قومی خبریں

’جوابدہی کا مطالبہ کرو، ورنہ یہ سڑن ہر دروازے تک پہنچے گی‘، کراڑی آبی جماؤ کی ویڈیو دیکھ کر راہل گاندھی فکر مند

راہل گاندھی نے کراڑی واقع ایک کالونی میں آبی جماؤ دیکھ کر حکومت پر حملہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’سسٹم اقتدار کے سامنے فروخت ہو چکا ہے۔ سب ایک دوسرے کی پیٹھ تھپتھپاتے ہیں اور عوام کو روندتے ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی / ویڈیو گریب</p></div>

راہل گاندھی / ویڈیو گریب

 

دہلی کی ایک کالونی میں آبی جماؤ کی ویڈیو نے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کو فکر میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ ویڈیو مبارک پور ڈباس واقع شرما انکلیو کی ہے، جہاں گھٹنے بھر گندہ پانی جمع نظر آ رہا ہے۔ لوگوں کو اپنے گھر تک پہنچنے کے لیے اس گندے پانی میں گھٹنے تک ڈوب کر جانا پڑتا ہے۔ اس ویڈیو کو اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے لکھا ہے کہ ’’ہر عام ہندوستانی کی زندگی آج ایسی ہی جہنم والی مصیبت بن گئی ہے۔ سسٹم اقتدار کے سامنے فروخت ہو چکا ہے۔ سب ایک دوسرے کی پیٹھ تھپتھپاتے ہیں اور مل کر عوام کو روندتے ہیں۔‘‘

Published: undefined

راہل گاندھی نے بی جے پی حکومت اور موجودہ نظام کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مشکل حالات اب ’نئے نارمل‘ معلوم پڑنے لگے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھتے ہیں کہ ’’ملک میں لالچ کی وبا پھیل چکی ہے، شہری سڑن اس کا سب سے خوفناک چہرہ ہے۔ ہمارا سماج اس لیے مر رہا ہے، کیونکہ ہم نے اس سڑن کو ’نیا نارمل‘ تصور کر لیا ہے۔ سبھی خاموش، بے زبان، بے پروا۔‘‘ پوسٹ کے آخر میں عوام کو بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے راہل گاندھی نے لکھا ہے کہ ’’جوابدہی کا مطالبہ کرو، ورنہ یہ سڑن ہر دروازے تک پہنچے گی۔‘‘

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ یہ ویڈیو کانگریس نے بھی اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر گزشتہ روز شیئر کی تھی۔ ویڈیو میں مقامی لوگ اپنی پریشانی ایک میڈیا اہلکار کے سامنے بیان کر رہے ہیں۔ میڈیا اہلکار گندے پانی میں گھٹنے تک ربڑ کا جوتا پہنے داخل ہوتا ہے اور گھروں میں داخل ہو کر کیمرے سے دکھاتا ہے کہ گندہ پانی صرف گلیوں میں ہی نہیں، گھروں میں بھی پہنچ گیا ہے۔ ایک مقامی خاتون بتاتی ہے کہ نہانے اور رفع حاجت کرنے والا گندہ پانی گلیوں میں جمع رہتا ہے۔ کئی بار انتظامیہ سے اس کی شکایت کی گئی، لیکن کوئی سماعت نہیں ہوتی۔ ایک خاتون نے تو یہاں تک کہا کہ اب تک کتنے لوگوں کے سامنے پیشانی ٹیک دیا، لیکن اس پریشانی پر کوئی دھیان نہیں دیتا۔ ایک مقامی شخص نے بتایا کہ اس نے اپنا گھر ہی دوسری جگہ تبدیل کر دیا ہے، کیونکہ یہاں رہنا دشوار ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ تقریباً 8 ماہ سے کالونی کی یہ حالت ہے، لیکن انتظامیہ بالکل بے پروائی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined