قومی خبریں

یوتھ کانگریس گرفتاری پر دہلی اور ہماچل پولیس آمنے سامنے

بھارت منڈپم میں اے آئی سمٹ کے دوران احتجاج کے معاملے میں دہلی پولیس نے شملہ سے یوتھ کانگریس کے تین عہدیدار گرفتار کیے۔ مقامی پولیس نے عدالت میں پیشی کے بعد ہی دہلی لے جانے کی اجازت دی

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

تصویر سوشل میڈیا

 

دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقدہ اے آئی سمٹ کے دوران یوتھ کانگریس کے احتجاج سے متعلق درج مقدمے میں دہلی پولیس کی کارروائیاں جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں بدھ کو یوتھ کانگریس کارکنوں کی گرفتاری کے معاملے پر دہلی پولیس اور ہماچل پردیش پولیس آمنے سامنے آ گئیں۔

Published: undefined

اطلاعات کے مطابق دہلی پولیس کے تقریباً 20 اہلکاروں پر مشتمل خصوصی دستے نے شملہ کے علاقے روہڑو سے یوتھ کانگریس کے 3 عہدیداروں کو گرفتار کیا اور انہیں دہلی لے جانے کے لیے روانہ ہو گئی۔ تاہم مقامی پولیس کو اس کارروائی کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی اور نہ ہی ملزمان کو فوری طور پر مقامی عدالت میں پیش کیا گیا۔

Published: undefined

جب ہماچل پردیش پولیس کو اس کی اطلاع ملی تو سولن ضلع کے دھرم پور میں ناکہ بندی کر کے دہلی پولیس کی گاڑیوں کو روک لیا گیا۔ صبح تقریباً دس بجے جیسے ہی دہلی پولیس کی ٹیم دھرم پور پہنچی، سولن پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ بعد ازاں مقامی پولیس تینوں گرفتار کارکنوں کو دہلی پولیس کے ہمراہ شملہ واپس لے گئی تاکہ قانونی کارروائی مکمل کی جا سکے۔

Published: undefined

ذرائع کے مطابق شملہ کی عدالت میں تینوں کارکنوں کو پیش کیا گیا جہاں سماعت کے بعد عدالت نے دہلی پولیس کو ٹرانزٹ ریمانڈ منظور کر لیا۔ کاغذی کارروائی مکمل ہونے کے بعد دہلی پولیس تینوں کارکنوں کو اپنی تحویل میں لے کر دہلی کے لیے روانہ ہو گئی۔

گرفتار کیے گئے افراد کی شناخت سوربھ، سدھارتھ اور ارباز کے طور پر ہوئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس معاملے میں اب تک کل 11 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران بعض ضابطوں کی خلاف ورزی کی گئی تھی، جس کی بنیاد پر کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے، جبکہ کانگریس کے حلقوں میں اس اقدام پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined