
فائل تصویر آئی اے این ایس
اتر پردیش میں سنبھل تشدد کیس میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (سی جے ایم) وبھانشو سدھیر، جنہوں نے اے ایس پی انوج چودھری اور انسپکٹر انوج تومر کے ساتھ 15 سے 20 دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا، کو سنبھل سے سلطان پور منتقل کر دیا گیا ہے۔
Published: undefined
درحقیقت، سی جے ایم وبھانشو سدھیر نے سنبھل تشدد کے دوران زخمی ہونے والے نوجوان عالم کے والد کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ایک اہم حکم جاری کیا تھا۔ انہوں نے اے ایس پی انوج چودھری، انسپکٹر انوج تومر اور دیگر 15 سے 20 پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دی تھی۔ سنبھل تشدد کیس میں پولیس کے رول کے سلسلے میں عدالت کے اس حکم کو اہم سمجھا جاتا تھا۔
Published: undefined
اس حکم سے ضلع میں بے چینی پھیل گئی۔ شائع خبر کے مطابق سنبھل ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کرشن کمار بشنوئی نے عدالت کے حکم پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اس حکم کے تحت مقدمہ درج نہیں کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ عدالت کے حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا اور اپیل دائر کی جائے گی۔
Published: undefined
اب سی جے ایم وبھانشو سدھیر کے ٹرانسفر کے ساتھ ہی پورے معاملے میں نیا موڑ آ گیا ہے۔ ان کے تبادلے کے حوالے سے طرح طرح کے چرچا شروع ہو گئی ہے ۔ جہاں انتظامی سطح اسے معمول کی منتقلی کا عمل قرار دے رہی ہے، وہیں وقت اور حالات کے پیش نظر اس فیصلے پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے۔
Published: undefined
سنبھل تشدد کا معاملہ، جو پہلے سے ہی حساس تھا، عدالت کے حکم اور پولس انتظامیہ کے ردعمل کے بعد اور بڑھ گیا ہے۔ اب سب کی نظریں عدالتی حکم کے خلاف دائر اپیل پر پولیس کی جانب سے کی جانے والی آئندہ کی کارروائی اور زخمی نوجوان کے اہل خانہ کے لیے انصاف کے عمل کے اگلے قدم پر لگی ہوئی ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined