بندر کیا جانے ادرک کا سواد!... پربھات سنگھ

سرکاری لسٹ میں ٹھگو لکھنا شاید مصاحبوں کو پسند نہ آیا ہوگا۔ بَن-مکھن کبھی کھایا نہ ہوگا تو فوڈ ولاگرس پر اعتبار کر کے کانپور کے آگے سموسہ لکھ مارا۔ امَاں، سموسہ تو الٰہ آباد کا مقبول ہے۔

<div class="paragraphs"><p>سموسہ، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

پربھات سنگھ

google_preferred_badge

دہلی میں ایک عزیز کے گھر کھانا کھانے گیا۔ میز پر جو تھالی تھی، اس میں کئی مارواڑی پکوانوں کے ساتھ ایک کٹوری میں لوکی کے لچھے بھی پیش کیے گئے تھے۔ تجسّس میں پوچھ لیا، کہاں سے منگوائے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ الٰہ آباد سے، ماتادین کے یہاں کے ہیں۔ دہلی میں ایسے ذائقے والی مٹھائی کہاں میسر! اور یہ پرسائی والے ماتادین نہیں ہیں، نہ ہی پریاگ راج کے۔ ان کے یہاں کے گھیّا کے لچھے، گھیور اور گجک کا ذائقہ زمانے سے الٰہ آبادیوں کی زبان پر چڑھا آیا ہے، شہر تو خیر اب جا کر پریاگ راج ہوا ہے۔ لوک ناتھ میں ان کے ٹھکانے پر مٹھائی باندھنے کے لیے اب بھی اخباری کاغذ اور سوت کی ڈوری ہی استعمال ہوتی ہے۔ اس شام کا ذکر اس لیے کر رہا ہوں کہ اگلے ہی روز کے اخباروں میں پڑھنے کو ملا کہ یوپی حکومت نے دیسی ذائقوں کو فروغ دینے کی کوشش میں ’ایک ضلع، ایک پکوان‘ منصوبہ کی ایک فہرست جاری کی ہے، جس میں 208 پکوان شامل ہیں۔ اس خبر میں حیران کرنے والی ایک بات تو یہی تھی کہ صوبے میں ضلع تو 75 ہی ہیں، ایک پکوان کے حساب سے 75 ذائقے ہونے چاہیے تھے۔ مگر آپ تو جانتے ہی ہیں کہ مصاحبوں کی جماعت جو کرے، تھوڑا ہے۔

لیکن سوشل میڈیا کے رضاکاروں کی بھنویں تن گئیں۔ اس فہرست میں کباب-بریانی وغیرہ کا ذکر نہ ہونے پر غدر مچ گیا۔ خود اعتمادی کے سمندر میں غوطے لگانے والی اس جماعت کی مشکل یہ ہے کہ بسیں نہیں پڑھتے۔ جو لوگ یوپی کی سرکاری بسیں پڑھتے آئے ہیں، انہیں معلوم ہی ہوگا کہ ایک زمانے میں ’تو سچا تیرا نام سچا‘ کے منتر سے سجی رہنے والی بسوں کا نیا ترغیبی نعرہ ہے ’پشو پر دیا کرو‘۔ ہنگامے کی دوڑ میں شہر لکھنؤ کو یونیسکو سے ملا تمغہ بھول ہی گئے، جو گلاوٹ کے کباب سے لے کر شیرمال تک سب کے ذائقے کو تسلیم کرتا ہے۔ اب ایسے تو اس لسٹ میں ساہوکارے کا آلو-سوال ہی نہیں ہے، افیمی کے چھولے نہیں ہیں، پریاگ والے دیہاتی کا جبر-جبر رس گلا (اسے گلاب جامن پڑھیں) نہیں ہے، فیض آباد کا فرا نہیں ہے، پانڈے پور والے سردارجی کی لونگ لتا نہیں ہے، رامپوری گلتھی نہیں ہے، سنڈیلا اور ٹھگّو کے لڈو بھی نہیں ہیں، تو کیا سمجھا جائے! ہونے کو تو بہت کچھ نہیں ہے۔


تو سوشل میڈیا کے اکھاڑے میں بحث و مباحثہ اس فہرست پر ہوتا تو سمجھ میں بھی آتا۔ جو اس میں نہیں ہے، اس پر بحث کیوں کرنا! اور جو ان کی سمجھ میں سچ مچ کچھ بھی آیا ہوتا تو بھلا چترکوٹ کا ماوا، رائے بریلی کے مصالحے اور غازی آباد کا سویا چاپ اس لسٹ میں ہوتے! سمجھ پاتے تو ہر ضلع کے کسی ایک پکوان کا نام لیتے (یعنی ’کسی ایک پھول کا نام لو‘ ٹائپ) یا پھر اس منصوبے کو ’ایک ضلع، پکوان تمام‘ نام دیا ہوتا۔ ارے، لسٹ تو اپنے منشی جی بناتے تھے، پورے بھروسے کے ساتھ۔ مارچ 1920 میں ’سودیش‘ میں چھپی ان کی کہانی ’منشیہ کا پرم دھرم‘ پڑھ کر دیکھیے، جس میں پیٹو-شیرو منی موٹے رام شاستری سے انہوں نے کہلوایا ہے کہ ’’میرا اپنا خیال ہے اگر آپ کی تھال میں جونپور کی امرتیاں، آگرہ کے موتی چور، متھرا کے پیڑے، بنارس کی کلاکند، لکھنؤ کے رس گلے، ایودھیا کے گلاب جامن اور دہلی کا سون حلوہ ہو تو وہ ایشور بھوگ کے لائق ہے۔ دیوتا تو اس پر مدہوش ہو جائیں گے۔‘‘ خالص ایک ضلع ایک پکوان کا بکھان۔ ایسے ہی تھال کے بارے میں پَرسائی بتا گئے ہیں کہ ’’اچھا کھانا کھانے کے بعد میں اکثر انسان دوست ہو جاتا ہوں۔‘‘ اس لحاظ سے آپ چاہیں تو تازہ فہرست کو انسان دوستی کی مہم بھی مان سکتے ہیں۔

منشی جی کے زمانے میں ’نمک کے دروغہ‘ ہوتے تھے، ایف ڈی اے نہیں۔ اسی لیے ایک سانس میں ماوے کی اتنی مٹھائیوں کے نام گنوا گئے۔ اب تو حال یہ ہے کہ ہولی-دیوالی کے آس پاس سرگرم ایف ڈی اے والے کئی کئی کوئنٹل ماوا اور پنیر روز بلڈوزر تلے دبا ڈالتے ہیں، مٹھائیوں کی دکانوں پر چھاپے مار رہے ہوتے ہیں، سموسے کے سیمپل بھر رہے ہوتے ہیں۔ کہیں گھی نقلی، تو کہیں تیل۔ ایف ڈی اے والے سہالگ کے دنوں میں بھی مصروف رہنے لگے ہیں۔ مگر زبان کے ماروں کو اس کی فکر اس لیے نہیں ہوتی کہ ان نمونوں کی رپورٹ ہی اگلے سال تک میسر ہوتی ہے۔ تو مجھے لگتا ہے کہ مکھن ملائی، دہی-جلیبی یا سنگھاڑا کچری کی مارکیٹنگ کے مسئلے پر بہت سر کھپانے سے اچھا ہے کہ ان ذائقوں کے بارے میں بات کی جائے جو سرفہرست ہیں۔


اس سرکاری لسٹ میں ٹھگّو لکھنا شاید مصاحبوں کو راس نہ آیا ہوگا، بَن-مکھن کبھی کھایا نہ ہوگا تو فوڈ ولاگرز پر اعتبار کر کے کانپور کے آگے سموسہ لکھ مارا۔ امَاں، سموسے کے نام پر جو شے مقبول ہے، وہ تو الٰہ آبادی سموسہ ہے، ورنہ ہر شہر کے ہر محلے میں ایک آدھ حلوائی ایسا ضرور نکل آئے گا جس کے سموسے کی طوطی بولتی ہوگی۔ جس نے بریلی میں کمار ٹاکیز یا پھر پورن حلوائی کے، تلہر میں امن اور جھونسی میں بابا کے سموسے کبھی نہ کھائے ہوں، ایسی چوک وہی کر سکتا ہے۔ فتح پور کی بیڑمی ابھی تک نہ چکھ پانے کا گناہگار ہوں، مگر باندا میں کھائی ہے نا! ہاتھرس میں، ورنداون میں، متھرا اور آگرہ میں بھی کھائی ہے۔ یہ برج کے علاقے کا پسندیدہ ناشتہ ہے اور باندا میں باسو حلوائی کے یہاں ہو بہو برج جیسا ہی ذائقہ پایا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ورنداون سے 2 کاریگر بلا لائے تھے۔ حیرت نہیں کہ فتح پور میں بھی کسی نے ایسا ہی کیا ہو۔ ابھی تک تو ملاواں کے پیڑوں سے ہی فتح پور کو پہچانتا آیا تھا۔ باندا میں بوڑے رام حلوائی کے سون حلوے کا قائل ضرور ہوں۔ اور میں کیا، زمانہ قائل ہے۔

علی گڑھ کے ساتھ کچوری اور امرتی کا نام درج دیکھا، سو سوچا لگے ہاتھ یہ بھی بتاتا چلوں کہ وہ جو رائتہ پھیلانے والی کہاوت ہے نا، اس کی ایجاد کا علی گڑھ کی اس کچوری سے کوئی واسطہ ضرور ہے۔ میدے کی ایک دم ٹھوس تھپوا جیسی چیز، نہ نزاکت، نہ بھراؤن... جانے کیوں اسے کچوری کہتے ہیں، کے ساتھ جو سبزی پیش کی جاتی ہے، اس کی تاثیر یہ ہے کہ کھانے والے کے کان سے دھواں نکلنے لگے اور سبزی کے ساتھ ملنے والا رائتہ اس دھویں پر چھینٹے مارنے کے کام آتا ہے۔ پلاسٹک کے باریک گلاس میں ملنے والا دبلا پتلا رائتہ کئی بار گلاس ٹیڑھا میڑھا ہوتے ہی پھیل جاتا ہے۔ امرتی علی گڑھ کے مشہور ہونے کی خبر ابھی لگی۔ خالد بھائی اپنے تجربے سے بتاتے ہیں کہ کباب کی دکان کے آس پاس مٹھائی کی کوئی دکان ضرور دکھائی دے جاتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ لسٹ بنانے والے بھی اس ٹوٹکے سے واقف ہوں۔


کشی نگر والوں نے کیلے حال میں ہی اگانے شروع کیے ہیں۔ کیلے کے چپس کب ان کی پہچان بن گئے، زمانے کو خبر ہی نہیں ہوئی۔ گورکھپور میں کوئی لٹی-چوکھا یا سموسہ مشہور ہے، یہ تو لٹی-مٹن کے شوقین گورکھپوری بھی شاید نہ مانیں۔ ویسے بھی، وہ تو دھرم شالہ پل کے قریب ملنے والی امرتی، چوری چورا کے لہسن والے چھولے اور شہر بھر میں ملنے والے ستّو کے شربت پر ہی فدا ہیں۔ نام درج کرنے سے پہلے مصاحبوں یا ان کے کارکنوں نے قنوج اور جونپور کے گٹّے چکھ کر بھی دیکھ لیے ہوتے اور اپنی زبان کو ہی بھروسے کے لائق مان لیتے تو لسٹ کی صورت کچھ اور ہوتی۔ ویسے آپ کو لگتا ہے کہ آگرے کا پیٹھا، بنارس کے پان، پنڈرا کا گلاب جامن، میرٹھ کی گجک-ریوڑی، ہاپوڑ کے پاپڑ، ہاتھرس کی ربڑی، پرتاپ گڑھ کے آملے، بلیا کے ستّو، فرخ آباد کی دالموٹ، رامپور کے حبشی حلوے، جونپور کی امرتی، تِلہر کی لَونج یا بدایوں کے پیڑے کو مقبول ہونے کے لیے سرکاری امداد کی ضرورت ہے؟ تمام شہروں کے خاص ذائقے کو عوام نے پہلے سے ہی مقبول بنا رکھا ہے۔ آپ للت پور کے نام باجرے کی روٹی درج کر لو، مگر سالن کیا ہوگا، یہ تو عوام ہی طے کرے گی نا!

آپ اگر ’ایک ضلع، ایک پیداوار‘ کے نتائج سے واقف ہیں تو پھر رام چڑیا، رام کے کھیت... گنگنائیے، سوشل میڈیا کے اس ہنگامے میں کچھ نہیں دھرا ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔