’اراولی کے پہاڑ کاٹے گئے، تو پورے راجستھان میں بارش نہیں ہوگی‘، راجیہ سبھا میں کانگریس لیڈر نیرج ڈانگی کا اظہار تشویش

راجیہ سبھا رکن نیرج ڈانگی نے کہا کہ ’’انڈمان نکوبار میں مودی حکومت نے 72000 کروڑ روپے کے میگا اسٹرکچر پروجیکٹ کو منظوری دی ہے، جس سے وہاں کے قبائلی طبقہ کے وجود پر خطرہ منڈلا رہا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>راجیہ سبھا رکن نیرج ڈانگی (ویڈیو گریب)</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

راجستھان سے کانگریس کے راجیہ سبھا رکن نیرج ڈانگی نے ایوان بالا میں آج اراولی پہاڑ کی کٹائی سے متعلق اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ راجیہ سبھا میں اپنی بات رکھتے ہوئے نیرج ڈانگی نے کہا کہ ’’اراولی دنیا کا قدیم ترین پہاڑی سلسلہ ہے، یہ تھار (ریگستان) اور زرخیز میدانوں کے درمیان کھڑی دیوار ہے۔ یہ ریگستان کو روکتی ہے اور مانسون کو روک کر بارش کراتی ہے۔ اگر اروالی کے پہاڑ کٹے تو پورے راجستھان میں بارش نہیں ہوگی، کھیتی ختم ہو جائے گی، زیر زمین پانی کی سطح نیچے چلی جائے گی اور تھار (ریگستان) مشرق کی جانب بڑھے گا۔‘‘

موجودہ بی جے پی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’بی جے پی حکومت نے اراولی پہاڑیوں کو تحفظ کی کیٹیگری سے ہٹا کر کاٹنے کی تیاری کر لی تھی، لیکن بڑے پیمانے پر احتجاج کے بعد حکومت کو فیصلہ واپس لینا پڑا۔‘‘ انڈمان نکوبار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’انڈمان نکوبار میں مودی حکومت نے 72000 کروڑ روپے کے میگا اسٹرکچر پروجیکٹ کو منظوری دی ہے، جس سے وہاں کے قبائلی طبقہ کے وجود پر خطرہ منڈلا رہا ہے، دنیا کے انوکھے پودوں اور ایکو سسٹم کو بھی خطرہ لاحق ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ملک میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے لوگوں کی صحت پر اثر پڑ رہا ہے۔ کئی طرح کی بیماریاں بڑھتی جا رہی ہیں، گزشتہ سال بھی سیلاب اور ہیٹ ویو کی وجہ سے صورت حال خراب رہی۔‘‘


نیرج ڈانگی کے علاوہ راجیو شکلا نے بھی راجیہ سبھا میں حکمراں جماعت کو ہدف تنقید بنایا۔ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران ملک کی فارماسیوٹیکل کمپنیوں سے متعلق کچھ اہم باتیں سامنے رکھیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ملک کی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو امریکہ اور برطانیہ جیسی باہر کی کمپنیوں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں را مٹیریل (خام مال) کے لیے دوسرے ممالک پر منحصر رہنا پڑتا ہے۔ اگر ان کے خام مال کی پیدوار بڑھائی جائے تو دوسرے ممالک پر انحصار کم ہوگا اور اس کا بڑا فائدہ ہماری کمپنیوں کو ملے گا اور برآمدات میں اضافہ ہوگا۔‘‘

کانگریس لیڈر نے چین پر ہندوستان کے انحصار کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’لیکن ہندوستان کا چین پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے، 2022 سے 26 تک ہم نے چین کے خلاف ماحول بنا رکھا تھا۔ اس کے بعد بھی ہزاروں کروڑ روپے ہمارا چین کے پاس جاتا رہا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ ’’میں جاننا چاہتا ہوں کہ دوسرے ممالک پر ہمارا انحصار کب کم ہوگا اور ہمارا ملک کتنا خود انحصاری کی طرف آگے بڑھا ہے؟‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔