’ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے قتل پر خاموشی کیوں؟‘ جے رام رمیش کا مودی حکومت سے سوال
جے رام رمیش نے ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کے مبینہ قتل پر ہندوستانی حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھایا اور کہا کہ پارلیمنٹ میں اب تک تعزیتی حوالہ تک پیش نہیں کیا گیا جبکہ ایران ’برکس پلس‘ کا رکن ہے

کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے قتل کے معاملے پر مرکزی حکومت کی خاموشی کو لے کر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے واقعے کے باوجود ہندوستانی حکومت کی طرف سے کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔
جے رام رمیش نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ ایران کے آئینی سربراہ آیت اللہ خامنہ ای کو 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے قتل کیا مگر اس پر ہندوستانی قیادت خاموش نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ وزیر اعظم کی طرف سے کوئی بیان آیا ہے اور نہ ہی وزیر خارجہ نے اس معاملے پر کچھ کہا ہے۔ ان کے مطابق پارلیمنٹ میں بھی ابھی تک اس سلسلے میں تعزیتی حوالہ پیش نہیں کیا گیا۔
کانگریس لیڈر نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان نے خلیجی ممالک پر ایران کے حملوں کی مذمت تو کی ہے لیکن اس سے پہلے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی کارروائی کے بارے میں مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ایران ’برکس پلس‘ فورم کا رکن ہے اور اس سال ہندوستان اس گروپ کی صدارت کر رہا ہے، اس لیے ایسے وقت میں ہندوستان کا رویہ زیادہ متوازن اور واضح ہونا چاہیے تھا۔
جے رام رمیش نے ماضی کی ایک مثال بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ مئی 2024 میں ایران کے صدر ابراہیم رئیسی ایک پراسرار ہیلی کاپٹر حادثے میں جان بحق ہو گئے تھے۔ اس وقت مودی حکومت نے 21 مئی 2024 کو ایک روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا تھا اور بعد میں یکم جولائی 2024 کو جب پارلیمنٹ کا اجلاس ہوا تو وہاں تعزیتی حوالہ بھی پیش کیا گیا تھا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اب ایسا کیوں نہیں ہو رہا۔ ان کے مطابق حکومت کا موجودہ رویہ حیران کن ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ایران خطے کی سیاست میں ایک اہم ملک ہے اور ہندوستان کے ساتھ اس کے سفارتی اور معاشی تعلقات بھی رہے ہیں۔
جے رام رمیش نے اپنی پوسٹ کے آخر میں کہا کہ موجودہ خاموشی سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وزیر اعظم اپنے امریکی اور اسرائیلی دوستوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ ان کے اس بیان کے بعد اس معاملے پر سیاسی بحث مزید تیز ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اب یہ ہچکچاہٹ کیوں؟ بظاہر ایک کمپرومائزڈ پی ایم اپنے امریکی اور اسرائیلی ’دوستوں‘ کو ناراض کرنے سے بچنا چاہتے ہیں۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔