دہلی میں جمع ہوں گے 22 عرب ممالک کے وزرائے خارجہ، مغربی ایشیا میں بحران کے درمیان اہم پیش رفت!
میٹنگ میں جن اہم عرب ممالک کے وزرائے خارجہ شامل ہو سکتے ہیں، ان میں سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، عمان، بحرین، اردن، عراق، لبنان، شام، مراکش، ٹیونیشیا وغیرہ شامل ہیں۔

ہندوستان 30 اور 31 جنوری کو راجدھانی دہلی میں دوسری ہند-عرب وزرائے خارجہ کی میٹنگ کی میزبانی کرنے والا ہے۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں عرب لیگ کے تقریباً 22 اراکین ممالک کے وزرائے خارجہ کی شمولیت کا امکان ہے۔ مغربی ایشیا میں جاری جنگ اور عدم استحکام کے درمیان یہ میٹنگ ہندوستان کی بڑھتی سفارتی حیثیت کا بڑا اشارہ تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب غزہ جنگ، ایران-اسرائیل کشیدگی اور بحر احمر میں حوثی حملوں نے پورے علاقہ کو مستحکم کر رکھا ہے۔ عرب دنیا ان ایشوز پر منقسم ہے۔ ایسے ماحول میں ہندوستان کا سبھی فریقین سے گفت و شنید بنائے رکھنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ نئی دہلی کسی ایک گروپ کے ساتھ کھڑے ہونے کی جگہ توازن بنانے والے پُل کا کردار نبھا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق میٹنگ میں جن اہم عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کی شرکت کا امکان ہے، ان میں سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، عمان، بحرین، اردن، عراق، لبنان، شام، مراکش، ٹیونیشیا، الجیریا، لیبیا، سوڈان، صومالیہ، جبوتی، ماریطانیہ، کوموروس، یمن اور فلسطین شامل ہیں۔ شراکت داری سے متعلق تصدیق میٹنگ سے عین قبل ہونے کا امکان ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ اس میٹنگ میں مرکز نگاہ ہندوستان اور عرب ممالک کے درمیان کچھ اہم ایشوز ہوں گے، مثلاً سیاسی و سفارتی تعاون، دہشت گردی اور سمندری سیکورٹی، تجارت و سرمایہ کاری اور روابط، علاقائی امن و استحکام۔ توجہ طلب ہے کہ ہندوستان اپنی 80 فیصد سے زیادہ خام تیل کی ضرورت درآمدات سے پوری کرتا ہے، جس میں تقریباً 60 فیصد فراہمی عرب ممالک سے ہوتی ہے۔ تیل سپلائی میں کسی بھی طرح کے رخنہ کا براہ راست اثر مہنگائی، کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارہ اور روپیہ پر پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں میٹنگ ہندوستان کی انرجی سیکورٹی ڈپلومیسی کے لحاظ سے بے حد اہم تصور کیا جا رہا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔