بار کونسل آف انڈیا کے چیئرمین کا اہم انکشاف، 35 سے 40 فیصد وکلاء کے پاس فرضی ڈگریاں
بی سی آئی کے چیئرمین نے کہا کہ بار کونسل آف انڈیا کو اس بات کا علم ہے کہ عدالت کے احاطے میں کالا کوٹ اور بینڈ پہنے نظر آنے والے تقریباً 35 سے 40 فیصد وکلاء ایسے ہیں، جن کی ڈگریاں مکمل طور پر فرضی ہیں۔

ملک کے عدالتی نظام کے حوالے سے ایک چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے۔ بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) کے چیئرمین اور سینئر وکیل منن کمار مشرا نے کہا ہے کہ تقریباً 35 سے 40 فیصد وکلاء کے پاس فرضی ڈگریاں ہیں اور وہ ان فرضی ڈگریوں کی بنیاد پر عدالتوں میں وکالت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی سی آئی اس مسئلے سے پوری طرح واقف ہے اور اس سلسلے میں ضروری اقدامات کر رہی ہے۔
بی سی آئی کے چیئرمین منن مشرا نے کہا کہ بار کونسل آف انڈیا کو اس بات کا علم ہے کہ عدالت کے احاطے میں کالا کوٹ اور بینڈ پہنے نظر آنے والے تقریباً 35 سے 40 فیصد وکلاء ایسے ہیں، جن کی ڈگریاں مکمل طور پر فرضی ہیں۔ ایسے لوگوں نے یا تو ڈگریاں کہیں سے بنوائی ہیں یا پھر خرید لی ہیں اور اسی بنیاد پر وہ عدالتوں میں وکالت کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کئی لوگ نقلی ڈگری کی بنیاد پر کالا کوٹ اور بینڈ پہن کر عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں۔
منن مشرا کا کہنا ہے کہ جب بی سی آئی نے وکلاء کی ڈگریوں کی تصدیق کا عمل شروع کیا، تو تقریباً 40 فیصد وکلاء نے تصدیقی فارم ہی نہیں بھرے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے میں ان 40 فیصد وکلاء کے فرضی ہونے کا شبہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس حقیقت کو ہندوستان کے چیف جسٹس سوریہ کانت کے علم میں لائے ہیں۔ عدلیہ اور بار کونسل مل کر اس مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ بی سی آئی کا یہ بیان حال ہی میں سوشل میڈیا پر چلنے والے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ تنازعہ کے درمیان سامنے آیا ہے۔ دراصل گزشتہ ہفتے ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے کچھ وکلاء کی ڈگریوں کی صداقت پر سوالات اٹھائے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ کئی بے وزگار نوجوان ایکٹیوزم کی آڑ میں عدالتی نظام پر حملہ کر رہے ہیں۔ بعد میں چیف جسٹس آف انڈیا نے وضاحت کی کہ ان کا اشارہ فرضی ڈگری لے کر وکالت کرنے والوں کی طرف تھا۔ منن کمار مشرا نے بھی کہا کہ سی جے آئی کا تبصرہ انہی لوگوں کے لیے تھا جو نقلی ڈگری کے سہارے عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں۔ جو فرضی ڈگریاں حاصل کرتے ہیں، کالا کوٹ، بینڈ اور گاؤن پہنتے ہیں اور عدالت میں پیش ہوتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ہفتے سینئر ایڈوکیٹ کے عہدے سے متعلق درخواست دائر کرنے والے ایک وکیل کو پھٹکار لگاتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے کئی وکلاء کی قانونی ڈگریوں کی صداقت پر شک ظاہر کیا تھا۔ بار کونسل آف انڈیا سے کارروائی کی توقع نہ کرتے ہوئے سی جے آئی نے کہا تھا کہ وہ سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) سے ان ڈگریوں کی تصدیق کرانے پر غور کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کچھ بے روزگار نوجوان ’کاکروچ‘ کی طرح ہیں جو ایکٹیوزم کی آڑ میں ہر نظام پر حملہ کرتے ہیں۔ حالانکہ بعد میں چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ان کا مقصد صرف فرضی ڈگریاں رکھنے والے لوگوں سے تھا۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
