بہار میں 9 پلوں پر خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں، آئی آئی ٹی پٹنہ کی رپورٹ کے بعد حکومت الرٹ
آئی آئی ٹی پٹنہ کو ریاست کے 85 پلوں کے اسٹرکچرل آڈٹ کو مکمل کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھے، جن میں سے 47 پلوں کی رپورٹ تیار ہو گئی ہے۔

بہار میں کم از کم 9 ایسے پل ہیں جن کی حالت خراب ہے۔ ان پلوں کو درست کرنے کے لیے فوری طور پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ انکشاف ’انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی‘ (آئی آئی ٹی) پٹنہ کے اسٹرکچرل آڈٹ میں ہوا ہے۔ اسٹرکچرل آڈٹ ٹیم نے اپنی رپورٹ روڈ کنسٹرکشن ڈپارٹمنٹ کو سونپ دی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال جون میں اسٹرکچرل آڈٹ کو لے کر کام شروع ہوا تھا، جس کی رپورٹ اب آئی ہے۔
آئی آئی ٹی پٹنہ کو ریاست کے 85 پلوں کے اسٹرکچرل آڈٹ کو مکمل کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھے، جن میں سے 47 پلوں کی رپورٹ تیار ہو گئی ہے۔ دراصل ریاستی حکومت نے یہ قدم تب اٹھایا تھا جب اگوانی گھاٹ پل کا ایک حصہ گرا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ باقی پلوں کی اسٹرکچرل آڈٹ رپورٹ بھی جلد ہی حکومت کو سونپ دی جائے گی۔
رپورٹس کے مطابق آئی آئی ٹی کی رپورٹ کا مطالعہ ’بہار اسٹیٹ برج کنسٹرکشن کارپوریشن‘ کے ذریعہ کیا جا رہا ہے۔ آڈٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کم از کم 9 ایسے پل ہیں جن پر فوری مرمت کی ضرورت ہے۔ ان میں مظفرپور میں 2 پل موجود ہیں۔ ایک پل ریلوے اسٹیشن اور دوسرا گنڈک پر بنا ہے جو بس اسٹینڈ کے راستے میں ہے۔ یہ علاقہ بیریا اور زیرو مائل کے درمیان کا ہے۔ جبکہ گیاجی میں 3 ایسے پل ہیں جن پر فوری طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں ایک پل بسنت پور سے سلونجا کے درمیان ہے، جبکہ دوسرا چٹکی-دریاپور-گورا روڈ اور تیسرا گیاجی میں راج بیگھا اور بیلدار بیگھا کے درمیان میں ہے۔ اسی طرح لکھی سرائے میں 2 پل ایسے ہیں جن پر مرمت کا کام کرنے کی ضرورت ہے، جن میں ایک آر او بی کے قریب اور دوسرا شہر میں ہی ہے۔ حاجی پور میں ریلوے کے پرانے پل کے پاس بھی ایک پل ہے جسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ’بہار اسٹیٹ برج کنسٹرکشن کارپوریشن‘ نے اپنے مطالعے میں جن 9 پلوں کی خامیوں کی نشاندہی کی ہے، انہیں فوری طور پر درست کرنے کا کام بھی شروع کیا جائے گا۔ یہ تمام پل کافی پرانے ہیں۔ ان سب کی مرمت کے لیے الگ سے ٹینڈر نکالے جائیں گے۔ محکمہ کی سطح پر افسران کو پہلے ہی یہ ہدایات جاری کی جا چکی ہیں کہ آئی آئی ٹی کی تیار کردہ رپورٹ پر سختی سے عمل کیا جانا چاہیے۔ خاص بات یہ ہے کہ آئی آئی ٹی پٹنہ کے ذریعے جن پلوں کا اسٹرکچرل آڈٹ کرایا گیا ہے، یہ تمام 60 میٹر سے زیادہ لمبائی والے ہیں۔ 60 میٹر سے کم لمبائی والے پلوں کی دیکھ بھال، مینٹیننس پالیسی کے تحت متعلقہ سڑک پر کام کرنے والی کمپنی کے ذریعے کرائی جاتی ہے۔
