قومی خبریں

ہتک عزت کیس: گجرات ہائی کورٹ نے راہل گاندھی کی عرضی کو کیا خارج، سیشن کورٹ کی سزا کو برقرار رکھا

ہائی کورٹ نے سیشن کورٹ کے اس حکم کو برقرار رکھا ہے جس میں 'مودی کنیت' کے ریمارک کے خلاف ہتک عزت کیس میں راہل گاندھی کی سزا پر روک لگانے سے انکار کیا گیا تھا

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی تصویر @INCIndia</p></div>

راہل گاندھی تصویر @INCIndia

 

گاندھی نگر: مودی کنیت ہتک عزتی کے معاملہ میں گجرات ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے راہل گاندھی کی عرضی کو خارج کر دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے سیشن کورٹ کے اس حکم کو برقرار رکھا ہے جس میں 'مودی کنیت' کے ریمارک کے خلاف ہتک عزت کیس میں راہل گاندھی کی سزا پر روک لگانے سے انکار کیا گیا تھا۔

Published: undefined

اس فیصلے کے بعد راہل گاندھی الیکشن نہیں لڑ سکیں گے اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ (ایم پی) کی اپنی حیثیت کی معطلی کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کر سکیں گے۔ وہ ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتے ہیں۔ گجرات ہائی کورٹ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کی سزا کا حکم مناسب ہے، مذکورہ حکم میں مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لیے عرضی خارج کی جاتی ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ راہل گاندھی کے خلاف کم از کم 10 مجرمانہ مقدمات زیر التوا ہیں۔

Published: undefined

خیال رہے کہ یہ معاملہ 2019 کے انتخابات کے دوران ایک جلسہ عام سے متعلق ہے جہاں راہل گاندھی نے مودی کنیت پر تبصرہ کیا تھا۔ گجرات کے بی جے پی لیڈر پورنیش مودی نے راہل گاندھی کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ راہل گاندھی مودی سرنام کے لوگوں کو بدنام کیا ہے۔

Published: undefined

جسٹس پرچھک نے مئی میں راہل گاندھی کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کوئی عبوری راحت دینے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ موسم گرما کی تعطیلات کے بعد حتمی حکم جاری کریں گے۔

سورت کی میٹروپولیٹن مجسٹریٹ عدالت نے 23 مارچ کو راہل گاندھی کو پورنیش مودی کی طرف سے 2019 کے ایک مقدمے میں تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 499 اور 500 (مجرمانہ ہتک عزت) کے تحت قصوروار قرار دیتے ہوئے دو سال جیل کی سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے کے بعد گاندھی کو عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت پارلیمنٹ کی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔ راہل گاندھی کیرالہ کے وائناڈ سے لوک سبھا کے رکن تھے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined