قومی خبریں

سپریم کورٹ کی نگرانی میں سی بی آئی کرے انکیتا بھنڈاری قتل کیس کی جانچ: ہریش راوت

کانگریس کے سینئرلیڈر نے کہا کہ جب تک وی آئی پی، شواہد مٹانے والے، ٹال کرنے والے پولیس افسران خواہ وہ کوئی بھی ہو، اس کا رنگ، شکل یا انداز کچھ بھی ہو، تب تک انصاف کی یہ لڑائی رُکنا نہیں چاہئے۔

ہریش راوت کی فائل تصویر
ہریش راوت کی فائل تصویر 

 مشہور انکیتا بھنڈاری قتل کیس پر کانگریس لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ ہریش راوت نے کہا کہ صدر جمہوریہ سے درخواست کی گئی ہے کہ سی بی آئی سپریم کورٹ کی نگرانی اور رہنمائی میں جانچ کرے۔ دہرادون میں ’آئی اے این ایس‘ سے بات کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ ہریش راوت نے کہا کہ اس واقعہ میں ملوث وی آئی پی کے خلاف نامزد ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے اور تباہ کئے گئے شواہد کی بھی مکمل چھان بین ہونی چاہیے۔

Published: undefined

سابق وزیر اعلیٰ نے ’ایکس‘ پوسٹ میں لکھا کہ انہوں نے انکیتا بھنڈاری کے لیے انصاف کے مطالبے کے لیے منعقدہ مہاپنچایت میں شرکت کر کے اپنی یکجہتی کا اظہار کیا اور مہاپنچایت میں انکیتا بھنڈاری کے والدین سے بھی ملاقات کی۔ اپنی بیٹی کو کھونے کے بے پناہ غم کے باوجود ان کا صبر اور حوصلہ متاثر کن ہے۔ انصاف کے ان کے مضبوط مطالبے نے پورے اتراکھنڈ کو متحد کر دیا ہے۔ ان کا درد ہر اتراکھنڈی کا مشترکہ درد ہے۔ انصاف کی اس لڑائی میں پورا اتراکھنڈ ان کے ساتھ کھڑا ہے۔

Published: undefined

ہریش راوت نے کہا کہ ایک بات جو میں یقینی طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ایک بار آپ کو اور ہم سب کو جاننا ہے کہ یہ لڑائی آج بدری ناتھ، کیدارناتھ، ہیم کنڈ صاحب، کلیئر جیسے تمام مقدس مقامات کی پکار کا نتیجہ ہے۔ یہ معاملہ پھر سے متعلقہ ہو گیا ہے، پورا اتراکھنڈ پھرسے اُٹھ کھڑا ہوا ہے اور پورا ہندوستان ہماری طرف دیکھ رہا ہے کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ ہم میں کبھی اُبال آتا ہے اور اُبال آنے کے بعد بھی پھر ٹھنڈے پڑجاتے ہیں، اب یہ لڑائی فیصلہ کن موڑ تک لے کر جانا چاہئے۔

Published: undefined

کانگریس کے سینئر لیڈر نے کہا کہ جب تک وی آئی پی، خواہ وہ کوئی بھی ہو، اس کا رنگ، شکل یا انداز کچھ بھی ہو، قانون کے شکنجے میں نہیں آتے ہیں، جب تک ثبوت ضائع کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا، جب تک وہ پولیس کے افسران قانون کے شکنجے میں نہیں آتے ہیں جنہوں نے اس معاملے میں ٹال مٹول کرنے کا کام کیا ہے، تب تک یہ لڑائی رُکنا نہیں چاہئے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined