
تصویر قومی آواز/ویپن
کانگریس نے اے آئی سمٹ کے دوران پُرامن مظاہرہ کرنے والے یوتھ کانگریس کارکنان پر درج مجرمانہ دفعات کو قانون کا ظالمانہ استعمال قرار دیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ پُرامن جمہوری مخالفت کو دہشت گردی یا سازش کے زمرہ میں رکھنا جمہوریت کا ایک طرح سے قتل ہے۔
کانگریس ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے سینئر لیڈر ڈاکٹر ابھشیک منو سنگھوی نے کہا کہ مظاہرین پر لگائی گئیں دفعات دلیلوں سے میل نہیں کھاتی ہیں۔ یوتھ کانگریس کارکنان کے خلاف کسی طرح کے تشدد یا مجرمانہ منشا کے ثبوت نہیں ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’بھارت منڈپم‘ ایک پبلک پلیس ہے، نہ کہ کسی کی ذاتی رہائش۔ اس کا موازنہ کسی کے گھر یا بیڈروم سے کرنا نامناسب ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’حکومت سے جواب مانگنا دہشت گردی نہیں ہے اور احتجاج کے طور طریقوں کو فوجداری جرم کے زمرہ میں نہیں رکھا جا سکتا۔‘‘
سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ ڈاکٹر سنگھوی نے دہلی پولیس کے ذریعہ عائد کردہ دفعات کی فہرست شیئر کرتے ہوئے ایک ایک کر ان پر سوال اٹھائے۔ انھوں نے کہا کہ دفعہ 121 کے تحت مرضی سے چوٹ یا سنگین چوٹ پہنچانے کا الزام ہے۔ لیکن ایسا کب اور کہاں ہوا؟ دفعہ 132 کے تحت عوامی خادم کو فرائض سے روکنے کے لیے حملہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ کس عوامی خادم کے ساتھ ایسا ہوا؟ دفعہ 221 کے تحت عوامی خادم کے کاموں میں رخنہ ڈالنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر آئی اے این ایس