نفرت کے مقابل روشن چراغ، عوامی مزاحمت کی نئی داستان...نندلال شرما

کوٹدوار سے متھرا، الہ آباد، جے پور اور وارانسی تک عوام نفرت انگیز سیاست کے خلاف کھڑے ہو رہے ہیں۔ جان محمد کی بحالی اور دیگر واقعات نے ثابت کیا کہ اجتماعی مزاحمت فیصلے بدل سکتی ہے

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>
i
user

نندلال شرما

کوٹدوار میں جم چلانے والے دیپک کمار ایک مسلم دکاندار کو دھمکانے آئے بجرنگ دل کے لوگوں کے سامنے جس طرح ‘محمد’ دیپک بن کر ڈٹ گئے اور اب بھی جھکنے کو تیار نہیں ہیں، اور جس طرح لوگ ان کی حمایت میں مسلسل سامنے آ رہے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے ملک کی مختلف ریاستوں میں نفرت کی سیاست سے اکتا چکے لوگوں کو تحریک دی ہے۔

اتر پردیش میں متھرا ضلع کے نوہجھیل پرائمری اسکول کے ہیڈ ماسٹر جان محمد کا معاملہ ہی لے لیجیے۔ انہیں ایک مقامی بی جے پی رہنما کی ایک جھوٹی شکایت کی بنیاد پر بغیر کسی جانچ پڑتال کے معطل کر دیا گیا۔ اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں تھی کیونکہ یوپی کی یہی شناخت بن چکی ہے۔ نئی بات یہ ہوئی کہ علاقے کے لوگ اس کے خلاف کھڑے ہو گئے اور انتظامیہ کو اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور کر دیا۔

یہ اسکول جس گرام پنچایت میں واقع ہے وہاں کی آبادی تقریباً 20 ہزار ہے۔ یہ ہندو اکثریتی علاقہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود علاقے کے لوگوں نے استاد جان محمد کا کھل کر ساتھ دیا۔ علاقے کے تین سے چار سو لوگ ضلع مجسٹریٹ سے ملنے گئے۔ یاد رہے کہ اس اسکول میں جان محمد کے علاوہ باقی ساتوں اساتذہ ہندو ہیں۔ ان میں دو ‘شکشا متر’ بھی شامل ہیں۔

مانٹ اسمبلی حلقے سے آٹھ مرتبہ کے سابق رکن اسمبلی شیام سندر شرما کہتے ہیں کہ جان محمد نے 12 برس تک نیم فوجی دستے میں خدمات انجام دیں۔ وہ 17 برس سے یہاں تعینات ہیں اور ان کے نظم و ضبط کی وجہ سے طلبہ ان کا احترام کرتے ہیں، اساتذہ بھی ان سے محبت رکھتے ہیں۔ اس لیے ان کی اچانک معطلی نے سب کو حیران کر دیا۔


درحقیقت، انہیں پارٹی کے باجنا منڈل صدر اور نوشیرپور باشندہ درگیش پردھان کی شکایت کی بنیاد پر معطل کیا گیا تھا۔ شکایت میں کہا گیا تھا کہ جان محمد بچوں کو بہلا پھسلا کر اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں، اسے اپنانے کے لیے آمادہ کرتے ہیں، ان کا برین واش کر کے نماز پڑھواتے ہیں، اور ہندو دیوی دیوتاؤں کی توہین کرتے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ جان محمد صبح سویرے اسکول میں قومی ترانہ ‘جن گن من’ نہیں پڑھواتے اور اگر بچے پڑھنے لگیں تو انہیں ڈانٹتے ہیں۔ مزید یہ کہ اسکول میں دور دور سے مسلم تبلیغی آتے ہیں اور وہ بھی بچوں اور ان کے اہل خانہ پر اسلام قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں۔

اسی شکایت کی بنیاد پر 31 جنوری 2026 کو ضلع بنیادی تعلیم افسر رتن کیرتی نے بغیر کسی جانچ کے 24 گھنٹوں کے اندر جان محمد کو معطل کر دیا۔ ساتھ ہی معاملے کی جانچ کے لیے دو رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی اور اسے ایک ماہ کا وقت دیا گیا۔ کمیٹی میں کھنڈ شکشا افسر چھاتا اور مانٹ شامل تھے۔

لوگ اس کے خلاف احتجاج پر اتر آئے اور ضلع مجسٹریٹ سے ملے۔ سابق رکن اسمبلی شیام سندر شرما نے انتظامیہ کو یہ بھی بتایا کہ جاری ایس آئی آر (خصوصی گہن نظر ثانی) کے دوران جان محمد بی ایل او تھے۔ بی جے پی رکن اسمبلی راجیش چودھری نے جان محمد کو ووٹروں کی ایک فہرست دی اور ان کے نام حذف کرنے کو کہا۔ مگر انہوں نے بغیر مناسب وجہ کسی بھی ووٹر کا نام کاٹنے سے انکار کر دیا۔ اس پر رکن اسمبلی چودھری نے انہیں دیکھ لینے کی دھمکی دی۔ اس پر جان محمد کا کہنا تھا کہ “ادھر سے بھی مرنا ہے، اُدھر سے بھی مرنا ہے، تو کیوں نہ کچھ اچھا کر کے مریں۔” رکن اسمبلی کی اس دھمکی کے بعد ہی پارٹی کے مقامی رہنما درگیش پردھان نے ان کے خلاف جھوٹی شکایت کی۔

عوامی تحریک کا اثر یہ ہوا کہ انتظامیہ نے معطلی کے تین دن بعد ہی 3 فروری کو نیا حکم جاری کرتے ہوئے جانچ کمیٹی کو تین دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کو کہا۔ اس کے بعد 6 فروری کو انتظامیہ نے ایک اور حکم جاری کیا جس میں کہا گیا کہ جانچ میں جان محمد پر عائد کوئی بھی الزام درست نہیں پایا گیا، اس لیے انہیں مع تنخواہ بحال کیا جاتا ہے۔


جان محمد اب بھی میڈیا سے بات نہیں کرنا چاہتے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے نام پر سیاست نہ کی جائے، وہ اپنی لڑائی خود لڑ لیں گے۔ تاہم مقامی باشندہ دیودت پاٹھک کہتے ہیں کہ اگر عوام جان محمد کے ساتھ کھڑی نہ ہوتی تو ان کی بحالی ممکن نہ تھی، انتظامیہ کو عوام کی طاقت کے سامنے جھکنا پڑا۔

پاٹھک اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ مقررہ طریقہ کار اختیار کیے بغیر، یعنی اپنے طور پر ابتدائی جانچ کیے بغیر، جان محمد کو معطل کرنے والے ضلع بنیادی تعلیم افسر رتن کیرتی کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ جھوٹی شکایت کرنے والے مقامی بی جے پی رہنما درگیش پردھان کے خلاف تو خیر کیا ہی کارروائی ہونی ہے، اس معاملے پر بی جے پی رکن اسمبلی راجیش چودھری نے افسوس تک ظاہر کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ‘کہو نریندر مزہ آ رہا’ گانا آپ نے سنا ہوگا۔ اسے الہ آباد یونیورسٹی کے طلبہ تنظیم ‘دِشا’ سے وابستہ پریانشو نے گایا ہے۔ دِشا کیمپس میں ثقافتی طور پر سرگرم ہے اور فلم شو، اسٹڈی سرکل، مباحثہ اور گیتوں کے ذریعے نوجوانوں کے مسائل کو آواز دے رہی ہے۔

یو جی سی ریگولیشن کے معاملے میں سپریم کورٹ کی جانب سے اسٹے دیے جانے کے بعد دِشا سے وابستہ طلبہ نے 3 فروری کو کیمپس کے برگد لان میں ایک مذاکرے کا اہتمام کیا۔ جب گفتگو جاری تھی، اسی دوران 30-40 شرپسند عناصر ان طلبہ کے ارد گرد جمع ہونے لگے۔ اسی وقت یونیورسٹی کے مرکزی دروازے سے بغیر نمبر کی ایک گاڑی اندر آئی، جس پر بجرنگ دل لکھا تھا۔ اس میں سوار افراد نے پہلے چندرپرکاش نامی طالب علم کو باہر بلایا اور اس کا کالر پکڑ کر مارپیٹ شروع کر دی۔ اس پر بعض طلبہ نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی مگر وہ لوگ گالی گلوچ کرتے ہوئے ذات پر مبنی گالیاں دینے لگے۔ الزام ہے کہ طالبات کے ساتھ بھی بدتمیزی کی گئی۔ ان سب کے درمیان یونیورسٹی انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی جبکہ آس پاس سیکیورٹی گارڈ بھی موجود تھے۔


طلبہ اس امکان سے انکار نہیں کرتے کہ ‘کہو نریندر مزہ آ رہا’ گیت کے وائرل ہونے کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا ہو؛ ممکن ہے یہ بھی ایک سبب ہو۔ یونیورسٹی کے ہی طالب علم پریانشو کہتے ہیں کہ ہم نے مقامی تھانے میں ایف آئی آر درج کرانے کے لیے تحریری شکایت دی ہے، لیکن انچارج کا کہنا ہے کہ جب تک یونیورسٹی سے رپورٹ نہیں آئے گی، مقدمہ درج نہیں کیا جائے گا۔ دوسری طرف یونیورسٹی انتظامیہ نے ندھی اور بھاویش دوبے نامی طلبہ کو معطل کر دیا ہے اور ساتھ ہی اخراج کا ‘وجہ بتاؤ’ نوٹس بھی جاری کیا ہے۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں داخلے سے پہلے شناختی کارڈ دکھانا تقریباً لازمی ہے۔ ایسے میں ایک مخصوص تنظیم کی چار پہیہ گاڑی کا بلا روک ٹوک کیمپس میں داخل ہونا حیرت انگیز ہے۔ جب واقعہ ہو رہا تھا تب تک پروکٹر وہاں پہنچ چکے تھے، مگر انہوں نے ان شرپسند عناصر کو وہاں سے بھاگنے کا موقع دیا اور متاثرہ طلبہ کو اپنے دفتر لے گئے۔

14 فروری، ویلنٹائن ڈے، کو جے پور سے ایک ویڈیو سامنے آیا۔ اس ویڈیو میں کچھ نوجوان گلے میں زعفرانی پٹکا ڈالے اور ہاتھوں میں ڈنڈا لیے پارک میں گھومتے نظر آئے۔ وہ پارک میں بیٹھے نوجوان لڑکے لڑکیوں سے ان کا مذہب اور آپسی تعلق پوچھتے اور انہیں دھمکاتے ہیں۔ اسی دوران پارک میں موجود کچھ نوجوان انہیں گھیر لیتے ہیں اور ان سے شناختی کارڈ دکھانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پوچھتے ہیں: “کیا تم پولیس والے ہو؟ یا کس تنظیم سے ہو؟ تمہارا لیڈر کون ہے؟” جواب میں وہ صرف یہ کہتے ہیں: “یہ پٹکا دیکھو، ہم بجرنگ دل سے ہیں۔” لیکن پارک میں موجود لوگوں کے سوالوں کے دباؤ کے باعث انہیں الٹے پاؤں واپس جانا پڑا۔

ایسا ہی ایک ویڈیو وارانسی سے بھی سامنے آیا جہاں پولیس اور انتظامیہ کا عام سا رویہ فرقہ وارانہ عناصر کی حوصلہ افزائی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن ان کے طرز عمل سے اکتا چکے لوگ یہاں بھی سامنے آ رہے ہیں۔ وارانسی وزیر اعظم نریندر مودی کا پارلیمانی حلقہ ہے۔ یہاں 60 سال پرانی بکرامنڈی ہے۔ مقامی گوشت یونین کے قانونی مشیر عبداللہ بتاتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے افواہ پھیلا دی کہ منڈی میں گؤ کشی ہو رہی ہے۔ جانچ کے نام پر کچھ لوگ دکانداروں کے لائسنس چیک کرنے پہنچ گئے۔ یہ دو درجن افراد خود کو افسر بتا رہے تھے۔ مقامی باشندہ عادل خان کہتے ہیں کہ منڈی سے ہزاروں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ افواہ پھیلا کر لوگوں کی روزی روٹی کے خلاف سازش کی جا رہی ہے۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ یہاں بھی کچھ لوگ احتجاج میں کھڑے ہوئے اور ان ‘افسروں’ کو واپس جانے پر مجبور کر دیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔