ایران اور اسرائیل-امریکہ جنگ کے درمیان پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر اور سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان کی ملاقات

سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں بتایا کہ ’’پاکستان کے ساتھ سیکورٹی معاہدے کے فریم ورک کے تحت ایرانی حملوں کو روکنے کے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان اور&nbsp;پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر، تصویر بشکریہ&nbsp;@kbsalsaud</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ایران اور اسرائیل-امریکہ جنگ کے درمیان سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان اور پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات ہوئی ہے۔ اس دوران امریکہ-اسرائیل کے حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک پر ہو رہے ایرانی حملوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ واضح رہے کہ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں کے بعد تہران نے جوابی کارروائی میں اسرائیل اور کئی خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

خلیجی ممالک مسلسل ایرانی حملوں کا سامنا کر رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کا ایئر ڈفینس اسٹاک خالی ہو رہا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ سعودی عرب نے اس ہفتے کی شروعات میں کہا تھا کہ ملک کے مشرقی حصے میں راس تنورا ریفائنری کو نشانہ بنا کر کم از کم 2 ڈرون حملے کیے گئے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ’ناٹو‘ جیسا سیکورٹی معاہدہ ہے۔ خالد بن سلمان نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں بتایا کہ ’’پاکستان کے ساتھ اس معاہدہ کے فریم ورک کے تحت ایرانی حملوں کو روکنے کے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔‘‘


سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر سے خلیجی ممالک پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں اور انہیں روکنے کے لیے ضروری اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ ہفتہ (7 مارچ) کو بھی سعودی عرب نے ایک بیلسٹک میزائل کو ’انٹرسیپٹ‘ (فضا میں ہی ناکام) کیا تھا، جسے پرنس سلطان ایئر بیس کی جانب لانچ کیا گیا تھا۔ یہ ایئر بیس راجدھانی ریاض کے جنوب مشرق میں واقع ہے اور یہاں امریکی فوجی رہتے ہیں۔

سعودی وزیر دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ہم نے مملکت پر ہونے والے ایرانی حملوں اور اپنے مشترکہ اسٹریٹجک ڈیفنس ایگریمنٹ کے فریم ورک کے تحت انہیں روکنے کے لیے ضروری اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ ہم نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کی کارروائیاں علاقائی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتی ہیں، اور امید ظاہر کی کہ ایرانی فریق دانشمندی سے کام لے گا اور غلط اندازوں سے گریز کرے گا۔‘‘


سعودی عرب اور پاکستان کے مشترکہ بیان کے مطابق گزشتہ سال ستمبر میں دستخط کیا گیا یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی شراکت داری، مشترکہ اسٹریٹجک مفادات اور قریبی دفاعی تعاون پر مبنی ہے۔ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ایک ملک پر حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے طویل عرصے سے پاکستان کے ساتھ مضبوط معاشی، مذہبی اور سیکورٹی تعلقات برقرار رکھے ہیں، جس میں اسلام آباد کے ایٹمی پروگرام کی ترقی کے دوران مالی معاونت فراہم کرنا بھی شامل ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔