
سائبر سیکورٹی/آئی اے این ایس
تقریباً 51 فیصد ہندوستانی کمپنیاں اس بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ سائبر سیکورٹی میں ’سائبر حملہ‘ ان کی کمپنیوں کی کارکردگی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اتوار (8 فروری) کو جاری ایف آئی سی سی آئی اور ای وائی کی ’رسک سروے‘ رپورٹ میں یہ بات کہی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق 49 فیصد کمپنیوں نے کہا کہ صارفین کی بدلتی ہوئی ضروریات اور توقعات ایک بڑا خطرہ ہیں، جبکہ 48 فیصد کمپنیوں نے عالمی سیاسی واقعات (جیسے جنگ یا بین الاقوامی کشیدگی) کو بڑا خطرہ بتایا۔
Published: undefined
واضح رہے کہ یہ رپورٹ مختلف سیکٹر کے سینئر افسران کی آراء پر مبنی ہے۔ اس میں قیمتوں کے تعین، سپلائی چین، ملازمین کی حکمت عملی اور تکنیکی سرمایہ کاری کو متاثر کرنے والے عوامل پر روشنی ڈالی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب کمپنیوں کے لیے رسک مینجمنٹ بہت ضروری ہو گیا ہے۔
Published: undefined
ایف آئی سی سی آئی کی کارپوریٹ سیکورٹی اور ڈیزاسٹر رسک کمیٹی کے چیئرمین راجیو شرما نے کہا کہ آج غیر یقینی کاروباری ماحول میں خطرات کو پہلے سے سمجھنا، ان کا سامنا کرنا اور اس کے مطابق خود کو ڈھالنا طویل مدتی ترقی کے لیے بہت ضرورری ہے۔ اب کمپنیاں خطرات کو کبھی کبھار پیش آنے والا مسئلہ نہیں سمجھتیں، بلکہ اسے اپنی حکمت عملی اور مستقبل کے منصوبوں کا لازمی حصہ بنا رہی ہے۔
Published: undefined
سروے میں 61 فیصد لوگوں نے کہا کہ تیز رفتار تکنیکی اور ڈیجیٹل تبدیلیاں ان کی مسابقت کو متاثر کر رہی ہیں، جبکہ اتنے ہی یعنی 61 فیصد لوگوں کا ماننا ہے کہ سائبر حملے اور ڈیٹا چوری سے کمپنیوں کو مالی نقصان اور بدنامی دونوں ہی ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 57 فیصد کمپنیوں کو ڈیٹا چوری اور کمپنی کے اندر سے ہونے والی دھوکہ دہی کا خوف ہے۔ 47 فیصد کمپنیوں نے مانا کہ انہیں بڑھتے ہوئے اور پیچیدہ سائبر خطرات سے نمٹنا ان کے لیے مشکل ہو رہا ہے۔
Published: undefined
آرٹیفیشیل انٹیلی جنس (اے آئی) کے حوالے سے بھی 2 طرح کے خطرات سامنے آ رہے ہیں۔ سروے میں 60 فیصد لوگوں نے کہا کہ اگر اے آئی جیسی تکنیکوں کو صحیح طریقے سے نہیں اپنایا گیا تو کام پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ جبکہ 54 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ اے آئی سے متعلق اخلاقی اور قانونی ضوابط کے خطرات کو صحیح طریقے سے نہیں سنبھالا جا رہا ہے۔ ای وائی انڈیا کے رسک کنسلٹنگ لیڈر سدھاکر راجندرن نے کہا کہ آج کمپنیاں ایسے دور سے گزر رہی ہے، جہاں کئی طرح کے خطرات الگ الگ ہونے کے بجائے ایک ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔
Published: undefined
سدھاکر راجندرن نے یہ بھی بتایا کہ مہنگائی، سائبر خطرات، اے آئی کے قوانین، موسمیات سے منسلک خطرہ اور حکومتی ضوابط، یہ تمام مل کر کمپنیوں کی مضبوطی اور کارکردگی کو متاثر کر رہے ہیں۔ اس لیے اب کمپنیوں کے بورڈ کو زیادہ محتاط رہنے، بہتر معلومات پر توجہ دینے اور خطرات سے نمٹنے کی حکمت عملی کو اپنے مرکزی منصوبے میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined