قومی خبریں

نیٹ یو جی 2026 امتحان منسوخ، جے رام رمیش نے این ٹی اے اور مودی حکومت پر اٹھائے سنگین سوال

نیٹ یو جی 2026 پیپر لیک تنازعہ کے بعد امتحان منسوخ کر دیا گیا ہے۔ کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے این ٹی اے کی کارکردگی، شفافیت اور مودی حکومت کی پالیسیوں پر شدید سوال اٹھائے ہیں

<div class="paragraphs"><p>جے رام رمیش / آئی اے این ایس</p></div>

جے رام رمیش / آئی اے این ایس

 

نئی دہلی: نیٹ یو جی 2026 امتحان کے پیپر لیک معاملے نے ملک بھر میں بڑا سیاسی اور تعلیمی بحران کھڑا کر دیا ہے۔ امتحان منسوخ کیے جانے کے بعد کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے مودی حکومت اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی یعنی این ٹی اے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ نیٹ یو جی پیپر لیک اور اس کے بعد امتحان کی منسوخی این ٹی اے کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔ قب ازیں راہل گاندھی نے بھی اس معاملہ پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اسے طلبہ کے ساتھ جرم سے تشبیہ دی تھی۔

Published: undefined

جے رام رمیش نے کہا کہ پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی 371 ویں رپورٹ میں بھی اس بات کا ذکر کیا گیا تھا کہ صرف 2024 میں این ٹی اے کی جانب سے منعقد 14 قومی امتحانات میں سے پانچ میں پیپر لیک یا بے ضابطگیوں کے معاملات سامنے آئے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جے ای ای مینز 2025 میں ’انسر کی‘ کی غلطیوں کے سبب 12 سوال واپس لینے پڑے تھے، جبکہ سی یو ای ٹی امتحانات میں بھی نتائج اور انعقاد میں تاخیر نے تعلیمی نظام کو متاثر کیا۔

Published: undefined

انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت نے پرانے داخلہ نظام کو ختم کر کے ایک مرکزی نظام نافذ کیا، جو بدعنوانی اور بے ضابطگیوں سے پر ہے۔ ان کے مطابق این ٹی اے مسلسل پارلیمنٹ کو اپنی سالانہ رپورٹ دینے میں ناکام رہی ہے اور صرف مالیاتی تفصیلات پیش کرتی رہی ہے۔ جے رام رمیش نے کہا کہ 16 جون 2024 کو وزیر تعلیم نے خود اعتراف کیا تھا کہ این ٹی اے کو بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے، مگر دو برس گزرنے کے باوجود صورت حال میں کوئی نمایاں تبدیلی نظر نہیں آ رہی۔

Published: undefined

ادھر تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نیٹ یو جی 2026 امتحان سے پہلے ایک ’گیس پیپر‘ واٹس ایپ سمیت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کر رہا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس دستاویز میں شامل کئی سوالات اصل امتحان سے مماثلت رکھتے تھے۔ ذرائع کے مطابق تقریباً 400 سوالات پر مشتمل ایک فائل امتحان سے پہلے ہی طلبہ کے درمیان پہنچ چکی تھی، جس کے بعد پیپر لیک کے شبہات مزید مضبوط ہو گئے۔

Published: undefined

راجستھان اسپیشل آپریشنز گروپ یعنی ایس او جی نے معاملے کی تحقیقات تیز کرتے ہوئے مختلف ریاستوں میں چھاپے مارے ہیں۔ دہرادون اس معاملے میں اہم مقام کے طور پر سامنے آیا، جہاں سے پہلے بھی کئی مشتبہ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ تازہ کارروائی میں فرار ملزم راکیش کی گرفتاری کو اہم کامیابی مانا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اب تک 20 سے زیادہ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے جبکہ کئی دیگر ملزمان، جن میں ماسٹر مائنڈ بھی شامل ہیں، گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

Published: undefined

تحقیقات سے اشارہ ملا ہے کہ یہ معاملہ کسی ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ ایک منظم گروہ کے ذریعے انجام دیا گیا ہو سکتا ہے۔ اس دوران دہرادون پولیس نے کیمرے پر بیان دینے سے انکار کیا، تاہم اتنا ضرور کہا کہ راجستھان پولیس نے ان سے رابطہ کیا تھا اور ایک ملزم کو اپنے ساتھ لے گئی۔ مرکزی ایجنسیوں کی جانب سے بھی اس معاملے کی جانچ کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined