ایندھن کے لالچ میں خشک ہوتا جا رہا زیر زمین پانی... جے دیپ ہاردیکر
ایک لیٹر اتھنال بنانے کے لیے 10 ہزار لیٹر تک پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک ٹن گنّے کے رس سے صرف 70 لیٹر اتھنال بنتا ہے۔ پھر بھی مرکزی حکومت چاہتی ہے کہ گاڑیاں 100 فیصد اتھنال سے چلیں۔

صرف آج کی فکر کرو۔ مہاراشٹر کے خشک سالی سے متاثر ضلع دھاراشیو کے تکویکی گاؤں کے کسانوں نے 2013 کی گرمیوں میں یہی حکمت عملی اپنائی تھی۔ پانی کی شدید قلت نے گاؤں کی معیشت تباہ کر دی تھی اور لوگ گاؤں چھوڑ کر جانے لگے تھے۔ تب سے مراٹھواڑہ خطہ (جس میں تکویکی بھی شامل ہے) میں مزید 3 خوفناک خشک سالیاں پڑ چکی ہیں، اور ہر بار گاؤں کے کچھ لوگ اپنا گھر بار چھوڑتے گئے۔
اس سال مہاراشٹر نے 8 کروڑ ٹن گنے کی پیرائی کر کے 80 لاکھ کوئنٹل چینی کی پیداوار کی تھی۔ دھاراشیو کی چینی ملوں نے 25 لاکھ ٹن سے بھی زیادہ گنے کی ریکارڈ پیرائی کی۔ اس گاؤں اور ریاست کے خشک سالی سے متاثر درجنوں گاؤں کے دورے کے دوران میں نے ایک تضاد صاف دیکھا: جن گاؤں میں پینے کے پانی کے لیے ٹینکروں کی زیادہ طلب ہوتی ہے، وہیں بھاری مقدار میں گنے کی فصل اگائی جاتی ہے، جس کے لیے کافی پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر سال کسان گنے کی آبپاشی کے لیے گہرے بورویل کھودتے ہیں۔ یہ پانی ان فیکٹریوں کو جاتا ہے جو لاکھوں ٹن چینی اور اب اتھنال بناتی ہیں۔ دوسری طرف لوگوں کی بڑی تعداد پینے کے پانی کے لیے ترستی رہتی ہے۔ کچھ سال پہلے مہاراشٹر حکومت کی ’گراؤنڈ واٹر سرویز اینڈ ڈیولپمنٹ ایجنسی‘ کے ایک ماہر ارضیات نے مجھے بتایا تھا کہ مراٹھواڑہ خطہ پھلوں کے باغات اور گنے کی کھیتی کے لیے ’قدیم حجری دور‘ کا پانی بھی جذب کر رہا ہے۔ یہ بحران اتنا سنگین ہے۔
2023 میں جب ایک ضلع کلکٹر نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو خط لکھ کر درخواست کی کہ پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دیوالی سے مارچ تک چلنے والے گنے کی پیرائی کے سیزن کو روک دیا جائے، تو پورا سیاسی طبقہ ان کے خلاف کھڑا ہو گیا۔ انہیں سرزنش کا سامنا کرنا پڑا اور تبادلہ کر دیا گیا۔ لوگوں کو پانی خریدنا پڑا، لیکن چینی ملیں لاکھوں لیٹر پانی استعمال کرتی رہیں۔
اب آتے ہیں 2026 پر۔ پانی کا بحران اور گہرا ہے، پھر بھی مرکزی حکومت چاہتی ہے کہ گاڑیاں 100 فیصد اتھنال پر چلیں تاکہ مغربی ایشیا میں جنگ کے سبب پیدا ہونے والے ایندھن بحران سے نمٹا جا سکے۔ حکومت چینی ملوں کے لیے ریگولیٹری فریم ورک بدلنا چاہتی ہے تاکہ چینی، شیرہ اور دیگر بائی پروڈکٹس کے ساتھ ساتھ اتھنال بھی اس میں شامل ہو سکے۔ ہندوستان گاڑیوں کے ایندھن میں 100 فیصد اتھنال بلینڈنگ کی سطح حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تیل کمپنیاں اتھنال کی خرید بڑھا رہی ہیں اور مہاراشٹر کی چینی ملیں اپنی ڈسٹلیشن صلاحیت۔ گزشتہ 5 برسوں سے، مرکز اور ریاستی حکومتوں نے نجی اور کوآپریٹو چینی ملوں کو اتھنال پیداوار میں سرمایہ کاری کے لیے ترغیب دی ہے۔ لیکن اتھنال کا معاملہ صرف توانائی سے متعلق نہیں، بلکہ اس بارے میں بھی ہے کہ پانی کا استعمال کیسے کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں نریندر مودی حکومت نے ہندوستان میں کاروں کو مکمل طور پر اتھنال پر چلانے کی سمت قدم اٹھایا۔ عام حالات میں اس کا خیرمقدم ہوتا، لیکن یہ عام حالات نہیں ہیں۔ مغربی ایشیا کی کشیدگی نے عالمی تیل سپلائی کو متاثر کیا ہے، جس سے ایندھن کی قلت کا خوف بڑھ گیا ہے۔
اپریل 2026 کے آغاز میں، صارفین کے امور، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت نے ’گنا (کنٹرول) آرڈر 2026‘ کا مسودہ جاری کیا، جس کا مقصد 1966 کے آرڈر کی جگہ لینا اور ’چینی سیکٹر کی جدیدکاری‘ ہے۔ اس کے مقاصد اور وجوہات کے علاوہ، مسودے کی 14 اہم تجاویز میں ایک یہ ہے کہ ریگولیٹری دائرے میں گنے کے رس، شربت اور شیرے سے اتھنال پیداوار بھی شامل کی جائے۔ اس پالیسی میں دو سنگین خطرات پوشیدہ ہیں۔
پانی کی قلت
محکمہ موسمیات سمیت کئی ایجنسیوں کی پیش گوئیوں کے مطابق ال نینو کے سبب 27-2026 کا مانسون معمول سے 8 فیصد کم رہ سکتا ہے۔ مرکزی حکومت سے لے کر میونسپلٹیوں تک سب پانی کی قلت سے نمٹنے کی تیاری میں مصروف ہیں۔ ممبئی جیسے شہروں نے پانی کی کٹوتی کا اعلان کیا ہے۔ اس پس منظر میں، اتھنال پیداوار کو فروغ دینے پر سوال اٹھتا ہے۔ ایک لیٹر اتھنال بنانے میں 10,000 لیٹر تک پانی لگ سکتا ہے۔ یہاں تک کہ جب اسے چاول یا مکئی جیسے اناجوں سے بنایا جاتا ہے، تب بھی اس کی صلاحیت محدود ہوتی ہے۔ ایک ٹن اناج سے تقریباً 475 لیٹر اتھنال بنتا ہے۔ تو اتھنال کی زیادہ ملاوٹ کا فیصلہ معاشی اور ماحولیاتی طور پر کتنا درست ہے؟
ہندوستان میں اتھنال بنیادی طور پر گنے سے بنتا ہے۔ صرف مہاراشٹر میں تقریباً 350 شوگر ملوں نے اتھنال بنانے پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ پھر بھی، ایک ٹن گنے کے رس سے صرف 70 لیٹر اتھنال بنتا ہے۔ اتھنال بنانے کا عمل دو طرح سے پانی استعمال کرتا ہے... پہلا، گنے کی فصل کو زیادہ پانی درکار ہوتا ہے، اور دوسرا، اس سے اتھنال بنانے میں۔
ضرورت سے زیادہ پیداواری صلاحیت
موجودہ توانائی بحران سے پہلے، حکومتی ترغیبات کے سبب اتھنال پیداوار کی صلاحیت ایک دہائی پہلے کے 518 کروڑ لیٹر سے بڑھ کر آج 2,000 کروڑ لیٹر ہو گئی ہے۔ حالانکہ، موجودہ طلب 1,100 کروڑ لیٹر ہے۔ دوسرے لفظوں میں، پیداواری صلاحیت طلب سے کہیں زیادہ ہے۔ گنے سے بننے والا اتھنال چاول اور مکئی جیسے اناجوں سے بننے والے ’نئے‘ اتھنال کے سامنے پھیکا پڑتا جا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومتی خرید پالیسیوں میں نئے پیدا کنندگان کو ترجیح دی جا رہی ہے، جس سے گنے پر مبنی روایتی اتھنال پیدا کنندگان (بنیادی طور پر چینی ملیں) غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہی ہیں۔ مہاراشٹر اور دیگر مقامات پر، تقریباً 350 پیدا کنندگان نے سابقہ پالیسیوں سے حوصلہ پا کر بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ لیکن تیل کمپنیاں کل پیداوار کا صرف نصف خرید رہی ہیں، جس سے پیدا کنندگان کو سرمایہ واپس حاصل کرنے میں دشواری ہو رہی ہے۔ اگر ہندوستان 20 فیصد بلینڈنگ سے 100-85 فیصد اتھنال کی طرف جاتا ہے، تو طلب میں زبردست اضافہ ہوگا۔ لیکن اتھنال کی توانائی کثافت پیٹرول-ڈیزل سے کم ہوتی ہے۔ یعنی مساوی فاصلہ طے کرنے کے لیے گاڑیوں کو زیادہ اتھنال درکار ہوگا اور زیادہ استعمال سے اتھنال کی مانگ بڑھے گی۔ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ پانی کی کھپت بھی بڑھے گی۔
فی الحال، ہندوستان کے فصلی نمونے تقریباً 30 فیصد تک اتھنال بلینڈنگ کو سپورٹ کر سکتے ہیں۔ 100-85 فیصد تک پہنچنے کے لیے اتھنال بنانے والی فصلوں کی پیداوار میں بھاری اضافہ کرنا ہوگا۔ اس سے مزید تشویشات پیدا ہوتی ہیں۔ گنا اور چاول زیادہ پانی والی فصلیں ہیں۔ پھر بھی، سیاسی وجوہات اور غذائی تحفظ کی بنا پر انہیں سرکاری مدد ملتی رہی۔ اس سے آبی وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اس کے علاوہ، ضرورت سے زیادہ آبپاشی سے مٹی میں کھاراپن اور زمین کے بنجر ہونے جیسے خطرات بھی پیدا ہوتے ہیں، جیسا کہ ستارا میں دیکھا گیا۔
اتھنال نے اس خطے کے معاشی مساوات کو بدل دیا ہے۔ اب ملوں کے پاس متبادل بازار موجود ہے۔ حیاتیاتی ایندھن کے زبردست حامی نتن گڈکری نے حال ہی میں دعویٰ کیا کہ اتھنال کے بغیر مغربی مہاراشٹر کی بیشتر ملیں بند ہو گئی ہوتیں۔ اس میں شک نہیں کہ اتھنال نے ملوں کو دوبارہ زندہ کیا ہے، لیکن اس کی توسیع گنے اور پانی پر منحصر ہے، جو پانی کی دستیابی اور غذائی تحفظ کو نظر انداز کرتی ہے۔
مہاراشٹر کے اتھنال کی طرف مڑنے کے پیچھے ایک جانی پہچانی سیاسی معیشت ہے جو نئے روپ میں سامنے آئی ہے۔ کوآپریٹو شوگر ملیں نجی زرعی-صنعتی مراکز میں تبدیل ہو گئی ہیں، جو گنے کو چینی، بجلی اور ایندھن میں بدلتی ہیں۔ ملوں پر کنٹرول کا مطلب ہے قرض کمیٹیوں، ٹرانسپورٹ ٹھیکوں، مزدور نیٹ ورکس، سبسڈی اور آخرکار انتخابی اثر و رسوخ پر کنٹرول—خاص طور پر مغربی مہاراشٹر میں۔ اتھنال اس نیٹ ورک کو مضبوط کرتا ہے۔ تیل کمپنیوں کی یقینی خرید کے ذریعے نقد بہاؤ کو بہتر بنا کر، یہ کوآپریٹو اور نجی دونوں طرح کی ملوں کو مضبوط کرتا ہے، جو مختلف پارٹیوں کے سیاسی خاندانوں سے جڑی ہیں۔
اس کے فائدہ اٹھانے والے کئی سطحوں پر ہیں: مل مالکان کو آمدنی کے نئے ذرائع ملتے ہیں، سیاسی لوگ اپنا اثر مضبوط کرتے ہیں، اور بڑے گنا کسانوں کو زیادہ اور یقینی ادائیگی سے فائدہ ہوتا ہے۔ تاہم، اس کے نقصانات زیادہ وسیع ہیں۔ مراٹھواڑہ جیسے خطوں کو اس کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے، جہاں گنا پیداوار کے لیے زیر زمین پانی کا حد سے زیادہ استعمال ہوتا ہے، اور چھوٹے کسان بھی زیادہ پانی والی فصل اگانے پر مجبور ہیں کیونکہ ملیں مقامی فصلی نمونے طے کرتی ہیں۔ دراصل، اتھنال نے شوگر معیشت کو جمہوری نہیں بنایا، اس نے اسے کوآپریٹو قیادت والے ماڈل سے کوآپریٹو کمیٹیوں اور نجی ملوں کے مخلوط نظام کی طرف موڑ دیا ہے، جس سے پانی، سرمایہ اور سیاسی طاقت کا تعلق مزید مضبوط ہوا ہے۔
جیسا کہ امے تیروڈکر نے فرنٹ لائن میں لکھا ہے کہ چینی نے مہاراشٹر کے کوآپریٹو طاقت کے ڈھانچے کی تعمیر کی، جو اب دباؤ میں ہے۔ روایتی کوآپریٹو ماڈل نئے روپ میں سامنے آ رہا ہے۔ سرمایہ اور سیاسی حمایت رکھنے والی ملیں ڈسٹلری میں سرمایہ کاری کر کے آمدنی کے نئے ذرائع محفوظ کر رہی ہیں، جبکہ کمزور کوآپریٹو کمیٹیاں ہزاروں کروڑ کے بقایاجات سے جوجھ رہی ہیں۔ اس کا نتیجہ ایک نئے منظرنامے کی صورت میں سامنے آ رہا ہے... وسیع کوآپریٹو نیٹ ورک سے ایک زیادہ غیر مساوی منظرنامے کی طرف، جہاں نجی ملیں اور سیاسی طور پر وابستہ ادارے اپنا کنٹرول مضبوط کر رہے ہیں۔
اس تبدیلی میں، اتھنال ایک استحکام دینے والے اور فلٹر دونوں کے کردار میں ہے۔ سرمایہ کاری کرنے والوں کو فائدہ پہنچا رہا ہے اور سرمایہ کاری نہ کر پانے والوں کو حاشیے پر دھکیل رہا ہے۔ فائدہ مل مالکان اور سیاسی رہنماؤں کو مل رہا ہے، جبکہ خطرات (پانی کی قلت، فصلوں پر انحصار اور آمدنی میں غیر استحکام) کسانوں اور مزدوروں پر تھوپے جا رہے ہیں۔ مہاراشٹر میں، گنا صرف فصل نہیں، بلکہ اقتدار کا ایک نظام ہے۔ کولہاپور اور سانگلی سے لے کر احمد نگر اور سولاپور تک، چینی کا جغرافیہ سیاسی جغرافیہ سے جڑا ہے۔ تاریخی طور پر کوآپریٹو ملوں نے مقامی معیشتوں کو مضبوط کیا ہے، اور قرض، روزگار و انتخابی صف بندی تک رسائی کی شکل متعین کی ہے۔ اتھنال اس نظام کو مزید مضبوط کرتا ہے۔
ملوں کی معاشی حالت بہتر بنا کر یہ شوگر نیٹ ورک کی ادارہ جاتی طاقت کو مزید پختہ کرتا ہے۔ یہ کسانوں کو گنے کی کاشت تک محدود کرتا ہے۔ مطالعات بتاتے ہیں کہ مہاراشٹر میں گنا پیداوار میں اضافہ پیداواری صلاحیت کے مقابلے میں کاشت کے رقبے میں اضافے کی وجہ سے زیادہ ہوا ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ فصل مختلف خطوں میں مسلسل پھیل رہی ہے۔ یہ توسیع اب زیادہ تر مراٹھواڑہ جیسے خشک سالی کے شکار خطوں، یا مغربی مہاراشٹر کے کچھ حصوں کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں اس کے ماحولیاتی مضر اثرات کہیں زیادہ ہیں۔
اس تبدیلی کا اثر پورے مہاراشٹر میں یکساں نہیں ہے۔ مغربی مہاراشٹر، جہاں نہری آبپاشی کا نظام ہے اور بارش بھی زیادہ ہوتی ہے، وہاں تاریخی طور پر گنے کی کاشت کو فروغ ملا ہے۔ کولہاپور، سانگلی اور پونے جیسے علاقے ’شوگر بیلٹ‘ کا اہم حصہ ہیں۔ لیکن مراٹھواڑہ اور ودربھ کے کچھ حصوں کی کہانی مختلف ہے۔ یہاں، گنے کی کھیتی زیر زمین پانی پر منحصر ہے۔ بار بار پڑنے والی خشک سالیوں نے اس ماڈل کی کمزوری کو پہلے ہی بے نقاب کر دیا ہے۔ اس کے باوجود، شوگر ملوں سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد کی وجہ سے ان علاقوں میں گنے کی کاشت کا رقبہ بڑھ رہا ہے۔ اتھنال کی وجہ سے یہ رجحان اور تیز ہو سکتا ہے۔ تبدیلی کا اثر فصلی تنوع پر بھی پڑ رہا ہے۔ جیسے جیسے زیادہ زمین گنے کے لیے استعمال ہو رہی ہے، موٹے اناج، دالوں اور تیل دار بیجوں کے لیے پانی کی دستیابی گھٹتی جا رہی ہے۔ یہ ایسی فصلیں ہیں جو غذائیت اور ماحولیات دونوں لحاظ سے خشک زمین کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔ دراصل، اتھنال جہاں ریاست کے لیے توانائی کے نئے متبادل کھول رہا ہے، وہیں ریاست کے زرعی متبادل کو محدود کر رہا ہے اور آبی بحران کو گہرا کر رہا ہے۔
(مضمون نگار جے دیپ ہاردیکر ناگپور کے سینئر صحافی ہیں۔ یہ ’رام راؤ: دی اسٹوری آف انڈیاز فارم کرائسس‘ کتاب کے مصنف ہیں)
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
