قومی خبریں

دہلی-این سی آر میں صبح کے وقت شدید کہرا، آگرہ سے ہنڈن ہوائی اڈے تک حدِ بصارت صفر

مغربی ہمالیائی علاقوں اور گردونواح کے میدانی علاقوں میں 3 فروری تک بارش اور برفباری کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس دوران 30-40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل سکتی ہیں

ے کیو آئی

دہلی-این سی آر میں شدید کہرا / آئی اے این ایس

 
IANS

 ملک کی راجدھانی دہلی اور آس پاس کے علاقوں میں پیر (2 فروری) کی شروعات شدید کہرے کے ساتھ ہوئی۔ دہلی-این سی آر میں علی الصبح آسمان پر کہرے کی چادر نظر آئی۔ شمالی ہندوستان کے بیشتر حصوں میں کہرا چھایا ہوا ہے لیکن این سی آر سب سے زیادہ متاثر ہوا۔

Published: undefined

محکمہ موسمیات کے مطابق دہلی-این سی آر کے بیشتر علاقوں میں حد بصارت 50 میٹر سے بھی کم ہے، اس کی وجہ سے ٹریفک میں بری طرح خلل پڑ سکتا ہے۔ آنے والے گھنٹوں میں حد بصارت مزید خراب ہونے کا امکان ہے۔ آئی ایم ڈی کی پیشن گوئی کے مطابق پیر کی صبح دہلی میں آسمان پر بادل چھائے رہیں گے۔ شہر کے کئی علاقوں میں ہلکا کہرا رہے گا اور کچھ علاقوں میں درمیانے درجے کے کہرے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Published: undefined

دہلی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 20 سے 22 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ پنجاب، ہریانہ اور چندی گڑھ کے کچھ علاقوں میں صبح اور رات کے اوقات میں شدید کہرا 3 فروری تک برقرار رہے گا۔ ان ریاستوں میں ہلکی بارش بھی متوقع ہے۔

ملک بھر کے کئی ہوائی اڈوں پر آج حد بصارت صفر درج کی گئی۔ ان میں سرساوا، آگرہ، بریلی، ہنڈن (سبھی اتر پردیش میں) اور بھٹنڈا (پنجاب) شامل ہیں۔ اس دوران محکمہ موسمیات نے شدید کہرے سے متاثرہ کئی علاقوں میں اورنج سے ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔ دہلی، مغربی اتر پردیش اور ساحلی آندھرا پردیش میں اگلے 2 سے 3 گھنٹے کے لیے الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

Published: undefined

وہیں شمال مغرب کے ساتھ وسطی ہندوستان  کو فی الحال موسم کے بدلے مزاج سے راحت ملنے کی امید نہیں ہے۔ مغربی ہمالیائی علاقوں اور گردونواح کے میدانی علاقوں میں 3 فروری تک بارش اور برفباری جاری کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس دوران 30-40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل سکتی ہیں۔ بارش اور برفباری کے اثرات سے سردی میں اضافے کا امکان ہے کیونکہ اگلے 3 دنوں کے دوران کم سے کم درجہ حرارت میں 2 سے 4 ڈگری تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined