
پلاسٹک روزمرہ کی زندگی کا سب سے عام حصہ بن چکی ہے لیکن یہی سہولت اب صحت کے لیے بڑے خطرے کے طور پر سامنے آرہی ہے۔ ایک نئی بین الاقوامی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر پلاسٹک کی پیداواراوراستعمال کا موجودہ انداز جاری رہا تو سال 2040 تک دنیا بھرمیں انسانی زندگی کے 8.3 کروڑ صحت مند سال کم ہو سکتے ہیں۔ ماہرین اسے سست مگر خطرناک غیر مرئی وبائی بیماری قرار دے رہے ہیں۔
Published: undefined
ممتاز طبی جریدے ’لینسیٹ پلینیٹری ہیلتھ‘ میں شائع ہونے والی تحقیق میں پلاسٹک کے پوری زندگی کے دوران ہونے والے اثرات کی پیمائش کی گئی۔ اس تحقیق میں خام تیل اور گیس نکالنے سے لے کر پلاسٹک کی پیداوار، استعمال اور کچرے کو ٹھکانے لگانے تک ہر مرحلے کو شامل کیا گیا۔ اس تحقیق کی قیادت لندن اسکول آف ہائیجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کی ایک ٹیم نے کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پلاسٹک کے خطرات صرف کچرے تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ پیداوار کے وقت سے ہی شروع ہوجاتے ہیں۔
Published: undefined
محققین کے مطابق پلاسٹک کی پیداوار کے ہرمرحلے پر زہریلے عناصرخارج ہوتے ہیں۔ پیداوار کے دوران گیس اور کیمیکل ہوا میں جاتے ہیں. مائکرو پلاسٹک کے ذرات استعمال کے دوران خوراک اور پانی میں داخل ہوجاتے ہیں۔ کچرے کو جلانے یا گلانے سے زہریلا دھواں پھیلئتا ہے۔ یہ مرکبات سانس کی بیماریوں، ہارمونل عدم توازن اور کینسر جیسے خطرات میں اضافہ کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ پلاسٹک کا اثرپیدائش سے لے کر بڑھاپے تک صحت پر پڑسکتا ہے۔
Published: undefined
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ پلاسٹک کے بہت چھوٹے ذرات جنہیں مائیکرو پلاسٹک کہا جاتا ہے، اب ہوا، پانی اور مٹی میں مل چکے ہیں۔ یہ ذرات جسم کی گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں۔ ان کے ساتھ جڑے کیمیکلز جسم کے خلیات اور ہارمونل سسٹم کو متاثر کر سکتے ہیں۔ طویل مدت میں، یہ دل، پھیپھڑوں اور تولیدی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ کئی کیمیکلز کو ممکنہ کینسر کی وجہ بھی مانا گیا ہے۔
Published: undefined
پلاسٹک نہ صرف صحت کو براہ راست بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے ذریعے بھی متاثر کرتی ہے۔ پلاسٹک کی صنعت کا انحصار تیل اور گیس پر ہے جس سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہوتا ہے۔ کچرے کو جلانے سے زہریلی گیسیں خارج ہوتی ہیں، جس سے گرمی، آلودگی اور بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ماحولیاتی اور صحت کے خطرات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
Published: undefined
ن حالات میں سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ بحران ابھی روکا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے آدھے ادھورے اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔ پلاسٹک کی پیداوار کو کم کرنا، محفوظ متبادل میں اضافہ اور کچرے کے انتظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر ابھی سخت پالیسیوں پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو آنے والے سالوں میں اس کا بوجھ صحت کے نظام پر بھاری پڑے گا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined