’20 سال پرانا معاملہ نکال کر ذلیل کر رہے ہیں‘، شنکراچاریہ کے خلاف ایف آئی آر کرنے پر اکھلیش یادو برہم
اکھلیش یادو نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’اگر شکایت کنندہ کسی دوسرے ’سَنت‘ کے شاگرد ہیں، تو مجھ سے غلطی ہوئی کہ میں نے ماضی میں ان کے خلاف درج ایک مقدمہ واپس لیا تھا۔‘‘

سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اور اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے جیوتیرمتھ کے شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی کے خلاف درج ایف آئی آر کو لے کر ریاستی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت 20 سال پرانے معاملے کو نکال کر شنکراچاریہ کو ذلیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سماجوادی پارٹی کے دفتر میں اتوار (22 فروری) کو منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے یہ باتیں کہیں۔ اکھلیش یا دو نے کہا کہ نظریاتی اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن اس حد تک جا کر الزام لگوانا مناسب نہیں ہے۔
اکھلیش یادو نے کہا کہ اگر شکایت کنندہ کسی دوسرے ’سَنت‘ کے شاگرد ہیں، تو مجھ سے غلطی ہوئی کہ میں نے ماضی میں ان کے خلاف درج ایک مقدمہ واپس لیا تھا۔ مجھے اسے واپس نہیں لینا چاہیے تھا۔ دراصل یوپی پولیس نے شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشور آنند سرسوتی، ان کے شاگرد سوامی مکوند آنند برہمچاری اور کچھ نامعلوم افراد کے خلاف بچوں کے جنسی استحصال کے الزامات میں ایف آئی آر درج کی ہے۔ یہ کارروائی عدالت کی ہدایت کے بعد کی گئی ہے۔
اکھلیش یادو نے الزام عائد کیا کہ یہ پہلی بار ہوا ہے جب کسی شنکراچاریہ کو ماگھ میلے میں گنگا اسنان سے روکا گیا۔ اکھلیش یادو کے مطابق شنکراچاریہ شدید سردی کے دوران کئی دنوں تک دھرنے پر بیٹھے رہے اور حکومت نے ان کے ساتھ شایان شان سلوک نہیں کیا۔ یہ پورا واقعہ سیاسی بدنیتی پر مبنی معلوم ہوتا ہے اور حکومت اب عوام میں اپنی ساکھ کھو چکی ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ نے بی جے پی پر انتخاب سے قبل ریاست کا ماحول خراب کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں مندر میں گوشت پھینکنے جیسے واقعات کی تحقیقات میں بی جے پی کارکنوں کا ملوث ہونا سامنے آیا تھا اور انہیں جیل بھی جانا پڑا تھا۔ اکھلیش یادو کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر فرضی اور ایڈیٹڈ ویڈیو نشر کر کے معاشرے میں تناؤ پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے عوام سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی۔ ساتھ ہی انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی حکومت نے گومتی اور ہنڈن ندیوں کی صفائی کے لیے منصوبے شروع کیے تھے، لیکن موجودہ حکومت ترقیاتی کاموں کو آگے نہیں بڑھا رہی۔
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے مجوزہ دورہ جاپان پر طنز کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ ’’جاپان جا رہے ہیں، لیکن کیوٹو نہیں جا رہے‘‘۔ اکھلیش یادو نے مہابھارت کے کردار ’کرن‘ کا ذکر کرتے ہوئے سماجی انصاف کے معاملے پر بھی تبصرہ کیا اور حکومت کی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ سماجوادی پارٹی کے صدر نے کہا کہ عوام نے موجودہ حکومت کو دل سے مسترد کر دیا ہے اور اب صرف ووٹنگ کا انتظار ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔