
سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس
بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) کے صدر منن مشرا نے حال ہی میں ایک بیان دیا تھا کہ 35 سے 40 فیصد وکلاء کے پاس فرضی ڈگریاں ہیں اور وہ فرضی سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر عدالتوں میں وکالت کر رہے ہیں۔ منن مشرا کے اس بیان کے بعد سپریم کورٹ میں ایک رِٹ پٹیشن داخل کی گئی۔ اس عرضی میں ان کے اس بیان کی مخالفت کی گئی ہے اور دھوکہ دہی کو روکنے کے لیے ایک ٹھوس قدم اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ عرضی آئین کی دفعہ 32 کے تحت داخل کی گئی ہے۔
Published: undefined
سپریم کورٹ میں داخل اس رِٹ پٹیشن میں ہندوستانی حکومت، بار کونسل آف انڈیا، تمام ریاستوں کی بار کونسل اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن یعنی یو جی سی سے وکلاء کی اہلیت کے لیے ایک شفاف اور یونیفائیڈ ویریفکیشن سسٹم کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ بار کونسل آف انڈیا کے صدر منن مشرا نے ہفتہ (23 مئی) کو کہا تھا کہ تقریباً 35 سے 40 فیصد وکلاء کے پاس فرضی ڈگریاں ہیں اور انہی کی بنیاد پر وہ عدالتوں میں وکالت کر رہے ہیں۔
Published: undefined
منن مشرا کے مطابق بی سی آئی کو اس بات کا علم ہے کہ عدالت کے احاطے میں کالے کوٹ اور بینڈ پہنے دیکھے جانے والے تقریباً 35 سے 40 فیصد وکلاء فرضی ہیں۔ ان کی ڈگریاں مکمل طور سے نقلی ہیں۔ انہوں نے یہ ڈگریاں کہیں سے بنوائی ہیں یا کہیں سے خریدی ہیں اور اسی بنیاد پر وہ عدالتوں میں وکالت کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ جب بار کونسل نے وکلاء کی ڈگریوں کی تصدیق کا عمل شروع کیا تب تقریباً 40 فیصد وکلاء نے تصدیقی فارم ہی جمع نہیں کیے۔ اس سے ان وکلاء کی ڈگریوں پر شک پیدا ہوتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس مسئلے سے چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ عدلیہ اور بار کونسل مل کر اس مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ میں دائر رِٹ پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ بی سی آئی صدر منن مشرا کا حالیہ بیان انتہائی سنگین آئینی تشویش پیدا کرتا ہے۔ عرضی گزار کے مطابق ان بیانات سے اشارہ ملتا ہے کہ بڑی تعداد میں ایسے لوگ وکلاء کے طور پر رجسٹرڈ ہیں یا پریکٹس کر رہے ہیں، جن کی تعلیمی قابلیت کی صحیح طریقے سے جانچ نہیں ہوئی ہے یا جن کی دستاویزات فرضی ہو سکتی ہیں۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined