کانگریس پلینری اجلاس میں کانگریس کے ترجمان اور ہریانہ سے وابستہ رندیپ سرجے والا نے کسانوں اور سوامی ناتھن کمیٹی کے مدے پر مودی حکومت کے خلاف حملہ بولا ہے۔ سرجے والا نے کہا کہ مودی حکومت نے کسانوں کا حق چھین لیا اور سوامی ناتھن کمیٹی کو جملہ ناتھن کمیٹی میں تبدیل کر دیا۔
رندیپ سرجے والا نے کہا ’’میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب نیرو مودی، میہل چوکسی، وجے مالیا اور جتن مہتا ملک کا پیسہ لے کر بھاگ گئے تو کیا اس سے بازار پر اثر نہیں پڑا! کیا صرف بازار پر تبھی اثر پڑتا ہے جب کسان منیمم سپورٹ پرائز مانگتے ہیں!‘‘ انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے ملک کے کسانوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے تو وہ ملک کی موجودہ مودی حکومت ہے۔
پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی طرف سے پیش کی گئی زرعی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت کی طرف سے شروع کی گئی فصل بیمہ اسکیم نے کسانوں کے بجائے نجی بیمہ کمپنیوں کو بھاری فائدہ پہنچایا ہے۔ اس کے ذریعہ بیمہ پریمیم کے نام پر کسانوں سے بغیر پوچھے ہی ان کے بینک کھاتوں سے پیسے کاٹے جا رہے ہیں۔
پنجاب کے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ کی طرف سے پیش کی گئی زرعی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ’’بی جے پی کا کسان مخالف رویہ اسی بات سے اجاگر ہوتا ہے کہ این ڈی اے کی گزشتہ اور موجودہ حکومت میں زرعی میدان کی شرح ترقی منموہن سنگھ کی قیادت والی حکومت کے مقابلے میں نصف رہ گئی ہے۔
سونیا گاندھی نے اپنے خطاب میں کہا ’’کانگریس صرف ایک سیاسی پارٹی نہیں بلکہ ہمیشہ سے ایک تحریک رہی ہے۔ 133 سالوں سے تحریک کا جز اس لئے ہے کیوں کہ اس میں ہندوستان کی ثقافت دکھائی دیتی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’کانگریس ایک ایسی پارٹی بنے جو لوگوں کی امیدوں کی عکاسی کرے۔ میری خواہش ہے کہ آئندہ ہونے والے کرناٹک کے انتخابات میں کانگریس پارٹی شاندار مظاہرہ کرے۔‘‘
انہوں نے کہا ’’مجھے دو عشروں تک کانگریس صدر رہنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ میں سیاست میں نہیں آنا چاہتی تھی لیکن حالات نے مجھے اس میں آنے کے لئے راغب کیا۔ مجھے جب یہ احساس ہوا کہ پارٹی کمزور ہو رہی ہے اور ہمارے بنیادی اصول خطرے میں ہیں تب کانگریس کے لوگوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کی قیادت کو سنبھالا۔‘‘
سونیا گاندھی نے مزید کہا ’’آپ میں سے ایک ایک شخص کی خیرسگالی، سمجھ، محنت نے مجھے طاقت دی آج میں جب پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو یاد آتا ہے کہ ہماری پارٹی نے لوگوں کا بھروسہ جیتنے کے لئے کتنی محنت کی۔ 1998 سے 2004 کے بیچ ہم نے ایک ایک قدم بڑھا کر پارٹی کی متعدد ریاستوں میں حکومتیں بنائیں۔‘‘
سونیا نے کہا ’’بدلتی سیاسی صورت حال میں ہم نے یکساں نظریات والے سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عہد کیا اور 2004 میں وہ منزل حاصل کی جو لوگوں کے لئے ناقابل یقین تھی۔ ہم نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں بے شمار کامیابیاں حاصل کیں۔ یہی وجہ ہے 2009 میں بھی ہمیں کامیابی حاصل ہوئی۔‘‘
انہوں نے کہا ’’ ہم نے اقتصادی میدان میں منموہن سنگھ کی قیادت میں تاریخی قدم اٹھائے اور قانون بنائے گئے۔ منریگا، جنگلات حقوق قانون، تحفظ غذا کا قانون اور اطلاعات کا قانون جیسے کئی قانون ہم نے لاگو کئے۔ ان قوانین سے کروڑوں کروڑوں لوگوں کی زندگیوں میں بدلاؤ آیا۔‘‘
انہوں نے کہا ’’یو پی اے نے جو قوانین منظور کئے تھے این ڈی اے حکومت انہیں کمزور کرنے میں مصروف ہے۔ 4 سال میں کانگریس کو تباہ کرنے کے لئے مغرور اور اقتدار کے نشہ میں چور حکومت نے کوئی کثر باقی نہیں رکھی۔ ہر طرح کے حربے اختیار کئے گئے۔ لیکن اقتدار کے غرور کے آگے نہ تو کبھی کانگریس جھکی ہے اور نہ ہی کبھی جھکے گی۔ ‘‘
کانگریس پلینری اجلاس کے دوران سیاست میں میڈیا کے کردار پرایک ’پینل ڈسکسن‘ کا انعقاد کیا گیا۔ اس مباحثہ کی نظامت سینئر صحافی کمار کیتکر نے کی۔ مباحثہ میں کانگریس آئی ٹی سیل کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا، سابق مرکزی وزیر کپل سبل، خاتون کانگریس کی سربراہ سشمتا دیو، ترجمان پرینکا چترویدی، سینئر صحافی مرنال پانڈے اور راجیو گوڈا نے حصہ لیا۔
2.00 بجے۔ ’سچ کی طاقت‘ کے عنوان پر مباحثہ
3.00 بجے۔ سونیا گاندھی کا خطاب۔
3.30 بجے۔ کیپٹن امریندر سنگھ زرعی قرارداد پیش کریں گے۔
6.00 بجے۔ ’مشترکہ مستقبل‘ پر مباحثہ۔
کانگریس کے پلینری اجلاس میں پیش کردہ سیاسی قرارداد کو صوتی ووٹوں سے منظور کر لیا گیا۔ سیاسی قرارداد کی تمام کانگریس ڈیلی گیٹس نے ایک ساتھ حمایت کی۔ جس کے بعد بغیر کسی ترمیم کے قرارداد کو منظور کیا گیا۔ ملکارجن کھڑگے نے پلینری اجلاس میں سیاسی قرارداد کو پیش کیا تھا۔ قرارداد میں الیکشن کمیشن سے اپیل کی گئی ہے کہ بیلیٹ پیپر سے انتخاب کرانے پر غور کیا جائے۔
کانگریس صدر راہل گاندھی نے پارٹی کے 84ویں پلینری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’آج ملک میں غصہ پھیلایا جارہا ہے۔ لوگوں کو بانٹنے کا کام کیا جا رہا ہے۔ اور ایک دوسرے سے لڑوایا جا رہا ہے۔ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ ملک کو جوڑنے کی بات کی ہے۔ ہاتھ کے نشان کی طاقت سے ہی ملک کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ پارٹی نئے طریقہ سے آگے بڑھے گی، نوجوان لوگ پارٹی کو چلائیں گے لیکن سینئر رہنماؤں کو ساتھ لے کر ہی پارٹی آگے بڑھے گے۔‘‘
کانگریس صدر راہل گاندھی نے مزید کہا ’’ملک کو صرف کانگریس ہی راستہ دکھا سکتی ہے۔ جب کسان، مزدور، غریب افراد مودی حکومت کی طرف دیکھتے ہیں تو انہیں راستہ نظر نہیں آتا۔ بی جے پی والے غصے کا استعمال کرتے ہیں، لیکن ہماری پارٹی پیار سے آگے بڑھ رہی ہے۔‘‘ راہل گاندھی نے کہا کہ یہ ملک ہر کسی کا ہے، ہر مذہب کا ہے۔
کانگریس کے پلینری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سچن پائلٹ نے کہا کہ ’’جنہوں نے کانگریس مکت بھارت کا نعرہ دیا تھا انہیں 2019 کے انتخابات میں عوام ہرانے جا رہے ہیں۔‘‘
ملکارجن کھڑے نے سیاسی قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا ’’وزیر اعظم مودی پوچھتے ہیں کہ کانگریس نے 70 سالوں میں کیا کیا! ہم انہیں بتا دینا چاہتے ہیں کہ کانگریس کی سرکاروں نے ملک کی ترقی کا کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آج اناج کے گودام ہیں، اسرو ہے، کمپیوٹر ہے، یہ سب کانگریس کے دور حکومت میں ہوا۔‘‘
انہوں نے کہا جو لوگ اندھے ہیں انہیں ترقی نظر نہیں آئے گی۔ صرف چائے والا ہونے سے کچھ نہیں ہوتا، ملک کے لئے کچھ کرنا بھی پڑتا ہے۔ آج ملک میں ہر کوئی پریشان ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ گزشتہ کافی وقت سے میں منتخب ہو رہا ہوں کیوں کہ کانگریس پارٹی میرا ساتھ دیتی ہے۔ اگر کانگریس کو کوئی ہرا سکتا ہے تو وہ صرف کانگریس ہی ہرا سکتی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ کبھی کبھی ہماری پارٹی کے اندر ہی الگ لوگ موجود ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کو ہرانے کی کوشش کرتے ہیں، وزیر اعلیٰ بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ یا پھر وزیر بننے کی سوچتے ہیں۔ ہمیں یہ سب چھوڑ کر آگے بڑھنا ہوگا۔
ملکارجن کھڑگے نے مزید کہا ’’یو پی کے وزیر اعلیٰ کرناٹک میں تشہیر کر رہے ہیں، لیکن ان سے اپنا گھر نہیں سنبھل رہا۔ کانگریس پارٹی کرناٹک میں حکومت بنائے گی۔ جس طرح بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ گھر گھر جاکر تشہیر کرتے ہیں اسی طرح ہمیں بھی کرنا ہوگا۔‘‘
کانگریس کے پلینری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ آج ملک میں غصہ پھیلایا جارہا ہے۔ لوگوں کو بانٹنے کا کام کیا جا رہا ہے۔ اور ایک دوسرے سے لڑوایا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا ’’کانگریس پارٹی نے ہمیشہ ملک کو جوڑنے کی بات کی ہے۔ ہاتھ کے نشان کی طاقت سے ہی ملک کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا ’’پارٹی نئے طریقہ سے آگے بڑھے گی، نوجوان لوگ پارٹی کو چلائیں گے لیکن سینئر رہنماؤں کو ساتھ لے کر ہی پارٹی آگے بڑھے گے۔
کانگریس صدر راہل گاندھی نے کہا ’’ملک کو صرف کانگریس ہی راستہ دکھا سکتی ہے۔ جب کسان، مزدور، غریب افراد مودی حکومت کی طرف دیکھتے ہیں تو انہیں راستہ نظر نہیں آتا۔ بی جے پی والے غصے کا استعمال کرتے ہیں، لیکن ہماری پارٹی پیار سے آگے بڑھ رہی ہے۔‘‘ راہل گاندھی نے کہا کہ یہ ملک ہر کسی کا ہے، ہر مذہب کا ہے۔
متعدد بیرونی سیاسی رہنما بھی کانگریس کے پلینری اجلاس میں شرکت کے لئے پہنچے ہیں۔
افریقہ: افریقن کانگریس پارٹی
نیپال: نیپالی کانگریس پارٹی اور کمیونسٹ پارٹی
فلسطین: سیاسی نمائندگان
موزامک: سیاسی نماندگان
بنگلہ دیش: عوامی لیگ، وزیر اعظم بنگلہ دیش نے اپنا پیغام بھیجا ہے۔
دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اجے ماکن نے افتتاحی تقریر پیش کی۔ انہوں نے کہا ’’کانگریس کو خود کے سوا کوئی ہرا نہیں سکتا اس لئے ہمیں اپنے آپسی اختلافات اور انا کو دور کر کے مخالفین سے متحد ہو کر لڑنا ہوگا۔‘‘
کانگریس صدر راہل گاندھی، سابق صدر سونیا گاندھی اور سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اجلاس میں پہنچ چکے ہیں۔
کانگریس کے پلینری اجلاس میں واضح تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ سشمتا، ملند، سرجے والا، نصیب سنگھ، ماکن، نتن پرساد، دپیندر ہڈا اور راگنی سمیت دیگر نوجوان رہنما توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
کانگریس کے پلینری اجلاس کے دوران چار کتابچے جاری کئے گئے ہیں۔
کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے ٹوئٹر پر لکھا ’’ڈیلی گیٹس اور مہمانان کا کانگریس پلینری میں استقبال ہے۔ اگلے دو دنوں میں ہم خیالات اور تجربات کا اشتراک کریں گے تاکہ کانگریس کو مزید مضبوط اور فعال بنایا جا سکے۔‘‘
دریں اثنا راہل گاندھی کا ٹوئٹر ہینڈل تبدیل ہو گیا ہے۔ پہلے ان کا ٹوئٹر ہینڈل @OfficeOfRG تھا جو اب @RahulGandhi ہو گیا ہے۔
کانگریس پلینری اجلاس کے مقام پر کانگریس کے بڑے رہنماؤں کے پہنچے کا سلسلہ جاری ہے۔ ابھی تک یہ رہنما پہنچ چکے ہیں:
تمام تصاویر: قومی آواز
کانگریس پلینری اجلاس کا آج دوسرا دن ہے۔ گزشتہ روز کانسٹی ٹیوشن کلب میں اسٹیرنگ کمیٹی کی میٹنگ منعقد ہوئی اور 4 قرارداد پیش کی گئیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 17 Mar 2018, 8:50 AM IST