پریس کانفرنس کے دوران اروند کیجریوال (ویڈیو گریب)
نئی دہلی: گوا میں عام آدمی پارٹی کے شریک انچارج دیپک سنگلا کی گرفتاری اور ان کے ٹھکانوں پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ یعنی ای ڈی کی کارروائی کے بعد سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ عام آدمی پارٹی نے اس کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے مرکز کی بی جے پی حکومت پر مرکزی ایجنسیوں کے غلط استعمال کا الزام عائد کیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی آواز دبانے کے لیے جان بوجھ کر کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
Published: undefined
عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے کہا کہ دیپک سنگلا کو کسی غیر قانونی کام کی وجہ سے گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ ان کا قصور صرف یہ ہے کہ انہوں نے بی جے پی کے خلاف سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں اور حکمراں جماعت میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ دیپک سنگلا اور پنجاب سے راجیہ سبھا رکن سنجیو اروڑا جیسے رہنما بہادر اور وطن دوست ہیں اور عوام ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
Published: undefined
گوا کی انچارج اور دہلی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف آتشی نے کہا کہ ملک اس وقت بے روزگاری، مہنگائی، پٹرول، ڈیزل اور سی این جی کی بڑھتی قیمتوں جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے، لیکن مرکزی حکومت اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گوا میں عام آدمی پارٹی کی بڑھتی مقبولیت سے بی جے پی پریشان ہے اور آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر مرکزی ایجنسیوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
آتشی نے مزید کہا کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوران بھی مرکزی ایجنسیوں کا استعمال اپوزیشن جماعتوں کے خلاف کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق اس وقت انتخابی حکمت عملی اور اہم اعداد و شمار حاصل کرنے کے لیے چھاپے مارے گئے تھے اور اب گوا میں بھی اسی طرز کی کارروائیاں دہرائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ صرف بڑے رہنماؤں ہی نہیں بلکہ عام کارکنان کے گھروں پر بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
Published: undefined
عام آدمی پارٹی کے رہنما منیش سسودیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ بی جے پی مرکزی ایجنسیوں کے ذریعے اپوزیشن کو انتخابی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اس سے ملک کی معاشی مشکلات یا روپے کی گرتی قدر نہیں رک سکتی۔ دوسری جانب سوربھ بھاردواج نے بھی الزام لگایا کہ ای ڈی، سی بی آئی اور دیگر ایجنسیوں کے ذریعے عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔
پارٹی نے واضح کیا کہ وہ ان کارروائیوں سے خوفزدہ ہونے والی نہیں ہے اور گوا میں بی جے پی حکومت کے خلاف اپنی سیاسی مہم جاری رکھے گی۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined