روسی تیل کی خرید پر امریکی موقف میں نرمی، ہندوستان کے بعد دیگر ممالک کو بھی رعایت
امریکہ نے روسی تیل پر نرمی دکھاتے ہوئے ہندوستان کے بعد کچھ دیگر ممالک کو بھی محدود رعایت دے دی ہے۔ یہ اجازت صرف اس تیل کے لیے ہے جو پہلے ہی جہازوں میں لدا ہوا اور سمندر میں ٹرانزٹ میں پھنسا ہوا ہے

واشنگٹن: ایران کے ساتھ جاری شدید کشیدگی اور عالمی توانائی بازار میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے درمیان امریکہ نے روسی تیل کی خرید کے معاملے میں اپنا موقف قدرے نرم کر دیا ہے۔ امریکہ نے پہلے ہندوستان کو روس سے تیل خریدنے کی محدود رعایت دی تھی اور اب اسی نوعیت کی اجازت کچھ دیگر ممالک کو بھی دے دی گئی ہے تاکہ عالمی سطح پر تیل کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
امریکی محکمۂ خزانہ کے مطابق یہ رعایت دراصل ان کارگو کے لیے ہے جو پہلے ہی جہازوں پر لادے جا چکے تھے اور پابندیوں کی وجہ سے سمندر میں ٹرانزٹ کے دوران رکے ہوئے تھے۔
اس عارضی اجازت کے تحت ایسے خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی فروخت، ترسیل یا آف لوڈنگ کے لیے ضروری مالی لین دین کی اجازت دی گئی ہے جو 12 مارچ سے پہلے جہازوں پر لادے گئے تھے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد عالمی منڈی میں موجود تیل کی رسائی کو بڑھانا اور توانائی کی سپلائی میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ایک محدود اور وقتی قدم ہے جس سے روس کو کوئی خاص مالی فائدہ نہیں پہنچے گا کیونکہ زیادہ تر آمدنی توانائی کے شعبے سے حاصل ہونے والے ٹیکس کے ذریعے روسی حکومت کو ملتی ہے۔
بیسنٹ نے کہا کہ موجودہ حالات میں عالمی توانائی بازار کو مستحکم رکھنا ضروری ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور ایران سے متعلق خطرات کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکی حکومت اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ توانائی کی عالمی سپلائی متاثر نہ ہو اور قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ نہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اجازت صرف ان کارگو تک محدود ہے جو پہلے ہی جہازوں پر لادے جا چکے ہیں اور اس کا مقصد عالمی منڈی میں عارضی رکاوٹ کو دور کرنا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس فیصلے سے روسی حکومت کو نمایاں مالی فائدہ نہیں ہوگا۔
ادھر عالمی توانائی بازار اس وقت دباؤ میں ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی ترسیل کے راستوں اور بنیادی ڈھانچے کے متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اسی پس منظر میں مختلف حکومتیں ایک طرف روس اور ایران پر پابندیوں کا دباؤ برقرار رکھنا چاہتی ہیں جبکہ دوسری طرف توانائی کی فراہمی کو برقرار رکھنے کے راستے بھی تلاش کر رہی ہیں۔
واضح رہے کہ روس اب بھی دنیا میں خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کے بڑے برآمد کنندگان میں شامل ہے۔ 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے روس کے مالیاتی اداروں، جہاز رانی کے نیٹ ورک اور توانائی برآمدات کو نشانہ بناتے ہوئے سخت پابندیاں عائد کی تھیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔