قومی خبریں

’الیکشن کمشنروں کی تقرری میں سی جے آئی کا ہونا ضروری نہیں‘، سپریم کورٹ میں حکومت کی جانب سے حلف نامہ داخل

سپریم کورٹ نے اپنے 2023 کے فیصلے میں سلیکشن پینل میں سی جے آئی کو شامل کرنے کا حکم دیا تھا۔ بعد ازاں پارلیمنٹ نے قانون بناکر سی جے آئی کی جگہ مرکزی وزیر کو پینل میں شامل کرلیا۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا

 

مرکزی حکومت نے الیکشن کمشنروں کی تقرری کے عمل سے متعلق سپریم کورٹ کے سامنے ایک جوابی حلف نامہ داخل کیا، جس میں واضح کیا کہ ای سی آئی سلیکشن کمیٹی میں چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) یا کسی عدالتی جج کو شامل کرنے کی کوئی ضرورت آئین میں نہیں دی گئی ہے۔

Published: undefined

مرکزی حکومت کے مطابق آئین کے آرٹیکل 324 (2) کے تحت الیکشن کمیشن کے اراکین کا تقرر پارلیمنٹ کے ذریعہ بنائے گئے قانون کے تحت صدر کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ اس آئینی شق کی بنیاد پر حکومت نے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز ایکٹ، 2023 کے جواز کا دفاع کیا ہے۔ اس نئے قانون کو چیلنج کرنے والی درخواستیں فی الحال عدالت میں زیر التوا ہیں، جن میں سلیکشن پینل کی آزادی اور شفافیت پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔

Published: undefined

مرکزی حکومت نے اپنے حلف نامے میں دلیل دی ہے کہ بنیادی طور سے آئین میں سلیکشن کمیٹی کا کوئی خاص ڈھانچہ مقرر نہیں کیا گیا تھا اور اسے پارلیمنٹ کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ تقریباً 75 سال تک ملک میں حکومتی سطح پر ہی یہ تقرریاں ہوتی رہیں۔ اس کے بعد 2023 میں ایک نیا قانون بنا کرایک باقاعدہ سلیکشن کمیٹی قائم کی گئی۔ اس موجودہ کمیٹی میں وزیر اعظم، ایک مرکزی کابینی وزیر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر شامل ہوتے ہیں۔

Published: undefined

عدالتی شرکت کے معاملے پر اپنے موقف کو سخت کرتے ہوئے حکومت نے کہا کہ کمیشن کی آزادی ججوں کی موجودگی سے طے نہیں ہوتی بلکہ اراکین کی کارکردگی پر منحصر ہوتا ہے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے اپنے 2023 کے فیصلے میں سلیکشن پینل میں چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کو شامل کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد پارلیمنٹ نے نیا قانون بناکر سی جے آئی کی جگہ مرکزی وزیر کو پینل میں شامل کرلیا۔ جسے اب عدالتی چیلنج کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined