقینی طور پر لوگ سڑکوں پر اتریں گے۔


کپل سبل نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مان لیا ہے کہ کروڑوں کی تعداد میں لوگوں کے ووٹ ڈیلیٹ کیے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی سبل نے کہا کہ ووٹر آئی ڈی ڈیلیٹ کرنا صرف ایک مسئلہ نہیں ہے، اس سے کئی سہولتیں وابستہ ہیں، کئی فلاحی اسکیمیں وابستہ ہیں۔ جن لوگوں کے ووٹ ڈیلیٹ ہو رہے ہیں، انہیں متعلقہ سہولتیں بھی نہیں ملیں گی۔ انہیں اناج بھی نہیں ملے گا۔ یہ ان کی جائیداد ہے، ان کا حق چھینا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ بات نہیں سن رہا۔ آپ اسی طرح چلتے رہو، تو کام نہیں چلے گا، اس کی مخالفت تو کرنی پڑے گی۔

قابل ذکر ہے کہ کپل سبل مسلسل ووٹ چوری اور ایس آئی آر میں ہو رہی گڑبڑیوں کا مسئلہ اٹھا رہے ہیں۔ وہ ہفتہ کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ناراضگی ظاہر کرنے والے نوجوان مظاہرین کے ساتھ سڑکوں پر بھی اترے تھے۔ اس مارچ کے دوران میڈیا کے سوال پر انہوں نے کہا کہ میں آج یہاں اس لیے آیا ہوں تاکہ سارے ملک کے لوگوں سے کہہ سکوں کہ اب وقت آ گیا ہے جب سڑکوں پر اترنا ہوگا اور پرامن طریقے سے احتجاج کرنا ہوگا۔


کپل سبل نے کہا کہ آپ کو یاد ہوگا جب گاندھی جی انگریزوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، تو گاندھی جی کو پیدل چلنا پڑتا تھا۔ اب نوجوانوں نے گاندھی جی کا خواب دیکھا ہے، انہوں نے یہ سیکھ لیا ہے کہ آج یہ لوگ ہمیں پیدل چلنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ اس لیے لوگ ویسا ہی کر رہے ہیں جیسا گاندھی جی نے کیا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ سارے ملک کے عوام اگر اس مہم کے خلاف ہیں، تو پیدل چلیں گے۔ عوام سڑکوں پر آئے گی، عدالت سماعت کرے گی، نہیں تو یہ عوام کا سیلاب بن جائے گا۔