طلبا کی علامتی تصویر
سنٹرلبورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کے طلبا کے لیے ایک راحت بھری خبر سامنے آئی ہے۔ وزارت تعلیم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ فی الحال درجہ 7، 8 اور 9 میں زیر تعلیم وہ طلبا، جنہوں نے 3 زبانوں کی پالیسی کے تحت 2 غیر ملکی زبانوں کا انتخاب کیا ہے، وہ درجہ 10 تک انہی زبانوں کے امتزاج کے ساتھ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں گے۔ انہیں درمیان میں اپنے مضامین تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
Published: undefined
ذرائع نے بتایا کہ 3 زبانوں کی پالیسی کے تحت کم از کم 2 ہندوستانی زبانیں پڑھنے کی لازمی شرط صرف آئندہ آنے والے طلبا پر نافذ ہوگی۔ یہ نظام درجہ 6 سے مستقبل کے بیچوں کے لیے نافذ کیا جائے گا۔ جو طلبا پہلے سے درجہ 7، 8 اور 9 میں زیر تعلیم ہیں، ان پر اسے سابقہ تاریخ سے نافذ نہیں کیا جائے گا۔ وزارت تعلیم کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ یہ فیصلہ کسی بھی طرح پالیسی میں تبدیلی یا پیچھے ہٹنا نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ التزام پہلے سے موجود تھا، لیکن اسے واضح طور پر بیان نہیں کیا گیا تھا۔ اب طلبا اور والدین کے درمیان پائے جانے والے ابہام کو دور کرنے کے لیے صورت حال کو واضح کیا گیا ہے۔
Published: undefined
وزارت کے مطابق ہر سال تقریباً 24 لاکھ طلبا سی بی ایس ای کی دسویں جماعت کے بورڈ امتحان میں شرکت کرتے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 30 ہزار طلبا ہی 2 غیر ملکی زبانوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ یعنی تقریباً 98.5 فیصد طلبہ پہلے ہی 3 زبانوں کے فارمولے پر عمل کر رہے ہیں۔ یہ راحت بنیادی طور پر میٹرو شہروں اور شہری علاقوں کے اُن طلبا کے لیے دی گئی ہے جنہوں نے پہلے سے 2 غیر ملکی زبانوں کا انتخاب کر رکھا تھا۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ مئی 2026 میں سی بی ایس ای نے قومی نصابی خاکہ (این سی ایف) کے تحت ایک سرکلر جاری کیا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ 27-2026 کے تعلیمی سیشن سے درجہ 9 میں داخلہ لینے والے طلبا کو 3 زبانیں پڑھنی ہوں گی، جن میں کم از کم 2 ہندوستانی زبانیں شامل ہوں۔ اس فیصلہ کے بعد کئی طلبا اور والدین نے اعتراض ظاہر کیا تھا اور معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا تھا۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے اس پالیسی کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر عبوری روک لگانے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت نے ان عرضیوں کو پہلے سے زیر سماعت اسی نوعیت کے دیگر مقدمات کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت دی تھی۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined