این سی پی مراٹھوں کی پارٹی ہے، اس کی قیادت کسی ’’پٹیل‘‘ کے ہاتھ میں نہیں جانی چاہئے: سنجے راؤت

سنجے راؤت نے دعویٰ کیا  ہےکہ اگر این سی پی کے دونوں دھڑے ضم ہوجاتے ہیں تو شرد پوار کا بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے کا امکان نہیں تھا۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مہاراشٹر میں این سی پی کو لے کر سیاسی ہنگامہ برپا ہے۔ دریں اثنا، شیوسینا (یو بی ٹی) کے رہنما سنجے راؤت نے اتوار  یعنی یکم فروری کو دعویٰ کیا کہ مہاراشٹر کے آنجہانی نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی پارٹی کے کچھ اراکین انہیں این سی پی کے دو دھڑوں کو متحد کرنے سے روک رہے تھے، انہیں  خوف  ہے کہ ایسا کرنے سے ان کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔

نئی دہلی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، سنجے راؤت نے کہا، "اجیت پوار نے اپنی این سی پی (نیشنلسٹ کانگریس پارٹی) اور اپنے چچا شرد پوار کی این سی پی (ایس پی) کو متحد کرنے کے تعلق سے اہم کردار ادا کیا اور اس مقصد کے لیے کئی میٹنگیں کی گئیں۔"


ادھو ٹھاکرے دھڑے کے رکن پارلیمنٹ راؤت نے کہا کہ اجیت پوار کو آخری دم تک شرد پوار پر پورا بھروسہ تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ این سی پی کے دو دھڑوں کے انضمام کی صورت میں شرد پوار کا بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے کا امکان نہیں ہے۔

این سی پی کے ورکنگ صدر پرفل پٹیل کو نشانہ بناتے ہوئے سنجے راوت نے کہا کہ این سی پی "پاٹل" (مراٹھی) لوگوں کی پارٹی ہے اور نائب وزیر اعلیٰ سنیترا پوار کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اس کی قیادت کسی "پٹیل" کے ہاتھ میں نہ جائے۔ واضح رہے کہ سنجے راؤت سے پہلے ایم این ایس کے سربراہ راج ٹھاکرے نے بھی کہا تھا کہ این سی پی کی قیادت ایک پاٹل (مراٹھی) کو کرنی چاہیے، پٹیل کو  نہیں۔


قابل ذکر ہے کہ این سی پی کے سربراہ اور نائب وزیر اعلی اجیت پوار اجیت پوار کی گزشتہ  بدھ کو پونے کے قریب بارامتی میں ہوائی جہاز کے حادثے میں موت ہوگئی۔ اس سے سیاسی حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی کہ دونوں این سی پی کا انضمام ممکن ہے یا نہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔