چھتیس گڑھ میں 1.5 کروڑ کی ایل پی جی چوری، سرکاری ملازمین اور کاروباریوں نے مل کر فروخت کر دی 90 میٹرک ٹن گیس
مہاسمند ایس پی پربھات کمار کے مطابق گیس چوری معاملے کے مرکزی ملزمان محکمہ خوراک کے افسر اجے یادو، گیس کاروباری پنکج، ان کے ساتھی منیش چودھری اور تقسیم کرنے والی کمپنی کے مالک سنتوش ٹھاکر ہیں۔
.jpg?rect=0%2C0%2C2000%2C1125&auto=format%2Ccompress&fmt=webp)
مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث پوری دنیا میں رسوئی گیس کا بحران گہرا ہونے لگا ہے۔ اس درمیان چھتیس گڑھ میں ایل پی جی چوری کا بڑا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پولیس نے ایک ایسے گروہ کا پردہ فاش کیا ہے جس نے مبینہ طور پر 90 میٹرک ٹن سے زیادہ ایل پی جی گیس چوری کر اس کی کالابازاری کر دی۔ چوری کی گئی گیس کی قیمت تقریباً 1.5 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق چوری کی گئی گیس ان ٹینکروں سے نکالی گئی تھی جنہیں گزشتہ سال ایک دیگر گیس چور معاملے میں ضبط کیا گیا تھا۔ پورا معاملہ دسمبر 2025 سے منسلک ہے جب سنہورا علاقے کے جنگل میں پولیس نے 6 ایل پی جی ٹینکر برآمد کیے تھے۔ الزام تھا کہ ایک گروہ ٹینکروں سے گیس نکالنے کے لیے انہیں وہاں لے گیا تھا۔ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پرتیبھا پانڈے نے بتایا کہ افسران کی ایک ٹیم نے مشکوک سرگرمی دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی تھی، جس کے بعد ایف آئی آر درج کر ٹینکر ضبط کیے گئے تھے۔ یہ ٹینکر مارچ تک پولیس کی نگرانی میں رہے۔
رواں سال مارچ میں بڑھتی گرمی اور حفاظتی انتظامات کی کمی کے پیش نظر پولیس نے ضلع کلکٹر سے ٹینکروں کی ذمہ داری لینے کی اپیل کی۔ افسران کے مطابق 30 مارچ کو ٹینکر محکمہ خوراک کو سونپ دیے گئے۔ بعد میں یہ ٹینکر رائے پور واقع ایک ایل پی جی تقسیم کرنے والی کمپنی کے مالک سنتوش ٹھاکر کے قبضے میں پہنچ گئے۔ الزام ہے کہ ٹینکر سونپنے سے قبل ان میں موجود گیس کا وزن نہیں کرایا گیا۔
ٹینکروں کو رائے پور کے اورلا گاؤں واقع کمپنی کے احاطے میں لے جایا گیا، جہاں 30 مارچ سے 5 اپریل کے درمیان گیس چوری کی گئی۔ اس کے بعد 6 اور 8 اپریل کو ٹینکروں کا وزن مہاسمنڈ فوڈ آفیسر آفس میں کرایا گیا۔ معاملے کا انکشاف تب ہوا جب ٹینکروں کے اصلی ٹرانسپورٹر انہیں واپس لینے سنہورا تھانے پہنچے۔ تحقیقات میں پتہ چلا کہ ٹینکروں سے گیس غائب ہے۔ اس کے بعد انہوں نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔ پولیس کے مطابق ٹینکروں میں لگے جی پی ایس سسٹم سے تصدیق ہوئی کہ گاڑی ملزم کی گیس ایجنسی کے پلانٹ تک گئے تھے۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزم کی کمپنی نے اپریل میں صرف 47 ٹن ایل پی جی خریدی تھی۔ ان کا شروعات اسٹاک صفر تھا، اس کے باوجود 107 ٹن گیس فروخت کر دی گئی۔
مہاسمند ایس پی پربھات کمار کے مطابق اس معاملے کے مرکزی ملزمان محکمہ خوراک کے افسر اجے یادو، گیس کاروباری پنکج، ان کے ساتھی منیش چودھری اور تقسیم کرنے والی کمپنی کے مالک سنتوش ٹھاکر ہیں۔ اب تک اجے یادو، پنکج چندراکر اور منیش چودھری کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ پولیس کا الزام ہے کہ محکمہ خوراک کے افسر اور گیس ایجنسی کے مالک نے مل کر سنتوش ٹھاکر کو ٹینکروں کی کسٹڈی دلوائی۔ اس کے بعد رائے پور کی مختلف گیس ایجنسیوں سے رابطہ کر چوری کی ایل پی جی فروخت کرنے کی سازش رچی گئی۔ فی الحال کم از کم 8 گیس ایجنسیاں تحقیقات کے دائرے میں ہیں، جنہوں نے مبینہ طور پر ی چوری کی گیس خریدی تھی۔ ملزمان نے شروع میں دعویٰ کیا تھا کہ گیس ٹینکروں سے لیک ہو گئی تھی، لیکن تکنیکی ٹیم نے کسی بھی طرح کے لیکیج سے انکار کر دیا ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
