’موڈیز ریٹنگز‘ نے ہندوستان کی اقتصادی شرح نمو 0.8 پوائنٹس کم کر کے 6 فیصد کر دی

ایجنسی نے کہا کہ عالمی منظر نامہ غیر یقینی بنا ہوا ہے کیونکہ امریکہ-ایران کے درمیان جنگ بندی کی صورتحال نازک ہے۔ ہم ہندوستان کے لیے شرح نمو میں تقریباً 0.8 فیصد پوائنٹ تک کی گراوٹ کا اندازہ لگاتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>موڈیز، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

موڈیز ریٹنگز نے 2026 کے لیے ہندوستان کی اقتصادی شرح نمو کا تخمینہ منگل (12 مئی) کو 0.8 فیصد پوائنٹ گھٹا کر 6 فیصد کر دیا۔ یہ گراوٹ نجی کھپت اور صنعتی سرگرمیوں میں سستی کے ساتھ ساتھ توانائی کی بلند لاگت کی وجہ سے کی گئی ہے۔ کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی نے اپنے ’گلوبل میکرو آؤٹ لُک‘ کے مئی ایڈیشن میں کہا کہ آئندہ 6 ماہ میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور ایندھن و کھاد کی کمی کا اثر مختلف ممالک میں الگ الگ ہوگا جو ان کے انحصار اور لچک پر منحصر ہے۔

ایجنسی نے کہا کہ ’’عالمی منظر نامہ انتہائی غیر یقینی بنا ہوا ہے کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی صورتحال نازک ہے۔ ہم ہندوستان کے لیے شرح نمو میں تقریباً 0.8 فیصد پوائنٹ تک کی گراوٹ کا اندازہ لگاتے ہیں۔‘‘ اس کے علاوہ 2027 (کیلنڈر سال) کے لیے بھی موڈیز ریٹنگس نے ہندوستان کی جی ڈی پی (مجموعی ملکی پیداوار) کی شرح نمو کا تخمینہ 0.5 فیصد پوائنٹ گھٹا کر 6 فیصد کر دیا ہے۔


ایجنسی کے مطابق توانائی کی سپلائی میں بہتری اور شپنگ کی آمد و رفت کے معمول پر آنے کے ساتھ یہ دباؤ آہستہ آہستہ کم ہوں گے اور معاشی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی۔ ساتھ ہی موڈیز نے کہا کہ ہندووستان تیل کی بلند قیمتوں کے تئیں خصوصی طور پر حساس ہے، کیونکہ ملک اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 90 فیصد درآمد کرتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ شرح نمو میں کمی ایک بڑی وجہ بڑھتی ہوئی مہنگائی بھی ہے۔ جب لاگت بڑھتی ہے تو کمپنیاں اس کا بوجھ صارفین پر ڈالتی ہیں، جس سے کھانے پینے کی چیزوں سے لے کر الیکٹرانک سامان تک سب مہنگا ہو جاتا ہے۔ موڈیز کے تجزیے کے مطابق اگر مہنگائی اسی طرح برقرار رہی تو ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کو سود کی شرحوں میں کٹوتی کرنے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ بلند شرح سود کا مطلب ہے کہ مہنگا قرض جس سے لوگ کار یا گھر خریدنے جیسے بڑے اخراجات کو مؤخر کر دیتے ہیں۔ گھریلو کھپت میں آنے والی یہ سستی براہ راست جی ڈی پی کی رفتار کو کم کر دیتی ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔