قومی خبریں

پٹنہ واقعے کے بعد پپو یادو کا قدم، ہاسٹلوں میں رہنے والی طالبات کے لیے ہیلپ لائن جاری

پورنیا سے لوک سبھا ایم پی پپو یادو نے ہاسٹلوں میں رہنے والی طالبات کے لیے ہیلپ لائن نمبر جاری کیا ہے۔ انہوں نے لڑکیوں سے عاجزانہ اپیل کی ہے کہ وہ گھبرائیں نہیں اور فوری طور پر فون کر کے رابطہ کریں

<div class="paragraphs"><p>پپو یادو کی فائل تصویر / آئی اے این ایس</p></div>

پپو یادو کی فائل تصویر / آئی اے این ایس

 

 پٹنہ میں این ای ای ٹی کی طالبہ کے ساتھ درندگی اور پھر اس کی موت نے پورے سماج کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ متاثرہ طالبہ جہان آباد کی رہنے والی تھی، اس لیے پٹنہ سے لے کر جہان آباد تک پولیس کی تفتیش جاری ہے۔ اس دوران پورنیا کے رکن پارلیمنٹ پپو یادو نے ایک منفرد پہل کرتے ہوئے بہار گرلس ہاسٹلوں میں رہنے والی لڑکیوں کے لیے ہیلپ لائن نمبر جاری کیا ہے۔ انہوں نے ہاسٹلوں میں رہنے والی لڑکیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ڈریں نہیں اور ہیلپ لائن نمبر پر فون کرکے فوری طور پر رابطہ کریں۔

Published: undefined

ہیلپ لائن نمبر جاری کرتے ہوئے پپو یادو نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا کہ ’’پٹنہ اور بہار کے سبھی گرلس ہاسٹلوں میں رہنے والی بیٹیوں کے لیے ایک عاجزانہ اور بہت اہم پیغام۔ اگر آپ کو کسی بھی طرح کی پریشانی، تکلیف، خوف، یا استحصال کا سامنا کرنا پڑرہا ہو،یا آپ کو تعلیمی اور مالی مدد کی ضرورت ہو، تو براہ کرم بلا جھجھک فوری طور پر ہماری ہیلپ لائن پر رابطہ کریں۔ آپ کی شناخت کو مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے گا اور ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔ یاد رکھیں، آپ اکیلی نہیں ہیں- ہم ہر قدم پر آپ کے ساتھ ہیں۔ ہیلپ لائن: 6207084398 | 9534549311 ‘‘۔

Published: undefined

واضح رہے کہ پٹنہ کے شمبھو گرلز ہاسٹل کی این ای ای ٹی طالبہ کی موت کی جانچ اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) کر رہی ہے۔ تاہم اس معاملے کے اصل ملزمین ابھی تک پولیس کی گرفت سے باہر ہیں۔ اس پورے معاملے میں پولیس کے رویئے پر بھی سوال اُٹھ رہے تھے۔ ایم پی پپو یادو بھی این ای ای ٹی طالبہ کی موت کے معاملے میں حکومت اور پولیس سے مسلسل سوال اُٹھا رہے ہیں۔

Published: undefined

پپو یادو نے کہا تھا کہ پٹنہ کے گرلز ہاسٹل میں بچیوں کے ساتھ ہاسٹل آپریٹر غلط کررہے ہیں۔ کئی ہاسٹل قواعد و ضوابط پر بھی عمل نہیں کرتے جس کی وجہ سے وہاں لڑکیاں محفوظ نہیں ہیں۔این ای ای ٹی کی طالبہ کے قتل معاملے میں کسی کے خلاف بھی کارروائی نہ ہونا واضح طور پر ایک بڑی سازش کی نشاندہی کرتا ہے۔ آخر ابھی تک تھانہ انچارج کو ابھی تک معطل کیوں نہیں کیا گیا جو بغیر جانچ کے جج بن رہی تھیں؟

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined