
اتراکھنڈ کے مشہور انکیتا بھنڈاری قتل کیس کی تحقیقات اب سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کرے گی۔ مرکزی حکومت کی منظوری ملنے کے بعد ایجنسی نے کیس کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ اس سلسلے میں اب سی بی آئی ایک نئی ایف آئی آر درج کرے گی اور پورے واقعہ کی پھر سے تفصیلی جانچ کرے گی۔
Published: undefined
اس معاملے میں ریاست بھر میں ہوئے احتجاج کے بعد اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے 9 جنوری کو سی بی آئی جانچ کی کی سفارش کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت کو تجویز بھیجی جسے اب منظور کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سی بی آئی جلد ہی ریاستی پولیس سے کیس سے متعلق دستاویزات، شواہد اور تحقیقاتی رپورٹس اپنے قبضے میں لے گی۔ اس کے بعد گواہوں سے دوبارہ جرح کی جائے گی، تکنیکی شواہد کا جائزہ لیا جائے گا اور واقعات کی ترتیب میں نئی کڑیوں کو جوڑنے کاکام کیا جائے گا۔
Published: undefined
حکومت کا کہنا ہے کہ سی بی آئی تحقیقات سے معاملے میں شفافیت بڑھے گی اور متاثرہ فریق کو منصفانہ تحقیقات میں اعتماد ملے گا۔ وہیں اس فیصلے کے بعد معاملے میں مزید کارروائی اب سی بی آئی جانچ رپورٹ پر انحصار کرے گی۔ سرخیاں میں رہا اتراکھنڈ کے انکیتا بھنڈاری قتل کیس ایک بار پھر بحث میں آ گیا ہے۔ تقریباً 3 سال قبل رشی کیش کے نزدیک واقع ونتارا ریزورٹ میں ریشپسنسٹ کے طورپر کام کررہی انکیتا کے قتل سے ریاست بھر میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پھیل گیا تھا۔ انصاف کے لئے جگہ جگہ احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے۔ تقریباً ایک ماہ قبل ارمیلا سناور کی ایک نئی ویڈیو منظر عام پر آئی جس نے اس معاملے کو پھر سے سرخیوں میں لا دیا۔ ویڈیو میں مبینہ طور پر ایک ’وی آئی پی‘ کا حوالہ دیا گیا تھا اور کچھ بی جے پی رہنماؤں پر بھی سنگین الزامات لگائے گئے تھے۔
Published: undefined
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد انکیتا کی والدہ سونی دیوی نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ جس کے پاس بھی اس کیس سے متعلق ٹھوس ثبوت ہوں، انہیں براہ راست عدالت میں پیش کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کی ترجیح صرف اپنی بیٹی کو انصاف دلانا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ ضروری ہے کہ سچائی سامنے لائی جائے تاکہ مجرموں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جا سکے۔
Published: undefined
سونی دیوی نے اپنا درد بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی بیٹی پر ایک بااثر شخص کے دباؤ میں غلط کام کرنے کا دباؤ بنایاگیا تھا۔ جب اس نے انکار کیا تو اسے جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ ان کے بقول یہ معاملہ محض قتل کا نہیں ہے بلکہ خواتین کی عزت اور تحفظ کا مسئلہ ہے۔ عدلیہ پراعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غیر جانبدارانہ تحقیقات سے حقیقت سامنے آئے گی اور ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیے، خواہ ان کا اثر و رسوخ کچھ بھی ہو۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined