قومی خبریں

ایم سی ڈی اسکولوں میں ملی ڈرگس، شراب اور سگریٹ، ویمنس کمیشن نے جاری کیا نوٹس

دہلی ویمنس کمیشن نے دہلی میونسپل کارپوریشن کمشنر کو نوٹس جاری کیا ہے اور 2 جون تک کارروائی رپورٹ جمع کرنے کے لئے کہا ہے، کمیشن نے اسکولوں کی بدحالی کے لیے ذمہ دار افسران کی بھی تفصیل مانگی ہے۔

دہلی ویمنس کمیشن کی سربراہ سواتی مالیوال
دہلی ویمنس کمیشن کی سربراہ سواتی مالیوال تصویر آئی اے این ایس

دہلی ویمنس کمیشن نے حال ہی میں دہلی میونسپل کارپوریشن کے اسکولوں کا جائزہ لیا اور اس دوران کئی سنگین بے ضابطگیاں پائی گئیں۔ ڈی سی ڈبلیو کی ٹیم نے ایم سی ڈی کے اسکول احاطہ میں استعمال کی گئیں سیرینج، ڈرگس، شراب اور سگریٹ کے ڈبے پائے ہیں۔ کمیشن نے اسے سنجیدگی سے لیتے ہوئے ایسے اسکولوں کو نوٹس جاری کیا ہے۔

Published: undefined

دراصل دہلی ویمنس کمیشن نے حال ہی میں دہلی میونسپل کارپوریشن کے ذریعہ چلائے جا رہے اسکول میں لڑکیوں کے ساتھ جنسی استحصال کا سنگین معاملہ سامنے آنے کے بعد اسکولوں میں طالبات کی سیکورٹی کے حالات کی جانچ شروع کی تھی۔ دہلی ویمنس کمیشن کی سربراہ سواتی مالیوال، رکن پرومیلا گپتا، ساریکا چودھری، فردوس خان اور وندنا سنگھ کی ایک ٹیم نے 20 مئی اور 21 مئی 2022 کو 4 ایم سی ڈی اسکولوں- بھائی مندیپ ناگپال کارپوریشن اسکول، ارونا نگر (شمال)، مشرقی دہلی میونسپل کارپوریشن پرتبھا ودیالیہ مصطفیٰ آباد (مشرق)، جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن پرائمری کو-ایڈ اسکول، سنجے کالونی، بھاٹی مائنس (جنوب) کا اچانک معائنہ کیا۔ ٹیم نے اسکول عمارتوں کا جائزہ لیا اور ساتھ ہی طلبا واساتذہ اور اسکول کے دیگر ملازمین کے ساتھ بات چیت کی۔

Published: undefined

کمیشن نے اخذ کیا کہ اسکولوں کی حالت افسوسناک، غیر محفوظ اور فکر انگیز ہے۔ ہر اسکول کے دروازے کھلے تھے اور اسکولوں میں سیکورٹی گارڈ نہیں تھے۔ ارونا نگر کے اسکول میں نشہ کرنے والے لوگ کئی بار اسکول احاطہ میں گھس جاتے ہیں اور افسران کو دھمکاتے ہیں۔ کیول پارک کے اسکول میں استعمال کی گئی سیرینج، ڈرگس، سگریٹ کے ڈبے، گٹکا کے ریپر اور یہاں تک کہ ٹوٹی ہوئی شراب کی بوتلیں دیکھ کر کمیشن کے لوگ حیران رہ گئے۔ کمیشن نے اس معاملے میں فوری ایف آئی آر درج کرنے کی سفارش کی ہے۔

Published: undefined

جانچ میں بیشتر اسکولی عمارتیں سنگین طور پر مخدوش اور بچوں کے لیے غیر محفوظ پائی گئیں۔ کیول پارک میں اسکول کی بغیر پلاسٹ والی عمارت، جس میں تقریباً 800 طلبا کو رکھا گیا تھا، میں 2018 میں شمالی دہلی مونسپل کارپوریشن کے ذریعہ ایک بورڈ لگایا گیا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ عمارت کے چھجے خراب ہیں، برائے کرم دوری بنائے رکھیں۔ عمارت میں تنبیہ سے متعلق بورڈ لگے ہونے کے باوجود بچوں کو سنگین جوکھم میں ڈال کر وہاں پڑھایا جا رہا ہے۔ ارونا نگر کے اسکول میں چھت اور دیواروں کے حصے کئی بار گر چکے ہیں اور بچے اور اسٹاف کئی بار بال بال بچے ہیں۔ شدید گرمی میں بچے ٹن شیڈ میں بیٹھنے کو مجبور ہیں۔

Published: undefined

کمیشن نے یہ بھی دیکھا کہ اسکولوں میں ایک بھی سی سی ٹی وی کیمرہ کام نہیں کر رہا تھا۔ اسکولوں کے ساتھ ساتھ بیت الخلاء بھی بے حد گندے تھے۔ کئی مقامات پر فرش پر غلاظتیں پھیلی ہوئی تھیں اور کسی بھی بیت الخلاء میں صابن نہیں تھا۔ ساتھ ہی کئی بیت الخلاء کے دروازے ٹوٹے ہوئے تھے یا جنھیں اندر سے بند نہیں کیا جا سکتا تھا، جو بچوں کی سیکورٹی اور پرائیویسی کو لے کر سنگین فکر کا باعث ہے۔ بھاٹی مائنس کے اسکول میں لڑکیوں کے بیت الخلاء پر تالا لگا ہوا تھا اور بیت الخلاء میں پانی کا کنکشن نہیں ہونے کے سبب لڑکے و لڑکیاں کھلے میں بیت الخلاء کرنے کو مجبور ہیں۔

Published: undefined

کمیشن کے مطابق بھاٹی مائنس کے اسکول میں یہ دیکھا گیا کہ صبح 9 بجے (اسکول شروع ہونے کے 1.5 گھنٹے بعد بھی) لڑکیوں کے لیے 9 میں سے 3 کلاسز میں استاد نہیں پہنچے تھے۔ تب تک اسکول انچارج بھی اسکول میں موجود نہیں تھے۔ کمیشن کو طلبا نے بتایا کہ اساتذہ عام طور پر صبح 9 بجے کے بعد اسکول آتے ہیں۔ سبھی اسکولوں میں کلاسز میں طلبا کی کافی بھیڑ تھی اور یہ واضح تھا کہ ٹیچر-اسٹوڈنٹ تناسب کے پیمانوں پر عمل نہیں کیا جا رہا۔ غالباً ٹیچرس کی کمی کے سبب بچوں کو کچھ کمروں میں گرمی میں ایک ساتھ بھر دیا جاتا ہے، جب کہ اسکولوں میں کئی کلاسز خالی دکھائی دے رہے تھے۔

Published: undefined

کمیشن کو بتایا گیا کہ میونسپل کارپوریشن اپنے اسکول میں پڑھنے والے بچوں کے لیے صبح ساڑھے سات بجے سے گیارہ بجے تک گرمائی کلاسز چلا رہا ہے۔ اس کے باوجود کسی بھی اسکول میں دوپہر کا کھانا نہیں دیا جا رہا تھا۔ ارونا نگر کے اسکول میں اسے مینجمنٹ کے ذریعہ بتایا گیا کہ وہ شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن کے حکم کے مطابق فی طالب علم روزانہ 2 کیلے دے رہے تھے، دیگر کسی بھی اسکول میں ایسا نہیں ہو رہا تھا۔

Published: undefined

کمیشن نے یہ بھی اخذ کیا کہ اسکولوں میں مناسب بنچ دستیاب نہیں تھی۔ بھاٹی مائنس کے اسکولوں میں کچھ طلبا کو ڈیسک کی کمی کے سبب فرش پر چٹائی بچھا کر بیٹھنے کو مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ ساتھ ہی اسکولوں کے بیشتر ڈیسک میں کیلیں نکلیں ہوئی تھیں، جس سے بچے زخمی ہو سکتے تھے۔ کمیشن نے اسکولوں میں مناسب پینے کے پانی کی عدم دستیابی بھی پائی۔ بھاٹی مائنس اسکول میں صرف ایک ہی جگہ پر پینے کا پانی دستیاب تھا، اور وہ بھی بہت گندہ تھا۔

Published: undefined

کمیشن نے اس تعلق سے دہلی میونسپل کارپوریشن کمشنر کو نوٹس جاری کیا ہے اور 2 جون تک تفصیلی کارروائی رپورٹ طلب کی ہے۔ کمیشن نے اسکولوں کی بدحالی کے لیے ذمہ دار افسران کی تفصیل بھی مانگی ہے اور میونسپل کارپوریشن سے ان کے خلاف کارروائی کرنے کو کہا ہے۔ اس معاملے میں دہلی ویمنس کمیشن کی سربراہ سواتی مالیوال نے کہا کہ میں دہلی میونسپل کارپوریشن کے اسکولوں کی مایوس کن حالت دیکھ کر حیران ہوں۔ یہ اسکول ڈراؤنے گھر جیسے ہیں جہاں طلبا اور اساتذہ بے حد غیر محفوظ ہیں۔ بغیر سیکورٹی گارڈ اور سی سی ٹی وی کے اسکول کیسے چل سکتا ہے؟

Published: undefined

مالیوال نے کہا کہ جس عمارت میں ایم سی ڈی نے ہی بورڈ لگا کر لوگوں سے عمارت مخدوش ہونے کے سبب دور رہنے کی گزارش کی ہو، اس عمارت میں اسکول کیسے ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں ایم سی ڈی ایسے اسکول چلا رہی ہے جہاں لڑکیوں کو کھلے میں بیت الخلاء کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔ یہ کیسی ’سوچھ بھارت مہم‘ ہے۔ یہ حالات بہت ہی فکر انگیز ہیں اور بچوں کے مستقبل کی سیکورٹی کے لیے فوری قدم اٹھائے جانے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اس معاملے میں دہلی میونسپل کارپوریشن کمشنر کو نوٹس جاری کیا ہے۔ حالات میں فوری بہتری آنی چاہیے اور اسکولوں کی ایسی مایوس کن حالت کے لیے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined