امریکی ایندھن بردار طیارہ میزائل سے مار گرایا گیا، ایران کا دعویٰ؛ امریکہ کی تردید
ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ عراق میں امریکی ایندھن بردار طیارہ مزاحمتی گروپوں کے میزائل کا نشانہ بنا اور اس میں سوار تمام 6 فوجی ہلاک ہو گئے، جبکہ امریکہ نے دشمن حملے کی تردید کی ہے

ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ عراق میں گرنے والا امریکی فضائیہ کا کے سی 135 ایندھن بردار طیارہ دراصل میزائل حملے میں مار گرایا گیا تھا۔ ایرانی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان کے حوالہ سے کہا گیا ہے کہ مغربی عراق میں موجود مزاحمتی گروپوں نے اس طیارے کو نشانہ بنایا۔
ایرانی نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق فوجی ترجمان نے بتایا کہ امریکی فوج کا یہ ایندھن بردار طیارہ اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک حملہ آور لڑاکا طیارے کو دوران پرواز ایندھن فراہم کر رہا تھا۔ ترجمان کے مطابق اس کارروائی میں طیارے کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں وہ تباہ ہو گیا۔
رپورٹ کے مطابق طیارے میں سوار تمام 6 امریکی فوجی ہلاک ہو گئے۔ ایرانی میڈیا نے مزید بتایا کہ پاسدارانِ انقلاب کے شعبہ تعلقات عامہ نے بھی ایک بیان میں اس کارروائی کا ذکر کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مزاحمتی محاذ کے فضائی دفاعی نظام نے کامیابی کے ساتھ ایک بوئنگ کے سی 135 اسٹریٹو ٹینکر طیارے کو نشانہ بنایا۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایسے وقت انجام دی گئی جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور فوجی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ ایران سے وابستہ میڈیا نے اس واقعے کو مزاحمتی محاذ کی ایک اہم کامیابی قرار دیا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس طیارے کے تباہ ہونے کی تصدیق تو کی ہے تاہم اس بات سے انکار کیا ہے کہ یہ کسی دشمن حملے کا نتیجہ تھا۔ امریکی حکام کے مطابق طیارہ عراق کی فضائی حدود میں ایک فوجی آپریشن کے دوران حادثے کا شکار ہوا تھا۔
سینٹرل کمانڈ کے بیان کے مطابق یہ واقعہ آپریشن ایپک فیوری کے دوران پیش آیا۔ اس واقعے میں دو طیارے شامل تھے جن میں سے ایک مغربی عراق میں گر کر تباہ ہو گیا جبکہ دوسرا طیارہ محفوظ طریقے سے لینڈ کرنے میں کامیاب رہا۔
امریکی حکام نے کہا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ حادثہ نہ تو کسی دشمن کی فائرنگ کا نتیجہ تھا اور نہ ہی کسی اتحادی کی فائرنگ سے پیش آیا۔ ان کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں جبکہ سرچ اور ریسکیو کارروائیاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔
ایران اور امریکہ کے متضاد دعوؤں کے باعث اس واقعے کی نوعیت پر ابہام برقرار ہے اور ابھی تک کسی آزاد ذریعے سے ایرانی دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ تاہم اس واقعے نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔