
شائع خبروں کے مطابق راجستھان میں الور ضلع کے اراولی وہار تھانہ علاقے میں جمعہ کو ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا۔ وجے نگر پولیس اسٹیشن میں تعینات کانسٹیبل جے کشن جاٹو نے خفیہ طور پر دوسری شادی کرنے کی کوشش کی جب کہ اس کی پہلی بیوی اور دو بچے موجود ہیں لیکن یہ شادی اس کے لیے مصیبت بن گئی۔ جیسے ہی اس کی پہلی بیوی کو اس بات کا علم ہوا، وہ اپنے بچوں اور اہل خانہ کے ساتھ موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کو بھی بلالیا۔
Published: undefined
یہ واقعہ سمولا علاقے میں ایک ہوٹل میں پیش آیا جب کانسٹیبل کی پہلی بیوی اچانک وہاں پہنچی تو شادی کی تیاریوں میں مصروف لوگ دنگ رہ گئے۔ جب جے کشن نے اپنی بیوی اور پولیس کو دیکھا تو وہ گھبرا کر ہوٹل کے باتھ روم میں چھپ گیا۔ بیوی نے الزام لگایا کہ جے کشن نے اسے پچھلے 8 سالوں سے چھوڑ رکھا ہے، نہ خرچ دیتا ہے اور نہ ہی بچوں کا دھیان رکھتا ہے۔ عدالت نے بھی اسے بیوی اور بچوں کی ذمہ داری پوری کرنے کام حکم دیا ہے لیکن وہ اس پر بھی عمل کرنے کو تیار نہیں ہے۔
Published: undefined
متاثرہ بیوی نے دعویٰ کیا کہ جے کشن کافی عرصے سے اس سے الگ رہ رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے 8 سال سے ہماری اور بچوں کی کوئی فکر نہیں کی، عدالتی احکامات کو بھی نہیں مانتا۔ اب وہ طلاق کے بغیر دوسری شادی کرنے آیا ہے۔ متاثرہ نے بتایا کہ اسے معلوم ہوا کہ جے کشن رینی تھانہ علاقے کی ایک لڑکی سے شادی کر رہا ہے، جس کے بعد وہ فوراً اپنے اہل خانہ کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔
Published: undefined
اطلاع ملتے ہی اراولی وہار تھانہ پولیس بھی ہوٹل پہنچ گئی۔ انہوں نے مداخلت کرکے شادی کی رسومات شروع ہونے سے پہلے ہی روک دیں۔ باتھ روم میں چھپے کانسٹیبل کو باہر نکالا اور وہیں ہوٹل کے اندر اس سے پوچھ گچھ کی گئی۔ ایک پولیس افسر کے مطابق کانسٹیبل پہلے سے شادی شدہ ہے اور طلاق کے بغیر دوسری شادی کرنا قانوناً جرم ہے۔ معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں ضروری قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ محکمہ جاتی کارروائی بھی ممکن ہے کیونکہ ایک پولیس اہلکار ہونے کے ناطے اس کا طرز عمل قوانین کے خلاف مانا جارہا ہے۔
Published: undefined
واقعے کے بعد ہوٹل میں افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا اور شادی کی تمام تیاریاں اسی وقت خاک میں مل گئیں۔ پولیس فی الحال معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور متاثرہ بیوی کے بیان کی بنیاد پر مزید کارروائی طے کرے گی۔ وہیں واردات کے بعد لوگوں کے درمیان چے می گوئیاں شروع ہوگئی ہیں کہ ڈیوٹی پر رہتے ہوئے ایک محافظ اس طرح کا عمل کیسے انجام دے سکتا ہے جس پر عوام کی حفاظت کی اہم ذمہ داری ہوتی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined