
ویڈیو گریب
نئی دہلی: آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے خزانچی اور رکن پارلیمنٹ اجے ماکن اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن و چیئرمین قانون، انسانی حقوق اور آر ٹی آئی شعبہ ڈاکٹر ابھیشیک سنگھوی نے مشترکہ پریس بریفنگ میں پارٹی کے قانونی محاذ کو مضبوط بنانے اور حق اطلاعات قانون کے تحفظ کے لیے چار اہم پروگراموں کا اعلان کیا۔ رہنماؤں نے کہا کہ موجودہ حالات میں شفافیت، آئینی اقدار اور اختلافِ رائے کے حق کا دفاع ناگزیر ہو چکا ہے۔
Published: undefined
ڈاکٹر سنگھوی نے کہا کہ آر ٹی آئی قانون 2005 ایک تاریخی قدم تھا جس نے شہریوں کو عوامی اداروں سے جواب طلبی کا اختیار دیا، مگر وقت کے ساتھ اس قانون کو بتدریج کمزور کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس اس قانون کی اصل روح کی بحالی کے لیے منظم اور قومی سطح کی کوشش شروع کر رہی ہے۔
اس سلسلے میں پہلا پروگرام ’آئی این سی لیگل فیلوز پروگرام‘ کے نام سے متعارف کرایا گیا ہے۔ یہ تین ماہ پر مشتمل پروگرام ہوگا جس کے تحت دس نوجوان وکلا کو منتخب کر کے انہیں پارلیمانی سرگرمیوں میں براہِ راست شامل ہونے کا موقع دیا جائے گا۔ منتخب فیلوز اراکینِ پارلیمنٹ کے ساتھ روزمرہ کے کام میں معاونت کریں گے تاکہ نئی نسل کو حزبِ اختلاف کے کردار اور قانون سازی کے عمل کی عملی سمجھ حاصل ہو سکے۔
Published: undefined
دوسرا اقدام قانون، انسانی حقوق اور آر ٹی آئی شعبہ کی پوڈکاسٹ سیریز ’نیایہ نیتا اور ناگرک‘ ہے۔ اس سیریز میں سینئر وکلا، ماہرینِ قانون اور نوجوان وکلا کو مختلف سماجی اور آئینی موضوعات پر اظہارِ خیال کا موقع دیا جائے گا۔ ڈاکٹر سنگھوی نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں کم از کم دس اقساط پیش کی جائیں گی اور پہلی قسط جلد جاری کی جائے گی۔ ان کے مطابق اس پلیٹ فارم کا مقصد آئینی مکالمے کو فروغ دینا اور شہریوں کو مرکزِ نگاہ بنانا ہے۔
تیسرا پروگرام ’ریپڈ رسپانس فورس‘ کے قیام سے متعلق ہے۔ اس منصوبے کے تحت ہر ضلع میں کم از کم پانچ وکلا کی دستیابی یقینی بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے، تاکہ پارٹی کے کسی بھی رہنما کو ضرورت پڑنے پر فوری قانونی مدد فراہم کی جا سکے۔ اس مقصد کے لیے مختلف ریاستوں سے موصولہ ناموں پر مشتمل ایک ڈیجیٹل ڈائریکٹری تیار کی جا رہی ہے اور ذمہ داریاں مرحلہ وار سونپی جائیں گی۔
Published: undefined
چوتھا اہم اعلان آر ٹی آئی قانون کی بحالی کے لیے قومی کنکلیو کے انعقاد سے متعلق ہے۔ اس کنکلیو میں سابق انفارمیشن کمشنرز، ماہرینِ قانون، سول سوسائٹی نمائندگان، صحافیوں اور پالیسی ماہرین کو مدعو کیا جائے گا۔ اجلاس میں موجودہ قانونی و انتظامی خامیوں کا جائزہ لے کر ٹھوس سفارشات تیار کی جائیں گی۔ اس عمل کے اختتام پر ایک جامع رپورٹ جاری کی جائے گی جسے عوام، قانون سازوں اور متعلقہ فریقین کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔
رہنماؤں نے کہا کہ یہ اقدامات نوجوان قانونی ذہنوں کو آگے لانے، زمینی سطح پر قانونی تحفظ کو مضبوط بنانے اور جمہوری اداروں کے استحکام کی سمت ایک سنجیدہ پیش رفت ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined